اصل قانونی سوال عدالتی بحران کی نذر!


میں حیران ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلہ میں بیان کردہ اہم ترین نقطہ موجودہ بحث میں کہیں ہے ہی نہیں۔ ماہر قانون اور نامور وکلا کی بحث میں بھی کہیں نظر نہیں آ رہا کہ ایک معاملہ جس کے حوالے سے ایک صوبے کی ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے ایک فیصلہ سنایا جس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل اسی عدالت میں دائر ہوئی۔ اپیل میں عدالت کی طرف سے سنگل بینچ کے فیصلے کو معطل کرنے سے گریز کرتے ہوئے فریقین کو سماعت کے لیے طلب کیا۔

سنگل بینچ کے فیصلہ کی مبینہ خلاف ورزی کی وجہ سے توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی۔ جب ایک طرف لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں انتخابات کے معاملہ پر مذکورہ اپیل اور توہین عدالت کی درخواست زیر سماعت ہو اور دوسری طرف پشاور ہائیکورٹ میں کے پی کے میں انتخابات کے متعلق رٹ پٹیشن زیر سماعت ہو تو کیا ایسی صورت میں سپریم کورٹ کو 184 ( 3 ) کے تحت حاصل original jurisdiction کو بروئے کار لاتے ہوئے دونوں ہائی کورٹس میں جاری کارروائیوں کو یکسر نظر انداز کر کے اپنا فیصلہ صادر کرنا چاہیے۔

اصل قانونی سوال تو یہی ہے کہ کیا قانون، ضابطہ اور پاکستان اور دیگر ممالک کی اعلی عدالتوں کے فیصلوں میں طے شدہ اصول سپریم کورٹ کو اس قسم کا اختیار دیتے ہیں۔ یہ معاملات جب ہائیکورٹ سے فیصلہ ہو جاتے تو یقیناً آرٹیکل 185 کے تحت اپیل کی صورت میں سپریم کورٹ میں جا سکتے تھے اور اس صورت میں سپریم کورٹ اپنی appellate jurisdiction میں ہائیکورٹ کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کو جانچ سکتی تھی اور اپنا حتمی فیصلہ سنا سکتی تھی۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید آئین کا آرٹیکل 184 ( 3 ) جس کے حوالہ سے پارلیمنٹ نے حالیہ قانون سازی کی ہے شاید صرف سپریم کورٹ کے سو موٹو اختیارات سے متعلق ہے جبکہ اصل میں ایسا نہیں ہے۔ آئین کا آرٹیکل 184 ( 3 ) سپریم کورٹ کی original jurisdiction کے متعلق ہے، یعنی ایسے معاملات جو پہلے کسی بھی دیگر عدالت کی بجائے ڈائریکٹ سپریم کورٹ میں پٹیشن کے ذریعے سے داخل ہو سکیں یا پھر سپریم کورٹ جن کے متعلق سو موٹو ایکشن لے سکے۔ یہ ایک غیر معمولی اختیار ہے اور خود سپریم کورٹ طے کرچکی ہے کہ یہ اختیار صرف غیر معمولی حالات میں ہی استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ کہ اگر ایک معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے تو اس معاملہ کے متعلق یہ اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ایسی صورت میں ہائیکورٹ میں ممکنہ غیر ضروری تاخیر کے خدشہ کو دور کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ کے تحریری فیصلہ، جسے 4 / 3 کا فیصلہ قرار دیا گیا، میں ہائیکورٹ کو پابند کیا ہے کہ وہ تین دنوں میں انٹرا کورٹ اپیل نمٹائے۔ اس فیصلہ میں غیر قانونی بات کیا ہے، کوئی نہیں بتا رہا۔ بلکہ ہائیکورٹ سے فیصلہ کے بعد جب آرٹیکل 185 کے تحت اپیل کی صورت میں یہ معاملہ سپریم کورٹ جائے گا تو اس صورت میں نہ تو بینچ بنانے کے حوالے سے پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے نئے قانون کا اس پر اطلاق ہو گا اور نہ ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا آرٹیکل 184 ( 3 ) کے تحت سنے جانے والے مقدمات میں چیف جسٹس کی طرف سے سپیشل بینچ بنائے جانے کے اختیار سے متعلقہ فیصلہ اس اپیل پر اثر انداز ہو گا۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات کو نہیں سمجھ پاتے کہ ایک شفاف اور predictable انصاف کے نظام کے قیام کے لیے صرف فیصلوں کا شفاف یا outcome fairness کا ہونا کافی نہیں بلکہ ضابطہ کا شفاف اور process fairness ہونا بھی اتنا ہی اہم ہے اور ہر مقدمہ یا کارروائی کا ویسے ہی چلنا جیسے قانون میں مہیا کیا گیا ہو ازحد ضروری ہے۔ اس ضمن میں کسی کی بھی من مانی کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔

 

Facebook Comments HS