قوم عاد (حصہ اول)

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے جو عاد تھے وہ ناحق زمین میں غرور کرنے لگے۔ اور کہنے لگے ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے۔ تاریخ کی کتابوں میں قوم عاد دو قوموں کو کہا گیا ہے ایک عاد اولی اور دوسری عاد ثانیہ۔ ان دونوں قوموں کے درمیان کم و بیش سو سال کا فرق موجود ہے۔ آج میں قوم عاد اولیٰ کا ذکر اپنے قارئین تک پہنچاؤں گا۔
اس قوم کی طرف حضرت ہود ؑ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ جب کہ عاد ثانیہ کی طرف حضرت صالح ؑ کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ دنیا کے دو مشہور سمندروں یعنی بحر عرب اور بحر احمر کے درمیان حضر موت سے لے کر مغربی یمن تک ایک وسیع صحرا ہے جس کو صحرائے الاحقاف کہتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت شدہ ہے کہ یہ صحرائے الاحقاف والی جگہ ہی قوم عاد کا مسکن تھی۔ کبھی یہ جگہ بہت سر سبز و شاداب ہوا ء کرتی تھی۔ اس کی زرخیزی اور شادابی اپنی مثال آپ تھی۔ مگر اب اس جگہ ایسی وحشت ٹپکتی ہے کہ بڑے سے بڑے سورما یہاں پاؤں رکھتے ہوئے کانپ اٹھتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ علاقہ سر سبز و شاداب باغات، دلفریب نظاروں، بہتے جھرنوں، میٹھے پانی کی آبشاروں اور بہت اونچی عمارتوں سے گھرا ہوا تھا۔
اس وقت اس علاقے میں اس دور کی سپر پاور آباد تھی۔ جن کی ہیبت و عظمت مثالی تھی۔ یہ ایسی قوم تھی جو بہت طاقتور ترین افراد تھے۔ ان کا قد 40 ہاتھ جتنا بڑا ہوتا تھا۔ ان کی عمریں 800 سے 900 سال تک ہوتی تھیں۔ نہ بوڑھے ہوتے تھے۔ نہ بیمار ہوتے تھے۔ نہ نظر کمزور ہوتی تھی۔ نہ دانت گرتے تھے۔ نہ جسمانی کمزوری کا شکار ہوتے تھے۔ نہ ہاتھ پاؤں میں رعشہ یا کمزوری آتی تھی۔ ان لوگوں میں اتنی زیادہ طاقت تھی کہ کہا جاتا ہے اس دور کا ایک آدمی ہمارے 1000 آدمی ہوں تو ان سے لڑنے کی طاقت رکھتا تھا۔
ایسی طاقتور قوم نہ ان سے پہلے ہوئی نہ ان کے بعد پیدا کی گئی۔ یہ لوگ ہمیشہ تندرست و جوان رہتے تھے۔ قوم عاد کی ایک خوبی اور تھی کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ایک دفعہ خلوت کے لمحات گزار لیتا تھا تو ایک ہی بار میں وہ عورت حاملہ ہوجاتی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ قوم عاد بہت زیادہ پھیل گئی تھی۔ ان کی طرف اللہ تبارک و تعالی نے حضرت ہود ؑ کو نبی ؑ بنا کر بھیجا۔ قوم عاد ایک بہت طاقتور اور بہادر مگر بت پرست قوم تھی۔
علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں کہ طوفان نوح کے بعد قوم عاد ہی وہ سب سے پہلی قوم تھی جس نے بت پرستی شروع کی۔ جب یہ لوگ بت پرستی پر مائل ہو گئے تو ان لوگوں نے شرک و ظلم کی تمام حدیں پار کر لیں۔ یہ لوگ پتھر گھڑ کے اپنے خدا بنانے لگے۔ قوم عاد کے لوگ برائی، بے حیائی، جھوٹ اور زناء جیسے کبیرہ گناہوں میں مبتلاء ہو گئے۔ یہ جب کسی غیر عورت سے زناء کرتے تو زناء کرنے کے بعد اس کو قتل کر دیا کرتے۔ جب ان کی بد اعمالیوں نے دھرتی پر فسق و فجور پھیلا دیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں میں سے اپنے ایک نیک اور صالح بندے حضرت ہود ؑ کو نبوت عطا کی تاکہ اس بھٹکی ہوئی قوم کی اصلاح کی جا سکے۔
اللہ پاک بہت کریم ہے۔ معاذ اللہ کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ افراد یا اقوام کی اصلاح یا اپنے رب مہربان کی طرف رجوع کرنے کا پورا موقع عطا فرماتا ہے۔ مگر انسان بڑا نا شکرا ہے۔ ہمیشہ اس عارضی زندگی میں جائے پناہ ڈھونڈتا ہے۔ یہ نہیں سوچتا کہ یہ زندگی عارضی اور بے یقینی پر مبنی ہے جہاں سانس آئی تو آئی ورنہ پرائی۔ دائمی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تو آخرت کی ہے جس سے نہ فرار اختیار کیا جاسکتا ہے اور نہ کوئی جائے پناہ۔
جو خالق کریم ایک بدبودار پانی کے قطرہ سے ایسا انسان تخلیق کر سکتا ہے جس کو وہ اپنی بے مثال تخلیق قرار دے۔ وہ اتنی بڑی عظیم اور لاریب ہستی ہے کہ پانی میں غرق ہو کر مچھلیوں کے پیٹ کی غذا بن جانے والی زندگی کو دوبارہ لوٹا دے۔ اور آگ میں جل کر خاکستر ہو جانے والی ہڈیوں کو پوری ترتیب سے دوبارہ پیدا فرما کر جان ڈال دے۔ اس کی قدرت کاملہ ہے اور وہ ہر کام کی قدرت رکھتا ہے۔ نہ اس سے کوئی سوال کرنے کی جرات رکھتا ہے اور نہ کسی میں اتنی تاب و مجال کہ کن ارشاد ہونے کے بعد دخل اندازی کی کوشش کرسکے اور اس کی رحمت کے بغیر تو کچھ بہتری ممکن نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا۔ انہوں نے کہا بھائیو اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں۔ تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے ان کے بارے میں کہنے لگے۔ تم ہمیں کم عقل نظر آتے ہو معاذ اللہ۔ اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پھر ہم نے حضرت ہود ؑ اور ان کے جو ساتھی تھے ان کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ ان کی جڑیں کاٹ دیں۔
اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔ حضرت ہود ؑ مسلسل 50 سال تک اپنی قوم کو دین حق کی وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔ لیکن ان کی قوم جہالت میں ایسی ڈوبی تھی کہ اپنے پیغمبروں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی تھی۔ قوم عاد کے دو قبائل قلمان اور خلجان تھے جن کے پاس قوم کی سرداری تھی۔ جب حضرت ہود ؑ مبعوث ہوئے تو قلمان قبیلہ نے آپ کی مخالفت کی۔ لیکن قبیلہ خلجان دعوت حق پر ایمان لے آیا۔ قبیلہ خلجان کی وجہ سے آپ کی طاقت میں اضافہ ہو گیا۔
وہ لوگ جو آپ کے دشمن بن چکے تھے اب آپ سے دور رہنے لگے۔ سوائے قبیلہ خلجان کے باقی کوئی شخص آپ پر ایمان نہ لایا۔ باقی کفار قوم کے افراد آپ کو معاذ اللہ جھوٹا کہ کر پکارتے تھے۔ قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا نبی ؑ نے دعا کی اے پروردگار انہوں نے مجھ کو جھوٹا کہا تو میری مدد فرما۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی ؑ کی فریاد کے جواب میں فرمایا۔ اے نبی ؑ یہ بہت جلد اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے۔ قوم عاد نے سرکشی کی انتہا کر دی حضرت ہود ؑ کو فرمایا۔
ہمارے خداؤں نے تیری عقل خراب کر دی ہے۔ جاؤ اپنے نفل پڑھو۔ ہم کو نہ ڈراؤ کیا ہم تمہارے کہنے سے اپنے باپ دادا کا چلن چھوڑ دیں۔ ہم تیرے کہنے پر چلیں گے تو بھوکے مر جائیں گے۔ انہوں نے کفر و شرک کی اخیر کر دی۔ اور گناہوں اور ظلم کی شدت میں ڈوب کر رب العالمین کو تکبر اور غرور میں للکارا۔ ترجمہ القرآن۔ اب قوم عاد نے بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے۔
کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے بہت زیادہ زور آور ہے۔ وہ آخر تک ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔ کوئی ہے ہم سے زیادہ طاقتور تو لاؤ نا۔ ہمیں کس سے ڈراتے ہو۔ اللہ نے اپنے نبی ؑ کی دعا قبول فرمائی۔ اور قوم عاد پر عذاب کی ابتداء ہو گئی۔ بادلوں کے فرشتوں کو حکم دیا اب ان پر پانی نہ برساؤ۔ چشموں کے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کے شفاف ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشموں اور آبشاروں کو خشک کر دو۔
چنانچہ دیکھتے دیکھتے ان کے کھیت اور کھلیان سوکھنے لگے۔ زمینیں بانجھ اور بنجر ہونے لگ گئیں۔ مال اور مویشی مرنے لگے یہاں تک کہ لوگ پینے کے پانی کو ترسنے لگ گئے۔ سارا محفوظ غلہ کھا گئے۔ مال مویشی کھا گئے۔ جب کچھ نہ کھانے کو رہا تو حرام کھانے پر کھا گئے۔ چوہے، کتے اور بلیاں اور مردار کھانے لگ گئے۔ سانپ کھا گئے یہاں تک درخت گرا کر ان کے پتے تک کھا گئے۔ مگر جب بھوک نہ مٹی۔ نہ بارش ہوئی اور نہ غلہ اگا۔ تو تنگ آ گئے۔
حضرت ہود ؑ سے اپنی قوم کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی تھی۔ آرزو تھی کہ خدائے واحد کی عبادت کریں۔ اور غیر اللہ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم نہ کریں۔ ایک دن قوم سے مخاطب ہوئے کہ تم اپنے پالنے والے کی طرف رجوع کرو۔ اس سے بخش اور استغفار مانگو۔ وہ تم پر رحم کرے گا۔ تم پر آسمان سے بارش برسائے گا۔ تمہاری طاقت و قوت میں اضافہ فرمائے گا۔ تم گناہگار بن کر اس کے حکم سے روگردانی نہ کرو۔ تو قوم نے جواب میں کہا کہ تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو لے آؤ ہم تمہارے کہنے پر ہم اپنے معبودوں اور باپ دادا کے دین کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ پھر معاذ اللہ نبی ؑ کو کہنے لگے ہمارے معبودوں نے شاید تم کو آسیب زدہ اور دیوانہ بنا دیا ہے۔ جب قوم عاد کی حالت انتہائی ابتر ہو گئی تو ان کے سرداروں نے اس سے نجات کے لئے مختلف تدابیر پر غور کرنا شروع کر دیا۔ (جاری ہے )

