سپریم کورٹ میں آج کیا ہوا؟ فیصلہ کل سنایا جائے گا


اگر آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں : چیف جسٹس

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ انتخابات میں تاخیر سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے آغاز پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آئے اور استدعا کی کہ وہ عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بائیکاٹ ختم کر دیا؟ اخبارات میں بائیکاٹ کا چھپا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کیا آپ کو عدالت پر اعتماد نہیں ہے۔ ‘ جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔

عدالت نے کہا کہ ’آپ کی قیادت تو کچھ اور کہہ رہی ہے کہ ان کو اس بینچ پر اعتماد نہیں۔ ‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم ابھی آپ کو سن نہیں رہے اس پر وضاحت کریں۔ اگر آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تو تحریری طور پر بتائیں۔ ‘

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ٹی وی پر چلا کہ ایک اہم میٹنگ ہوئی ہے، سب اعلامیے کی خبریں چلاتے رہے، کیا آپ نے وہ اعلامیہ واپس لیا ہے؟ آپ کیسے ایک طرف بائیکاٹ اور دوسری طرف سماعت کا حصہ بھی بن رہے ہیں۔ ’

فاروق ایچ نائیک نے کہا ’ہم نے تو بائیکاٹ کیا ہی نہیں تھا، بینچ کے دائرہ اختیار پر تحفظات ہیں۔ ‘

سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب آپ کو کیا ہدایت ملی ہیں؟‘ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’حکومت بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔‘

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سنجیدہ اٹارنی جنرل سے ایسی ہی توقع تھی۔‘

’قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے‘

سپریم کورٹ میں انتخابات سے تاخیر سے متعلق سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت میں دلائل میں بتایا کہ ’درخواست کی بنیاد یکم مارچ کا عدالتی فیصلہ ہے جس میں عدالت نے فیصلے میں پنجاب کے لیے صدر اور کے پی کے لیے گورنر کو تاریخ دینے کا کہا تھا۔‘

اٹارنی جنرل کے مطابق ’گورنر خیبر پختون خوا نے درخواستیں دائر ہونے تک کوئی تاریخ نہیں دی تھی۔‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ انھوں نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے جبکہ صدر کو کے پی میں تاریخ دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ ’

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’سوال اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا ہے؟ قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا، عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے۔ `

چیف جسٹس نے کہا ’1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گئے تھے، عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے۔ ‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ’آپ جس حکم نامے کا ذکر کرر ہے ہیں اس پر عمل ہو چکا ہے۔ ‘ اصل معاملہ الیکشن کمیشن کے حکم نامے کا ہے، عدالتی حکم الیکشن کمیشن پر لازم تھا۔ ’

اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو کہا ’پہلے راؤنڈ میں نو رکنی بینچ نے مقدمہ سنا تھا، 21 فروری کو سماعت کا حکم نامہ آیا، دو ججز کے اختلافات کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ ‘

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا ’جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے تفصیلی نوٹ کتنے رکنی بینچ کے تھے؟ 27 فروری کو 9 رکنی بینچ نے ازسرنو تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجا تھا۔‘

 جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا تھا، ازخود نوٹس لینے میں ہمیشہ بہت احتیاط کی ہے :چیف جسٹس کے ریمارکس

سپریم کورٹ میں انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی سماعت جاری ہے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کے رو برو بتایا ’رجسٹرار آفس نے ایک سرکلر جاری کیا ہے، سرکلر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 29 مارچ کے فیصلے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ 184 / 3 کے تحت درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں، عدالتی حکم یا فیصلے کو انتظامی سرکلر سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ‘

اٹارنی جنرل کے مطابق ’ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہے۔ عدالتی حکم نظر ثانی یا کالعدم ہونے پر ہی ختم ہو سکتا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ’سرکلر سے کسی فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا، فیصلے میں انتظامی ہدایات دی گئی تھیں۔ فیصلہ میں لکھا ہے کہ مناسب ہو گا کہ 184 / 3 کے مقدمات کی سماعت روکی جائے۔ 29 مارچ کے فیصلہ میں ہدایت نہیں بلکہ خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ ‘

چیف جسٹس کے مطابق ’یہ سرکلر 184 / 3 کے مقدمات کی سماعت روکنے کے معاملے پر آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔‘

جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ ’کیا یہ آئینی درخواست نہیں ہے جس کے رولز بنے ہوئے ہیں۔ ‘ اٹارنی جنرل نے کہا ’موجودہ مقدمہ میں بنیادی حقوق کا ذکر ہے، موجودہ کیس تیسری کیٹگری میں آ سکتا ہے، رولز بننے تک سماعت مؤخر کی جائے۔ ‘

چیف جسٹس نے کہا ’عوام کے مفادات میں مقدمات پر فیصلے ہونا ہیں ناں کہ سماعت موخر کرنے سے، فیصلہ میں تیسری کیٹگری بنیادی حقوق کی ہے، بنیادی حقوق تو 184 / 3 کے ہر مقدمے میں ہوتے ہیں۔ ‘

فضائیہ اور نیوی کو بھی انتخابات میں سکیورٹی کی غرض سے استعمال کیا جا سکتا ہے : چیف جسٹس کے ریمارکس

انتخابات ملتوی کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ازخود نوٹس کی سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ مسلح افواج صرف آرمی نہیں بلکہ فضائیہ اور نیوی بھی اس میں شامل ہے اور اگر وہ (نیوی، فضائیہ) شدت پسندی کے کسی معاملے میں مصروف نہیں ہے تو ان کو بھی انتخابات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ پنجاب میں کیا صورتحال ہے، تو انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت حساس معلومات ہیں اس لیے وہ اوپن کورٹ میں نہیں بتا سکتے۔ ‘

اس پر پی ٹی ای کے وکیل کا کہنا تھا کہ پولنگ صرف ایک دن کے لیے ہونی ہے اور سکیورٹی خدمات کے لیے ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی بلایا جا سکتا ہے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ایسی کوئی فورس ہے جو یہ ذمہ داری نبھا سکے جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ریزرو فورس ہے جس کو خصوصی حالات میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ وہ سیل بند لفافے میں اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دیں، اور اگر اس بارے میں کوئی سوال ہوا تو اس کا جواب تحریری شکل میں دیں گے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع سے کہا کہ وہ ہمیں بتائیں کہ کتنے اہلکار شدت پسندی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور کتنے اہلکار سرحدوں پر تعینات ہیں۔

 انتخابات کے لیے 20 ارب روپے اکٹھے کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں : چیف جسٹس

انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سے دریافت کیا ’وہ ایسی کوئی دستاویز بتائیں جس میں ترقیاتی منصوبہ 20 ارب روپے سے کم ہو۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ کہ اپنی امپورٹ کم کریں اور دوسرا اپنے اخراجات کم کریں۔ ’

انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے ارکان اسمبلی کو 170 ارب روپے دیے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہوں میں پانچ فیصد کٹوتی کریں اور اس کا آغاز ججز سے کریں۔ انھوں نے کہا کہ 20 ارب روپے اکٹھے کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

 ’انتخابات کی تاریخ دینا سپریم کورٹ کا نہیں، الیکشن کمیشن کا کام ہے‘

سپریم کورٹ میں دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر نے عدالت میں کہا ہے کہ ’پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ فل کورٹ بنایا جائے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ’انتخابات کی تاریخ دینا سپریم کورٹ کا کام نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ عدالت پہلے یہ طے کرے کہ یہ فیصلہ تین چار کا ہے تین دو کا۔‘

الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ ان کی نظر میں یہ فیصلہ اقلیت میں ہے۔

انھوں نے کہا ’انصاف اصل میں ہوتا ہوا نظر انا چاہیے اور میری نظر میں اس معاملے میں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تاہم ممکن ہے کچھ غلط فہمی ہو۔‘

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’اس تین رکنی بینچ کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ اس بینچ کا متعصبانہ رویہ ہے اور یہ تاثر خود سپریم کورٹ کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ فل کورٹ پر عدالت اپنی رائے دے چکی ہے۔ ‘

الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’عدالت کا ایک فیصلہ پہلے ہی تنازع کا شکار ہے۔ الیکشن کی تاریخ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن پر چھوڑنا چاہیے اور فیصلہ تین دو کا تھا یا 4 / 3 کا اس پر بات ہونی چاہیے۔

عرفان قادر نے کہا کہ صدر کے پاس بھی انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے آئین میں صدر کا عہدہ علامتی ہے اور صدر اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا جب تک وزیر اعظم کی طرف سے کوئی ایڈوائس نہیں آ جاتی۔‘

’یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا‘ : وکیل الیکشن کمیشن

سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کا عدالتی حکم اقلیتی نوٹ تھا۔ عدالت اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے، وکیل الیکشن کمیشن

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ فیصلے کی تناسب کا تنازعہ ججز کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ درخواستیں خارج کرنے والے چاروں ججز کو بھی بینچ میں شامل کیا جائے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ سرکلر سے عدالتی فیصلے کا اثر زائل نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس اپنے سرکلر پر خود جج نہیں بن سکتے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد ہونا لازمی ہے، ایک گروپ کے بنیادی حقوق پر اکثریت کے حقوق کو ترجیح دینی چاہیے۔

سماعت میں عرفان قادر کا کہنا تھا کہ قومی مفاد آئیں اور قانون پر عملدرآمد میں ہے، آئین میں 90 دن میں انتخابات ہونا الگ چیز ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ملک میں کئی سال سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اکٹھے ہوتے ہیں۔ ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ ہونا چاہئیں کیونکہ اس سے مالی طور پر بھی بچت ہو گی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں بھی نگران حکومت ضروری ہے۔

عرفان قادر نے کہا کہ صوبائی اسمبلی چند ماہ پہلے تحلیل ہوئی ہے دو سال پہلے نہیں۔ ہائیکورٹس میں مقدمات کی سماعت روکنا آئین کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر نے الیکشن کی تاریخ دے دی ہے۔ پنجاب میں صدر کو تاریخ دینے کا حکم قانون کے مطابق نہیں۔ صدر آزادانہ طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں، صدر کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم دینا خلاف آئین ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ہر کام میں کابینہ کی ایڈوائس کا پابند ہے۔ الیکشن ایکٹ میں صدر کو اختیار صرف عام انتخابات کے لیے ہے۔

 ’آئین واضح ہے کہ الیکشن کب ہونے ہیں‘ : سپریم کورٹ الیکشن التوا کیس میں محفوظ فیصلہ کل سُنائے گی

’اس وقت چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں‘ : عرفان قادر
سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے نے 184 / 3 کے مقدمات پر سماعت سے روکا ہے۔

سماعت کے دوران عرفان قادر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جناب چیف جسٹس سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔ چیف جسٹس کے حق میں درخواستوں پر دستخط ہو رہے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس نے عرفان قادر کو جواب دیا کہ ’ہم مولا سے خیر مانگتے ہیں۔ ‘

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل جسٹس یحیی آفریدی جسٹس منصور علی شاہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر ججز کو یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp