کینسر ایک جنگ مسلسل


کینسر۔ یہ لفظ اب تک نہ جانے کتنے جسموں کو اندر سے کھوکھلا اور بے رنگ کر چکا ہے۔ کتنے دل جو اندر سے مرجھا گئے ہوں گے اور کتنی آنکھوں نے رات کی تاریکی میں روشنیوں کو کھوجنا بند کر دیا ہو گا۔ انسان کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہلا کر رکھ دینے والی ایک ایسی آزمائش جو دوزخ کی سخت تپش کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسا لمحہ جو انسان کے جسم کو جھلسا دیتا ہے۔ حشر کے میدان کے اس لمحے کی کیفیت کہ جب محسوس ہوتا ہے کہ کاش! کبھی پیدا ہی نہ ہوتے یہ تکلیف جھیلنے کو ۔

پل صراط پر چلنے کی سی کیفیت کہ جیسے اب گرا۔ بے یقینی اور امید کے بیچ آنے والی صحت یا موت کے آ جانے کا انتظار۔

اس تکلیف کا اندازہ اس انسان سے بہتر اور کوئی نہیں لگا سکتا جو اس اذیت سے گزرا ہو۔ مرد، عورت، بوڑھا، نوجوان کوئی اس اذیت سے نہیں بچا۔ ہر فرد اس علاج میں اپنی برداشت کے آخری حدود پر پہنچ جاتا ہے لیکن میں بات کرنا چاہوں گی ایک نوجوان عورت کے بارے میں۔

ایک عورت کے لیے سب سے اہم کیا ہوتا ہے۔ اس کا گھر، اس کے بچے، اس کا شوہر اور اس کا حسن۔ یہی سب جب داؤ پر لگ جائے تو عورت کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ عورت کا حسن جس پر ہمارا معاشرہ سب سے پہلے سوال اٹھا تا ہے عورت کی پہلی جنگ ہی سے شروع ہوتی ہے۔ کیمو تھراپی کے وقت انسان کے جسم میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں اور وہ جس اذیت سے گزرتی ہے وہ بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ کیمو کے شروع ہوتے ہی بالوں کا گرنا، یہاں تک کہ پلکوں کے بالوں تک کا بھی۔

دن میں کئی بار متلی ہونا، اور ہر وقت اس کیفیت کو محسوس کرنا، جسم کا درد، پیٹ کا خراب ہونا، بھوک کا نہ لگنا، منہ میں چھالے ہونا اور جس کی وجہ سے کچھ کھا نہ سکنا۔ ہر خوشبو بری لگنا، چل پھر نہ سکنا، رات کو نیند کا نہ آنا اور اٹھ اٹھ کر قے کرنا اور سب سے بڑھ کر اینزائٹی کا ہونا، ناخنوں کا کالا ہو جانا، جلد کا ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے جگہ جگہ سے پھٹ جانا۔ اللہ اللہؔ کون ہے جو اس اذیت کو برداشت کر سکے مگر سوائے اس کے کہ جس کو اللہ نے برداشت کرنے کی توفیق دی ہو۔

یہ سب ایک ہفتے تک چلتا ہے اس کے بعد کچھ طبیعت میں بہتری آ جاتی ہے یہ سائیکل 21 دنوں کا ہوتا ہے اور 6 سے 8 مہینے یہی سلسلہ چلتا ہے۔ ہر کیمو سائیکل کے بعد عورت اٹھ کھڑی ہوتی ہے اپنے گھر اور بچوں کے لیے۔ خدا کسی کے برداشت سے زیادہ اسے نہیں آزماتا اور بے شک وہ اپنی مصلحتوں کو بہتر جانتا ہے۔

یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آتا ہے سرجری کی تکلیف جو ایک جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ ذہنی تکلیف کا بھی باعث ہوتا ہے۔ تقریباً 5 گھنٹوں کا آپریشن جو مریض کے ساتھ اس کے اپنوں کو بھی برداشت کی آخری حد تک لے جاتا ہے۔ آپریشن کے بعد ایک ہفتے تک ایگزلری پائپ کا دن رات جسم کے ساتھ لگے رہنا۔ اپنے جسم پر کئی سٹیجز کو دیکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک انسان اپنے جسم پر ایک خراش تک برداشت نہیں کر پاتا لیکن یہاں اس اذیت کو دیکھ کے بھی شکر کرتا ہے کہ ایک اور مرحلہ طے ہوا۔ اپنے جسم کے بے ڈھول پن کو دیکھنا اور مسکرا دینا کہ کم از کم اللہ نے زندگی دی مجھے میرے اپنوں کے لیے۔ زندگی اور صحت یہ دو اتنی بڑی اور پیاری نعمتیں ہیں کہ کسی بھی قیمت پر ملیں انسان شکر کرتے نہیں تھکتا۔ میرے رب نے فرما یا ہے کہ!

” بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے“
اور انسان اسی آسانی کی امید میں آگے چلتا جاتا ہے۔

سرجری کی رپورٹس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اگلا قدم کیا ہو گا۔ اگر اس الگ کیے گئے ماس میں کینسر سیل کا 10 % بھی موجود ہو تو اس کے بعد ایک اور کیمو کا سائکل ہوتا ہے جس کو اورل کیمو کہتے ہیں۔ تا کہ جسم میں کسی اور اعضاء میں اس کے پائے جانے کے چانسز کو ختم کیا جا سکے۔

یہ کیمو گولیوں کی شکل میں دیا جانتی ہے۔ ہر 21 دن کے بعد دن میں 10 سے 12 گولیاں۔

یہ دیکھنے میں آسان مگر وقت کے ساتھ وزن کا بڑھ جانا کیوں کہ خالی پیٹ سے طبیعت کا خراب ہو جانا لازمی ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہاتھ پاؤں پر کالے دھبوں کا آ جانا۔ چہرے کی رنگت کا خراب ہو جانا یہاں تک کہ آئنے میں اپنی شکل تک نہ دیکھ پانا ایک بہت تکلیف دہ چیز ہے۔ یہ ایک عورت کے لیے یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس کا دل چاہتا ہے کہ دنیا کی کوئی آنکھ اس کو نہ دیکھ سکے۔ وہ ترس اور افسوس کی نگاہ ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت اپنوں کی ہمدردیاں بھی بری محسوس ہو رہی ہوتی ہیں۔

اس مرحلے کے بعد آتا ہے شعاؤں کا مرحلہ جسے ری ڈی ایشن کہتے ہیں۔ یہ ایک انتظار طلب مرحلہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں کم ہسپتال ہیں جہاں یہ سہولت میسر ہے۔ اس لیے ایک ری ڈی ایشن کے لئے کئی گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑھتا ہے۔ اس علاج کے دوران گلے کے گلینڈز پھول جاتے ہیں جس وجہ سے کچھ نگلنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اور جسم اس جگہ سے کچھ جھلس سا جاتا ہے اور اس سے ویسے ہی تکلیف ہوتی ہے جیسے کھانا پکاتے وقت کسی انگلی کو تھوڑی سی گرماہٹ لگ جائے تو انسان کئی دن اس تکیف کو محسوس کرتا ہے۔ یہ آخری مرحلہ ہوتا ہے اس لمبے اور تکلیف دہ علاج کا ۔

اسکے بعد کئی ٹیسٹ ہوتے ہیں کہ کینسر واقعی میں ختم ہو گیا کہ نہیں۔ آخر میں اس جنگجوؤں کو جنگ جیتنے کی نوید سنا دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا احساس کہ جیسے کسی تاریک کمرے میں قید ہونے کے بعد اس کمرے کا دروازہ کسی خوبصورت وادی کی طرف کھول دیا گیا ہو۔ جیسے ایک قیدی کو رہائی کی خوشخبری سنا دی گئی ہو۔ بے شک ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ اور ہر رات کے بعد صبح کی نوید۔

ایک کینسر سروائیور کو کینسر واریئر کیوں کہا جاتا ہے یہ تب سمجھ میں آتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کو واپس اپنی ڈگر پر آتے ہوئے سالوں لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ایک ذہنی جنگ شروع ہو جاتی ہے جو تا قبر جاری رہتی ہے۔ ری کولیپس کا ڈر، اپنی خود اعتمادی کو بحال کرنا، فالو اپ کی سختی، علاج کراتے کراتے جو پیسوں کا ایک سیلاب چاہیے جو بہتا چلا جاتا ہے اور اس کے بعد کے معاشی مسائل۔ ہمارا معاشرہ جسمانی جنگ تو دیکھ سکتا ہے لیکن وہ نہیں دیکھ پاتا وہ ان مریضوں اور ان کے خاندان کی ایک جنگ مسلسل ہوتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو پاتی۔

ہے زندگی جنگ مسلسل اب تو
اپنی ذات سے، اپنی ذات تک۔

Facebook Comments HS