بڑی اسکرین کے چھوٹے کردار


جانے نہ جانے گل ہی نہ باغ تو سارا جانے ہے۔ یہی حال ہمارے معصوم سیاستدانوں کا ہے جن کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے؟ وہ اتنے سیدھے ہیں کہ خواہش کے مطابق ان کو اقتدار کی مستند پر بٹھا دیا جاتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ ان کو اس تخت پر لانے اور بٹھانے کا مقصد کیا ہے۔ نہیں جانتا تو صرف وہ ایک شخص نہیں جانتا جو حاکم وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اقتدار کا نشہ ہی ایسا ہے۔ اور اس نشے کا سہارا بنتی ہیں مقتدر قوتیں۔ جس کی چھتر چھایا پر پاؤں رکھ کر اقتدار میں آنے کی راہ ہموار ہوتی ہے اور یہی وہ گنگا ہے جس میں نہانے سے صادق اور امین ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی ملتا ہے۔ بس شرط صرف ایک ہے کہ ”جی حضوری“ کی جائے۔ انکار کی صورت ”نا اہلی“ یا ”تا حیات نا اہلی“ کا تمغہ بھی مل سکتا ہے۔

ایسے ہی ایک معصوم نواز شریف تھے جو نہیں جانتے تھے کہ وہ آب و تاب سے چمکتے اس اقتدار سے یوں بے دخل کر دیے جائیں گے اور ”تا حیات“ نا اہلی مقدر ہو گی۔ انہوں نے ”اوور مائی ڈیڈ باڈی“ کہنے کی جرات کی اور تا حیات نا اہلی کا تمغہ اپنے سر سجا لیا۔ دوسرے معصوم عمران خان ہیں جو سب جانتے ہوئے بھی انجان تھے کہ ان کو لانے کا مقصد کیا ہے۔ لیکن وہ ”ڈٹ“ گئے اور پھر گھر کی راہ لی۔ عمران خان جو بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ اس ظالم تخت پر بیٹھے تو سب کو یقین ہو گیا تھا کہ اب تو اگلے 10 سال ہماری دال نہیں گلے گی کیونکہ جادو ہی ایسا تھا جو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ لیکن کون جانتا تھا کہ تخت پر بٹھانے والے ہی ان کو اتارنے کا انتظام کریں گے وہ بھی اتنی جلدی۔ اور متنازع عدلیہ جس سے وہ صادق و امین ہونے کا سرٹیفکیٹ تو حاصل کر چکے تھے لیکن ایک بار پھر منظور نظر ہونے کے لیے ”کریکٹر سرٹیفیکیٹ“ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔

جب بھی منتخب حکومت اعتماد کے ساتھ قدم جمانے لگتی ہے تو تاک میں بیٹھی مقتدر قوتیں فوراً رسی کھینچ لیتی ہیں تاکہ بقول بلاول ”چنتخب“ کو ”منتخب“ کیا جائے، جو حال ہی میں ہوا بھی۔ عمران خان کو اقتدار سے باہر کر کے پی ڈی ایم کو حکومت کا تاج پہنا دیا گیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نقصان برابر کا ہو گا سودا کر لیا گیا۔ کیونکہ سہانے خواب دکھانے والے خزانے کی کنجی جب دروازے پر دستک دے تو کون نظریں چرا سکتا ہے۔ اقتدار کس کو پیارا نہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بظاہر جو ہمدرد لگتے ہیں وہی موقع ملتے ہی ڈستے ہیں۔ مرضی کے کام نہ ہو رہے ہوں تو پھر ہری جھنڈی دکھا دی جاتی ہے یا سرخ بتی پر روک دیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ وہیں پر کھڑے رہیں نہ آگے کے رہیں اور نہ پیچھے کے۔ اور ایسا ہی ہو رہا ہے حکومت سے ساتھ۔

لیکن وہ سیاستدان ہی کیا جو ماضی سے سبق سیکھیں لیں، وہ تو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ ”بڑے کرداروں“ نے ان کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا۔ اور آگے بھی یہی کچھ کریں گے جو پچھتر سالوں میں نہیں بدلا وہ آگے کیسے بدل سکتا ہے؟

شاید یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھے حکمران عوام کے دکھ میں شریک نہیں ہوتے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے وہ عوام کے غم میں گھلتے ہیں، لیکن اقتدار کی غلام گردشوں تک پہنچنے کے بعد آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اقتدار عوام سے نہیں، کہیں اور سے ملتا ہے۔ اور اسی لیے انہیں عوام سے زیادہ کسی اور کی خوشی عزیز ہوتی ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کا 58 سالہ ریکارڈ مہنگائی نے توڑ دیا ہے۔ مفت آٹے کے حصول کے لیے قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ جان سے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف عمران خان ہیں جن کو ویسے تو سب کا پتا ہے کہ کون مجرم ہے اور کون حکومت کا سہولت کار۔ جو کام ہو رہا ہو یا ہونے والا ہو اس کا بھی ان کو ”غیب“ سے علم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاست مدینہ کیسی تھی، بس نہیں جانتے تو یہ نہیں جانتے کہ ریاست مدینہ میں عوامی مفادات کے لیے سب اکٹھے بیٹھتے تھے اور وہاں انتشار کا نہیں، اتحاد کا ماحول بنایا جاتا تھا۔

اب بھی وقت ہے کہ خود کو اور ملک کو سنبھال لیا جائے ورنہ سری لنکا جیسی حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے، آج بھی عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ان ”چوروں“ اور ”ڈاکوؤں“ کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔ البتہ ان کے ساتھ ضرور بات کرنے کو تیار ہیں۔ جو ان کے بقول ان کی حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے ذمہ دار تھے۔ شاید عمران خان کو پتا ہے کہ میں جتنا بھی طاقتور ہو جاؤں، بہر حال آخری سہارا تو وہی ہیں۔ دیکھتے ہیں چھوٹی اسکرین کے یہ بڑے کردار عوام کا بھی سوچیں گے یا انہی کا اقبال بلند ہو گا جو ہمیشہ سے بالادست ہیں۔

Facebook Comments HS