جامعہ ملیہ کو سابق طلبا نے گود لے لیا


اپنی مادر علمی کسے پیاری نہیں ہوتی، زمانہ ء طالبعلمی میں ساحر لدھیانوی کی دیگر نظموں کی طرح ہمیں ان کی یہ نظم بھی بہت پیاری تھی، جس میں انہوں نے کہا:

اے وادیٔ جمیل میرے دل کی دھڑکنیں، آداب کہہ رہی ہیں تیری بارگاہ میں، تو آج بھی ہے میرے لئے جنت خیال، ہیں تجھ میں دفن میری جوانی کے چار سال، تیری نوازشوں کو بھلا یا نہ جائے گا، ماضی کا نقش دل سے مٹایا نہ جائے گا۔

آج ذکر مقصود ہے، جامعہ ملیہ کا ، جو میری تو نہیں مگر میری پیاری دوست شہناز احد اور کراچی کے بہت سے باصلاحیت طلبا کی مادر علمی ہے۔ ہماری اور شہناز کی دوستی تو صحافت کے حوالے سے ہوئی اور صحافیوں کی تحریک کے دوران پھلی پھولی لیکن کبھی یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ انہوں نے کون سے اسکول اور کالج سے پڑھا۔ اتنے سالوں بعد جب کووڈ کی وبا نے زندگی الٹ پلٹ کر رکھ دی، بیرونی رابطے اور تقریبات محدود ہوتی چلی گئیں تو میرے اور شہناز کے رابطے بڑھتے گئے اور ہم کووڈ کی پابندیوں کا احترام کرتے ہوئے، ماسک لگا کر اور آپس میں دو تین فٹ کا فاصلہ رکھ کے ایک دوسرے سے ملتے رہے، اور تب ہمیں پتہ چلا کہ کراچی کے بہت سے مشہور لوگ جامعہ ملیہ سے پڑھ کر نکلے ہیں۔

دور کیوں جائیے، ڈاکٹر شیرشاہ سید اور ان کے سارے ڈاکٹرز بہن بھائیوں نے جامعہ ملیہ میں پڑھا اور دنیا بھر میں نام کمایا۔ شیرشاہ نے نسوانی خاص طور پر زچگی سے متعلق پیچیدگیوں اور فسٹیولا کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں قابل قدر کام کیا ہے۔ ان سارے بہن بھائیوں نے کوہی گوٹھ ہسپتال اور ملیر میں ایک میڈیکل یونیورسٹی بھی بنائی ہے۔

بی بی سی کے مقبول ترین براڈکاسٹر شفیع نقی جامعی نے بھی جامعہ ملیہ سے پڑھا، چالیس سال تک بی بی سی پر اپنی آواز اور ذہانت کا جادو جگانے کے بعد وہ 2019 میں ریٹائر ہوئے۔

لندن اور کراچی میں بائیں بازو کے ترقی پسندوں کے پروگرامز کرانے کے حوالے سے مشہور اکرم قائم خانی بھی جامعہ ملیہ کے طالبعلم رہے اور اسکول کے زمانے میں ہی این ایس ایف میں شامل ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر طاہر مسعود، ڈاکٹر محمود غزنوی ( شعبۂ صحافت کراچی یونیورسٹی) ، محمد ہاشم وارث، روزنامہ جنگ کے محمد اکرم، سپریم کورٹ کے وکیل بدر عالم، نعت خواں حبیبہ اور ان کے بھائی فضل کریم، ہاکی کھلاڑی رئیس اور گل فراز، جنگ لاہور کے انجم رشید، شاعر شوکت عابد، کراچی کے مشہور صحافی عثمان جامعی، شعبہ تعلیم سے وابستہ سیما زاہد، اور ڈاکٹر عقیلہ علی، این ایس ایف کے مشہور رہنما شہر یار مرزا، سول سروس کے عامر انصاری، پینٹر حمیدہ سجاد، بینکار عارف انصاری اور عمران احد جو آج کل ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے چیئر مین بھی ہیں۔

ابرار احمد، نیفرولوجسٹ ڈاکٹر ابصار، شیر محمد بلوچ ایم این اے، ماہر نفسیات ڈاکٹر خورشید ضیا زبیری، انصار احمد حالیہ چیئرمین یونین کونسل 7، ٹریڈ یونین رہنما اور وکیل محمد مشفع، ٹی وی پروگرام والے ابا جان، جاوید احمد، نسیم شفیع، شفیع ٹینڈری اور موجودہ سینیٹر خالدہ عطیب اور دیگر جامعہ ملیہ سے ہی پڑھ کر نکلے۔

ان سب کا نام گنوانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ان سابقہ طلبہ نے حال ہی میں اپنی مادر علمی کا حق ادا کرنے کی کو شش کی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے اور ہمیں یہ شہناز احد نے سنایا کہ قومیائے جانے کے بعد سے ان کی مادر علمی کا حال برا تھا۔ ان کے بہت سے ساتھی اس بدحالی کے چشم دید گواہ ہیں۔ اور جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ بد حالی نہیں دیکھی، انہوں نے دوسروں کی زبانی سنی ہے۔ وہ تمام ساتھی جو پچاس سال قبل مجلس تعلیم ملی کے زیر انتظام قائم ان اداروں میں علم کے طالب رہے خوب جانتے ہیں کہ ان کی کامیابیوں اور زندگی میں ان اداروں کا کیا کردار رہا ہے۔

دو سال قبل انہیں پتا چلا کہ حکومت سندھ ایک پروجیکٹ کے تحت ان اداروں کو گود دینے پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر قومیائے گئے اداروں کو ، اس پراجیکٹ کے تحت کچھ ادارے گود دیے جا چکے تھے چنانچہ طے پایا کہ جامعہ ملیہ المنائی بھی اس سلسلے میں کوشش کرے گی۔ یوں ایک درخواست چند سر گرم ساتھیوں کی رہنمائی میں ارسال کر دی گئی۔ ”سچ پوچھئے تو ہمیں بالکل امید نہیں تھی کہ ہماری شنوائی ہو گی اور وہ بھی چند ہفتوں میں۔ یہ 2021 کے آخری مہینوں کی بات ہے جب پہلی ملاقات کا سندیسہ آیا۔

اس کے بعد سے ہماری درخواست حکومتی ایوانوں، اجلاسوں اور میزوں سے گزرتی منزل کی طرف بڑھتی رہی۔ اور ہماری امیدوں کو تقویت دیتی رہی۔ اس دوران جامعہ ملیہ المنائی کے ارکان نے بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ 20 مارچ 2023 کی صبح محکمہ تعلیم حکومت سندھ کے افسران بنفس نفیس جامعہ ملیہ تشریف لائے اور جامعہ ملیہ المنائی کے کچھ ساتھیوں کی موجودگی میں تین پرائمری اور لڑکوں لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں کے پرنسپلز کی موجودگی میں ان اداروں کے انتظامی امور کی سرپرستی جامعہ ملیہ المنائی کے سپرد کر گئے۔ یعنی اسکولوں کو گود لینے کا عمل مکمل ہو گیا۔

شہناز کو 2021 کا یوم تاسیس اچھی طرح یاد ہے، جس میں جامعہ ملیہ کے مختلف اداروں سے فارغ التحصیل بہت سے لوگوں نے شرکت کی تھی اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ جامعہ ملیہ کے اداروں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اب ان سب کے لئے یہ جان لینا کافی ہے کہ بچوں کے لئے پینے کے پانی سے لے کر ، باتھ روم، کوڑے دان، تعلیمی ڈیسک، چوکیدار، صفائی کرنے والا عملہ اور ایک اچھے بلیک بورڈ سے لے کر سایہ دار درخت تک ہر چیز درکار ہے ”۔

اس کہانی کو ہم ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر محمود حسین کا ذکر کیے بغیر ختم نہیں کر سکتے۔ نئی نسل کو تو معلوم نہیں ہو گا کہ ذاکر حسین کانگرس کے دور میں ہندوستان کے تیسرے صدر رہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین 1926۔ 1948 جامعہ ملیہ دہلی کے وائس چانسلر رہے۔ اس کے بعد وہ بہار کے گورنر اور ہندوستان کے نائب صدر اور پھر صدر رہے۔ ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمود حسین پاکستان چلے آئے اور اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ اپنے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 1948 میں ایک ایجوکیشنل سوسائٹی مجلس تعلیم ملی کی ملیر، کراچی میں بنیاد ڈالی۔ 1950 کے عشرے کے اوائل میں اس ملیر ایجوکیشنل کمپلیکس میں ستائیس ایکڑ اراضی پر بہت سے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ قومیائے جانے کے بعد ان اداروں کا جو حال ہوا، اس کا تذکرہ اوپر ہو چکا ہے، امید ہے کہ سابق طلبہ ان اداروں کا معیار بحال کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

Facebook Comments HS