رونگٹے کھڑے کرتی آڈیوز


سوال یہ نہیں کہ آڈیو کس کی ہے۔ کون کس کو کیا کہہ رہا یا رہی ہے۔ کس کس کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور کس کس کو دسمبر کی ان ٹھٹھرتی صبحوں میں پیش آب ہونا پڑا۔

یہ بھی جانے دیجیے کہ کس کو فائدہ ہوا اور کس کو نقصان، یہ سوال بھی لبوں کے پیچھے رکھیے کہ سیاسی صورت حال سے اس کا کیا تعلق ہے۔ یہ اصرار بھی مت کیجیے کہ اس پر یوٹیوبرز اپنی اپنی زنبیل سے کون کون سے موتی نکال رہے ہیں۔ یہ استدلال بھی چھوڑ دیجیے کہ اس نے سوشل میڈیا پر کیا اودھم مچایا اور زرخیز پاکستانی اذہان کو ٹرینڈ بنانے کے کون کون سے مواقع میسر آئے۔

یہ بھی جانے دیجیے کہ مزید کتنی آڈیوز اور ویڈیوز باقی ہیں اور کب آئیں گی۔

اس لیے نہیں کہ یہ سب غیراہم ہیں اس لیے کہ ان سے بڑا سوال بہرحال موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ کس نے بنائیں اور اس وقت اس انداز میں ریلیز کرنے کا محرک کیا ہے۔

جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ یہ 2018 سے پہلے کی آڈیوز ہیں تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جس نے یہ سب ریکارڈ کیا، کیا اس کے نزدیک اس وقت یہ سب درست تھا؟ اگر تھا تو اب غلط کیسے ہو گیا اور اگر اس وقت بھی غلط تھا تو اتنا عرصہ روک کر کیوں رکھا گیا؟

ان کے علاوہ بھی بے تحاشا سوالات ہیں جو اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ایک بات بہرحال طے ہے کہ جو لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں ان کے نزدیک چیز اچھی یا بری نہیں بلکہ وقت اچھا یا برا ہوتا ہے۔

مزید آگے بڑھنے سے قبل آڈیوز کو ایک بار پھر سنیے اور بتائیے کہ کیا وہ بات اسمبلی میں ہو رہی ہے، کسی مسجد میں ہو رہی ہے یا پھر کسی جرگے میں، وہ ایٹمی رازوں سے متعلق ہے یا کسی اور قومی معاملے پر؟

یہ دو افراد کی نجی گفتگو ہے اور جس انداز میں ہو رہی ہے اس میں زبردستی کا کوئی عنصر نہیں اور نہ ہی بات کرنے والوں کو کوئی ایسا خطرہ ہے کہ ریکارڈنگ کر لی جائے گی۔

اس میں سے آپ کو کوئی ایسا نکتہ نہیں ملے گا جس کو جرم گردانا جا سکے، جیسا کہ ریپ نما کوئی چیز۔

کیا آپس میں چلو غیراخلاقی ہی سہی، بات چیت کرنا اظہار رائے نہیں، ہمارا آئین تو برملا اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ اس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور جرم کے زمرے میں نہ آئے۔

اگر اس میں کوئی کسی کو آنے کا کہتا ہے تو دوسرا تھوڑا نخرہ دکھا کر آنے کا وعدہ کر لیتا ہے یعنی کہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ بلیک میل کیا جا رہا ہو یا پھر کوئی ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دی گئی ہو اور نہ ہی یہ کہ ’ڈالہ بھجوا دوں گا‘ تو پھر؟

اخلاقیات پر بات ہو سکتی ہے یقیناً اس میں غیراخلاقی جملے ہیں لیکن ظاہر ہے دونوں مزے لے لے کر کر رہے ہیں اور برا بھی نہیں منا رہے اور نہ ہی (ان کے تئیں ) کسی اور کو سنا رہے ہیں تو پھر نتھنے پھولنے کی وجہ؟

جانتا ہوں کہ کچھ لوگ بل کلنٹن والا معاملہ اس نکتے کے ساتھ نکال لائیں گے کہ وہاں بھی تو ایشو بنا تھا حالانکہ وہ کس قدر روشن خیال ملک ہے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں خاتون نے خود انکشاف کیا تھا اور شروع میں ان کی مرضی شامل نہ ہونے کی بات بھی تھی، تاہم معاملہ اس وقت خراب ہوا تھا جب صدر نے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور جھوٹ ثابت ہونے پر لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا تھا ایسا نہ ہوتا تو ایشو ہی نہ بنتا۔

اب آئیے اس طرف کہ ایسی آڈیوز یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی آخر ضرورت کیا ہے اور ایسا کون کرتا ہے۔

شاید یہ نہ بتا سکوں کہ کرتا کون ہے لیکن جو بھی ایسا کسی خاص مقصد، ضرورت، کسی خاص وقت پر ریلیز کرنے یا بلیک میل کرنے کے لیے کرتا ہے تو یقیناً اس کا درجہ ان لوگوں سے بھی نیچے ہی ہے جو پیسے لے کر محفوظ انداز میں ’جگہ اور مال‘ فراہم کرتے ہیں اور اس کے بعد معاملہ رات گئی بات گئی والا ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں سیاست میں لیکس کا کچھ زیادہ ہی کردار رہا ہے۔ نواز شریف کو نااہل کرنے والے جج کے حوالے سے ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں۔

اس نیب کے پچھلے چیئرمین کو بھول گئے آپ؟ وہی جو ’سر تا پا‘ سب کچھ آڈیوز اور ویڈیوز کے زور پر کرتا رہا جبکہ مریم نواز بھی ایسے انکشافات کر چکی ہیں کہ جیل میں ان کے واش روم میں کیمرے لگائے گئے۔

یہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں، کیوں بناتے ہیں ویڈیوز، جو طویل عرصے تک ٹھیک ہوتی ہیں پھر پلید ہو جاتی ہیں اور اٹھا کر بیچ چوراہے پھینک دی جاتی ہیں۔

میرے خیال میں ہر وہ گفتگو یا عمل جو نجی ہے اس میں زبردستی کا عنصر یا جرم کا شائبہ نہیں کسی کو اسے ریکارڈ کرنے اور جاری کرنے کا حق نہیں۔

اگرچہ پارٹی کہہ رہی ہے کہ آڈیو اس کے لیڈر کی نہیں لیکن بہرحال اس سے جو مقصد حاصل کیا جانا تھا وہ بخوبی کیا جا رہا ہے جس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ مزید آڈیوز ہو سکتی ہیں، کسی کی بھی ہو سکتی ہیں اور کبھی بھی ریلیز کی جا سکتی ہیں۔

متذکرہ آڈیو پر کچھ لوگ بات بات پر ’اسلامک ٹچ‘ دینے کا نکتہ بھی اٹھا رہے ہیں جو اتنا غلط بھی نہیں اور صاحب آڈیو کی مزید منافقت کو آشکار کرتا ہے، مزید اس لیے کہ جو یوٹرن کو سیاسی اصول قرار دے سکتے ہیں تو جانے منافقت کو انہوں نے کون سا درجہ دے رکھا ہو لیکن اس کے باوجود ان کے کسی ذاتی عمل کو پہلے قیمتی شے کی طرح سنبھال کر رکھنا اور پھر کیچڑ کی طرح اچھال دینا غلط ہے۔

منافقت بہرحال ایک بری شے ہے اور موصوف ماضی میں اس سے اجتناب برتتے تو شاید انہیں آج اپنی آواز کنویں سے آتی سنائی نہ دیتی یہ اور بات کہ تھوڑا بہت تضاد ہر کسی کے قول و فعل میں ہی ہوتا ہے۔

اگر چسکہ اندوزی و فروشی کا ٹوکرا ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو ویڈیوز کا یہ سلسلہ انتہائی خوفناک ہے اور جو ان پر بغلیں بجاتے ہیں انہیں اس چوں پر ابھی سے دھیان دے دینا چاہیے جو شاید اس وقت برآمد ہو جب کسی لائبریری سے ان کی اپنی آڈیو یا ویڈیو برآمد ہو جائے۔

یہ سلسلہ تباہ کن ہے اور یقیناً رکنا چاہیے یہ اور بات کہ رکتا دکھائی نہیں دے رہا تاوقتیکہ اس کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔

اگرچہ ہو گا نہیں لیکن پھر بھی حالات کا تقاضا سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ عدالت نوٹس لے اور پتہ لگانا چاہیے کہ یہ سب کون کر رہا ہے اور کن مقاصد کے تحت کر رہا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ اس پراسس کے بیچ کوئی آڈیو یا ویڈیو نہیں آئے گی۔

اسی طرح تازہ آڈیو کے اس جملے ’آئی ول کل یو‘ کو جان کا خطرہ قرار دے کر صاحب آڈیو کو ان باتوں سے بھی بری نہ کر دیا جائے جن کا جواب بہرحال بنتا ہے۔

قبل اس کے کہ خاکسار کی آڈیوز ریکارڈ ہونا شروع ہو جائیں مہاریں موڑنا ہی بہتر ہو گا۔

اور ہاں اگر یہ سطور پڑھتے ہوئے کسی کے ذہن میں ناچیز کے بارے میں وہی اصطلاح آ رہی ہو جو پی ٹی آئی والوں کے لیے مشہور ہے تو اس کی خدمت میں عرض ہے اگر ملک میں صرف اسی پارٹی کا ایک لیڈر باقی رہ جائے اور مقابلے میں وہی جانور ’ماچس‘ کے انتخابی نشان کے ساتھ سامنے آ جائے جس کے ہاتھ میں ماچس جانے سے سب ڈرتے ہیں، تب بھی ناچیز الیکشن سے دو چار روز قبل جنگل کا رخ کر جائے گا۔

Facebook Comments HS