میری ذات میری سوچ سے ہے

آج بہت دنوں بعد چہل قدمی کرتے ہوئے پارک میں ایک بینچ پر بیٹھی تو شام کا وقت تھا۔ یہ وقت جسے جھٹ پٹا بھی کہا جاتا ہے اس میں ایک عجیب سی اداسی اور سکون ہوتا ہے۔ یہ اسی احساس کو باہر لے کر آتا ہے جو آپ کے اندر ہوتا ہے۔ زندگی کا ایک اور دن ڈھل گیا۔ دن کے اختتام پر انسان کو اپنے اندر ضرور جھانکنا چاہیے، اپنی ذات کا احتساب خود کرنا چاہیے۔ ہماری سوچ

Read more

اینزائٹی۔ مگر کیوں

رات کے درمیانے پہر جب ہر طرف ایک سکون کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے، دنیا وحشت سے دور، بند آنکھوں کی دنیا میں کھوئے جب اچانک آنکھ کھلے اور محسوس ہو کہ جیسے وجود کائنات کہیں نہیں۔ جسم کسی بھاری بوجھ تلے دبے، بے حس اور بے نشاں روح۔ جو عالم ء ارواح میں کیے جانے والے عہد کو یاد دلانے کو بے چین ہوتی ہے۔ ہر جانب ایک انجانی سی گھبراہٹ اور خوف۔ کیا ہے یہ کیفیت؟ زندگی،

Read more

کینسر ایک جنگ مسلسل

کینسر۔ یہ لفظ اب تک نہ جانے کتنے جسموں کو اندر سے کھوکھلا اور بے رنگ کر چکا ہے۔ کتنے دل جو اندر سے مرجھا گئے ہوں گے اور کتنی آنکھوں نے رات کی تاریکی میں روشنیوں کو کھوجنا بند کر دیا ہو گا۔ انسان کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہلا کر رکھ دینے والی ایک ایسی آزمائش جو دوزخ کی سخت تپش کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ ایک ایسا لمحہ جو انسان کے جسم کو جھلسا دیتا ہے۔

Read more

انتظار

ہم انسان اپنے اوپر آنے والی تکلیفوں کا ذمہ دار اکثر ان انسانوں کو ٹھہراتے ہیں جن کے بغیر شاید ہماری سوچ اور روح ہی کیا بلکہ آواز، لہجے اور حرف تک خالی پن محسوس کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کے بعد دل کی کھڑکیوں سے احساس کا ماہتاب جھانکنا ہی بھول جاتا ہے۔ ان انسانوں سے شکوے شکایت ہی کیا؟ کہ وہ گئے تو ہر ہر آشنائی و دلربائی گئی۔ ہر آرزو، شام بے کیف میں جیسے

Read more