لاہور کے سقراط عزیز الحق کے ادبی، سیاسی و سماجی افکار


(عزیز الحق کے حوالے سے پہلا یادگاری لیکچر)

انیس مارچ 2023 کو ٹیم عزیز نے زوم پر پہلے سالانہ عزیز الحق لیکچر کا اہتمام کیا تا کہ ڈاکٹر سید عظیم ہمیں لاہور کے سقراط عزیز الحق کے افکار عالیہ سے متعارف کروا سکیں۔ اس لیکچر میں جن تیس سے زائد دوستوں نے شرکت کی ان میں مرد، عورتیں، نوجوان، بزرگ، طلبا، اساتذہ، سیاسی کارکن اور سماجی دانشور شامل تھے۔ اس سیمینار میں میزبانی کے فرائض خاکسار نے ادا کیے۔ میں نے سیمنار کا آغاز اپنی ایک نظم سے کیا جو میں نے عزیز الحق کے بارے میں لکھی تھے۔ نظم حاضر خدمت ہے

وہ کون تھا؟
اس کی شخصیت میں
ایک جوش تھا
ایک جذبہ تھا
ایک ولولہ تھا
اس کے دل میں
غریبوں ’کسانوں اور مزدوروں کے لیے
محبت تھی
اپنائیت تھی
پیار تھا
خلوص تھا
اس کی آنکھوں میں
امن اور آشتی اور انصاف کا
ایک خواب تھا
ایک آدرش تھا
ایک اضطراب تھا
وہ ہر غیر منصفانہ روایت کو چیلنج کرتا تھا
وہ نوجوانوں کو
سوال کرنا سکھاتا تھا
ایک نئی دنیا کی دعوت دیتا تھا
وہ لاہور کا سقراط تھا
عوام و خواص اسے عزیز الحق کے نام سے جانتے تھے

٭٭٭            ٭٭٭

عظمیٰ بنت عزیز نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس یادگار محفل میں شرکت کی تا کہ ہم سب ان کے والد کے خیالات و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیال کر سکیں۔ انہوں نے مہمانوں کو بتایا کہ پچھلے سال ایک کتاب عزیز الحق۔ لاہور کا سقراط۔ AZIZ UL HAQ ۔ SOCRATES OF LAHORE چھپی تھی جو اب ایمیزون پر دستیاب ہے۔

امیر حسین جعفری نے اپنے کامریڈ دوست ڈاکٹر سید عظیم کا تعارف کروایا جنہوں نے کارل مارکس کے شہکار۔ داس کاپیتال کے اردو ترجمے کا دیباچہ لکھا تھا۔

ڈاکٹر سید عظیم نے ایک گھنٹے کا لیکچر دیا اور ہمیں عزیز الحق کے غیر روایتی افکار کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے کس طرح 1968۔ 1972 کے عرصے میں پوسٹ کلونیل دور اور ادب کا سیاسی و ادبی تجزیہ پیش کیا تھا جو ان کے ہم عصر تاریخ دانوں اور ادبی نقادوں کے تجزیے سے مختلف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عزیز الحق کی تخلیقات کو ایک دفعہ پھر غور سے پڑھنا چاہیے کیونکہ اس سے ہم آج کے پاکستان کی سیاست اور عالمی صورت حال کی بہتر تفہیم کر سکیں گے۔

سید عظیم کے لیکچر کے بعد دوستوں نے اپنے تاثرات پیش کیے اور سوال پوچھے۔ عزیز الحق کے چند دوستوں کے دل ان کی یاد سے تیزی سے دھڑک رہے تھے اور آنکھیں نم تھیں۔

سید عظیم کے لیکچر کے بعد میں نے سوچا میں عزیز الحق کے مقالے دوبارہ پڑھوں تا کہ ان کے افکار کے بارے میں اپنی ڈائری میں اپنے تاثرات رقم کر سکوں اور دوستوں کا ان کے خیالات و نظریات سے مختصر تعارف کروا سکوں۔ چنانچہ ڈائری کے چند اوراق حاضر خدمت ہیں۔

جنگیں

میں نے عزیز الحق کے چھوٹے بھائی انوار الحق کی بڑے محنت ’محبت اور ریاضت سے تیار کی گئی کتاب۔ مضامین عزیز الحق۔ کھولی تو مجھے سب سے پہلے عزیز الحق کی یہ تحریر دکھائی دی۔

’ ہر جنگ کی کامیابی پر ہم خوش نہیں ہو سکتے کہ کئی ایک جنگیں ہمیں اپنوں سے کرنی پڑتی ہیں۔ اور یہ جنگیں آسان نہیں ہوتیں کہ ان کا ہر اختتام دل کی شکست ہوتا ہے۔ یہ‘ اپنائیگی ’کی جدلیات بڑی برباد کن ہے یارو‘

ان کی یہ مختصر تحریر پڑھ کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ عزیز الحق ایک ماہر نفسیات تو نہیں تھے لیکن پھر بھی ایک دانشور ہونے کے ناتے انسانی رشتوں کے بہت سے رازوں سے واقف تھے۔

ینگ پیپلز فرنٹ

کتاب میں ہارون رشید اورکزئی کا وہ دلگداز مضمون بھی شامل ہے جو انہوں نے۔ مضامین عزیز الحق۔ کی رسم رونمائی میں لاہور میں پڑھا تھا۔ اس مضمون میں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ عزیز الحق کس طرح لاہور شہر میں آنے والے نئے طالب علموں کا خیر مقدم کرتے تھے اور ان کی شخصیت کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو فرسودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور جدید خیالات کو خیر مقدم کرنے کا حوصلہ دیتے تھے۔ وہ ’سقراط اور فرائڈ کے ہم خیال تھے‘ کہ مخلص مکالمہ ہمیں اپنے سچ کے قریب لے جاتا ہے۔

عزیز الحق ایک صاحب الرائے دانشور تھے لیکن وہ اپنی رائے کسی پر مسلط نہیں کرتے تھے۔ وہ نوجوانوں کا ایک گروپ ینگ پیپلز فرنٹ تخلیق کر کے پاکستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب کی تیاری کر رہے تھے۔ یہ ہم سب کی بدقسمتی ہے کہ عزیز الحق اپنے سوشلسٹ انقلاب کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے سے بہت پہلے جوانی میں ہی ہم سے جدا ہو گئے۔ اگر وہ زندہ رہتے تو نجانے کتنی ادبی و سیاسی و سماجی کرامات دکھاتے۔ عزیز الحق کی شخصیت میں ایسی پراسرار کشش تھی کہ ان سے جو بھی ایک بار ملتا وہ ان سے بار بار ملنے آتا تا کہ وہ ان کے علم اور تجربے کے سمندر سے اپنی پیاس بجھا سکے۔ یہ بات ہم سب کے لیے حیران کن ہے کہ وہ چھوٹی سی عمر میں اتنے دانا کیسے ہو گئے تھے۔ ایسے دانشور ہر صدی میں دو چار ہی پیدا ہوتے ہیں۔

معیار زندگی اور آزادی

عزیز الحق اپنے مقالے۔ معیار زندگی اور آزادی۔ میں ان لوگوں کی نفسیات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں جو اعلیٰ تعلیم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکیں۔ عزیز الحق اس بہتر معیار زندگی کے تصور کر چند مثالوں سے واضح کرتے ہیں

جس کے پاس بائیسکل ہے وہ موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہے
جس کے پاس موٹر سائیکل ہے وہ کار خریدنا چاہتا ہے
جس کے پاس کار ہے وہ نئی اور مہنگی کار خریدنا چاہتا ہے
جو کرائے کے مکان میں رہ رہا ہے وہ گھر خریدنا چاہتا ہے
جس کے پاس گھر ہے وہ اسے بیچ کر ایک بہتر جگہ ایک نیا گھر خریدنا چاہتا ہے۔
جس کے بچے پبلک سکول جاتے ہیں وہ انہیں پرائیویٹ سکول بھیجنا چاہتا ہے۔
عزیز الحق پوچھتے ہیں کہ ایسے اعلیٰ معیار زندگی کا آزادی سے کیا تعلق ہے؟
عزیز الحق کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کی آزادی کا تصور ایک سراب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

ایسے لوگوں میں سے نجانے کتنے غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقوں سے دولت حاصل کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ حرص کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

عزیز الحق ہماری توجہ اس طرف مبذول کرتے ہیں کہ جب لوگ مہنگی کاریں اور گھر خریدتے ہیں تو وہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں یا بینک سے بھاری قرض لیتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ گھر درحقیقت بینک کی ملکیت ہوتے ہیں اور گھر میں رہنے والے بینکوں کو عمر بھر سود دیتے رہتے ہیں۔ عزیز الحق کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ آزاد کم اور سرمایہ دارانہ نظام کے بینکوں کے غلام زیادہ ہوتے ہیں۔ عزیز الحق صحیح آزادی اس سوشلسٹ نظام کو سمجھتے تھے جس میں ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات۔ گھر۔ ملازمت۔ بچوں کی تعلیم۔ خاندان کی صحت۔ کی ذمہ داری لیتی ہے اور سب شہری اپنے اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔

مقصدی ادب
عزیز الحق اپنے مضمون۔ مقصدی ادب۔ میں ادب کے حوالے سے دو مکاتب فکر کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلا مکتب فکر ان ادیبوں کا ہے جو۔ ادب برائے ادب۔ کے فلسفے کے ماننے والے ہیں۔ ایسے ادیبوں کا موقف ہے کہ ہمیں ادبی تخلیقات کو ادبی اور جمالیاتی پیمانوں پر پرکھنا چاہیے نہ کہ کسی سماجی ’اخلاقی یا سیاسی کسوٹی پر۔ وہ ادب کی آزادی کے قائل ہیں۔ دوسرا مکتب فکر ان ادیبوں کا ہے جو۔ ادب برائے زندگی۔ کے فلسفے کو مانتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ادب سماجی و سیاسی تبدیلی لا سکتا ہے۔
پہلے مکتب فکر کے ادیب دوسرے مکتب فکر کے ادیبوں پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ ادب کو پروپیگنڈے کے معیار پرلے جاتے ہیں اور ادب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جو ادب کے ساتھ نا انصافی ہے۔ عزیز الحق کا موقف ہے کہ ہمیں ادب اور ادیب کو ان نظریاتی خانوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایک ادیب جینوئن ہے تو وہ چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہو اس کی تحریریں لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہیں اور وہ اپنے قارئین کو اپنا سچ تلاش کرنے کی ترغیب دیتی اور انسانوں کو انفرادی و اجتماعی طور پر بہتر انسان بننے کی تحریک بخشتی ہیں۔

وہ ادیب جو دانشور بھی ہوتے ہیں وہ انسانوں کی زندگیاں بدلتے ہیں اور انسانی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میری نگاہ میں عزیز الحق بھی ایک ایسے ہی دانشور ادیب تھے۔ ان کی تحریریں ان کی وفات کے پچاس برس بعد بھی ان گنت لوگوں کو بہتر زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔

مشکل لکھاری

میں نے جب بھی عزیز الحق کے مقالوں کا مطالعہ کیا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک مشکل لکھاری ہوں اور انہیں پڑھنا اور سمجھنا ہر قاری کے بس کی بات نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیگل اور کافکا جیسے لکھاریوں اور دانشوروں کی طرح وہ مشکل زبان استعمال کرتے ہیں، وہ مشکل افکار پیش کرتے ہیں، ان کا انداز تحریر دشوار ہے، وہ دشوار نظریات گنجلک انداز میں پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں بہت سی ادبی ’سیاسی اور سماجی روایات کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ ایک طرف تو رسل اور فرائڈ، مارکس اور نیٹشے جیسے دانشوروں کے فلسفے سے اور دوسری طرف جیمز جوائس جیسے ادیبوں کے طرز تحریر سے متاثر تھے جو شعور کی رو میں لکھتے تھے۔

عزیز الحق کے مقالوں کو سمجھنے کے لیے ایک سے زیادہ بار پڑھنا پڑتا ہے۔ کافکا کا کہنا تھا کہ ادب عالیہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اسے ایک سے زیادہ بار پڑھیں تا کہ اس تحریر میں چھپے پرتوں اور رازوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ میں نے سوچا میں عزیز الحق کی تحریروں کا مختصر تعارف عام فہم زبان میں کروا دوں تا کہ فلسفے ’ادب اور سوشلزم میں دلچسپی رکھنے والوں کے دل میں اس پاکستانی انقلابی دانشور کو مزید جاننے کی خواہش سرگوشی کرے اور وہ کسی دن “عزیز الحق۔ لاہور کے سقراط۔”
کا سنجیدگی سے مطالعہ کر سکیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 714 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments