دیال سنگھ ہم شرمندہ ہیں


جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تو ماہ رمضان کی آمد کے وقت ایک بات ضرور سننے کو ملتی ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ آنے والا ہے اور یہاں مسلمان ملک ہونے کے باوجود بھی کھانے پینے کی اشیاء کئی گنا زیادہ مہنگی ہوجاتی ہیں اور یہ سچ بھی ہے۔ رمضان سے قبل اگر کوئی چیز سو روپے کلو ملتی ہے تو وہی چیز رمضان المبارک کے آتے ہی آپ کو دو سو روپے میسر ہوتی ہے۔ روزہ کا مقصد قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگ خدا سے ڈرنے والے بن جائیں یعنی ان کے اندر تقوٰی پیدا ہو جائے قرآن مجید کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان اپنے شب و روز اللہ تعالیٰ کے مقررہ کردہ حدود کے اندر رہ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات سے ڈرتا رہے کہ اس نے اگر کبھی ان حدود کو توڑا تو اس کی پاداش سے اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔

جونہی رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے تو لوگوں کی بڑی تعداد عبادت میں مصروف عمل ہوجاتی ہے اور مساجد میں دیگر عام ایام کے مقابلے میں غیر معمولی رش دیکھنے کو ملتا ہے مطلب لوگ اس بابرکت مہینے میں عبادت کر کے ڈھیروں نعمتیں و نیکیاں کمانے میں مصروف رہتے ہیں، ان میں بڑی تعداد ان منافع خوروں کی بھی ہوتی ہے جو مارکیٹس میں اپنے من مانے دام وصول کر رہے ہوتے ہیں یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم روزہ کے مقصد پر پورا اتر رہے ہیں؟

کیونکہ روزہ کا مقصد قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگ خدا سے ڈرنے والے بن جائیں لیکن ماہ رمضان میں لوگوں کی جانب سے بے تحاشا بے ایمانی و منافع خوری دیکھنے کو ملتی ہے اور انہی لوگوں کی جانب سے مساجد کی پہلی صف میں عبادات بھی کی جاتی ہیں۔ آخر یہ دھوکہ دہی کس کے ساتھ؟ یا تو منافع خوری اور بے ایمانی کو ترجیح دیں یا پھر عبادات کو لیکن ایک ہی وقت میں دونوں چیزیں منافقت کی اعلٰی مثال کو عیاں کرتی ہے۔

اس کے مقابلے میں ہم اگر دیگر غیر اسلامی ممالک کی بات کریں تو وہاں پر بسنے والے مسلمانوں کے لئے ماہ رمضان میں خصوصی طور پر رعایت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جی ہاں ان کی جانب سے جن کا روزہ سے کوئی تعلق نہیں، جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن روزہ کے مقصد کو بہتر طریقے سے یہی لوگ ہی سمجھ رہے ہیں۔

ایک ایسا ہی کردار جس کا تعلق سکھ مذہب سے تھا، اس عظیم وطن کا حقیقی طور پر باسی تھا، جونہی رمضان المبارک کا مہینہ آتا وہ منافع کے بغیر ہی اشیاء فروخت کرتا اور لوگوں کی لائنیں اس عظیم انسان کی دکان پر لگی رہتی تھیں۔ جی ہاں میں پشاور کے دیال سنگھ ہی کی بات کر رہا ہوں جنہیں جمعرات کے دن نامعلوم افراد نے ان کی دکان پر ہی فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ دیال سنگھ کے کردار نے بخوبی واضح کر دیا تھا کہ وہ کس سوچ کا مالک ہے لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم اور ریاست دیال سنگھ کے ساتھ انصاف کر پائیں گے؟

جب تک دیال سنگھ کے ساتھ انصاف نہ ہو تب تک ہم شرمندہ رہیں گے۔ ہمیں رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے سے نوازا گیا ہے تاکہ ہم ڈھیروں نیکیاں حاصل کرسکیں اور صبر کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں اور ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہمیں روزہ کے مقصد کو سمجھ کر ہی زندگی بسر کرنی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ منافع خور بھی روزہ کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ بہرحال پشاور کا دیال سنگھ غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی روزے کے مقصد کو سمجھ چکا تھا۔

Facebook Comments HS