ایشیا کا عروج اب ممکن ہے


ایشیا کی گزشتہ چند سالوں میں ترقی کو دیکھتے ہوئے بہت سے ماہرین معاشیات اس نکتہ پر متفق ہیں کہ یہ خطہ آئندہ آنے والے وقت میں معاشی عروج حاصل کر لے گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ ایشیا دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کا گھر مانا جا رہا ہے جس میں چین ایک بڑا شراکت دار ہے اور اب بھارت بھی اس صف میں کسی قدر شامل ہونے جا رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک مل کر 2023 میں عالمی شرح نمو میں نصف حصہ ڈالیں گے۔

حالیہ پیش رفت سے ایشیا عالمی ترقی کا محرک بن گیا ہے، بہت سے ماہرین اقتصادیات نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ خطہ آنے والے سالوں میں معاشی ترقی میں دنیا کی قیادت کرتا رہے گا۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے باؤ فورم فار ایشیا کی جانب سے جاری کردہ ”ایشین اکنامک آؤٹ لک اینڈ انٹیگریشن پروگریس“ رپورٹ میں 2023 میں خطے کی حقیقی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو کا تخمینہ 4.5 فیصد لگایا گیا ہے، جو 2022 میں 4.2 فیصد سے زیادہ ہے، جس سے یہ ”عالمی معاشی سست روی کے پیش نظر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا“ بن گیا ہے۔

یہ کار کردگی اس خطے کو دنیا کا سب سے زیادہ متحرک اور سست ہوتی عالمی معیشت میں ایک روشن مقام بنا دے گی۔ عالمی معیشت میں ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے عالمی حکمرانی میں اس وقت کو ”ایشیا کا لمحہ“ کہا جا رہا ہے۔ یہ لمحہ عالمی اقتصادی پالیسیوں اور اداروں کی تشکیل میں ایشیائی معیشتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی خصوصیت کی وجہ سے اہم ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی عالمی اقتصادی حکمرانی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ترقی اور تنوع کی وجہ سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ عالمی اقتصادی نظم و نسق پر ایشیا کے نمایاں اثرات کا ثبوت بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری میں ایشیائی ممالک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسوسی ایشن (آسیان) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سمیت نئی علاقائی اقتصادی تنظیموں کی تشکیل اور علاقائی اقتصادی انضمام کی اہمیت کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کرنا ہے۔

تاہم، ایشیا کا ابھرنا اس کے چیلنجز کے بغیر نہیں ہے۔ یہ خطہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اور متنوع ممالک کا گھر ہے، جس میں معاشی ترقی اور سیاسی نظام کی مختلف سطحیں ہیں۔ ساتھ ہی اس خطے میں سیاسی استحکام اور سیاسی نظام بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ وقت میں یہ امر خوش آئین ہے کہ ایشیائی ممالک آپس کے جغرافیائی تنازعات کو حل کرنے کی امید میں دوسری قوتوں پر انحصار کی بجائے معاشی دوستیوں اور تجارتی فائدوں پر زیادہ کام کر رہے ہیں جو کامیابی کی کلید ہے لیکن ساتھ ہی ان ممالک کو بھی اس خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جو براہ راست اس ترقی کا حصہ تو نہیں ہیں لیکن ان کی جغرافیائی اہمیت انہیں امن اور خوشحالی میں ایک اہم ذمہ داری دے رہی ہے۔

ان چیلنجز کے باوجود، جب ایشیائی لمحے میں اقتصادی حکمرانی کی بات آتی ہے تو امید کی وجہ موجود ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ ایشیائی ممالک اپنے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تعاون اور تعاون کی ضرورت کو تیزی سے تسلیم کر رہے ہیں۔ علاقائی تجارتی معاہدوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے اس کا اظہار ہوتا ہے، جیسے علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) ، جو دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔

اس کے علاوہ، بہت سے ایشیائی ممالک بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو بھی شامل ہے، جس کا مقصد ایشیا، یورپ اور افریقہ میں تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے روابط کا نیٹ ورک تیار کرنا ہے۔

مالی تعاون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایشیا میں معاشی انضمام کے لازمی محرک بن گئے ہیں۔ یہ خطہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے آئی آئی بی جیسی تنظیموں کی مدد سے مقامی کرنسی تصفیے کے طریقہ کار کو قائم کر کے اور وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے نفاذ کے ذریعے اس میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ ترقی کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ معاشی انضمام اور سب کے لئے مشترکہ خوشحالی ممکن ہو سکتی ہے۔

عام طور پر، عالمی ترقی کے انجن کے طور پر ایشیا کے مستقبل کے امکانات امید افزا ہیں۔ ایشیا کا تزویراتی محل وقوع، بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی او ر معاشی انضمام اسے آنے والے کئی سالوں تک عالمی اقتصادی ترقی میں اپنی قائدانہ حیثیت برقرار رکھنے اور عالمی اقتصادی حکمرانی میں زیادہ اہم کردار ادا کرنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔

Facebook Comments HS