ضلع گوادر کی موٹر وے پولیس کی بے حسی

پہلے آتے ہیں اس کو تھوڑا وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں اس کی تشخیص کرنے میں پتا نہیں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ایک ناکام جہد ضرور کرتے ہیں۔ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس پاکستان میں ایک پولیس فورس ہے جو پاکستان کی قومی شاہراہوں اور موٹر وے نیٹ ورک پر ٹریفک اور حفاظتی قوانین کے نفاذ، سیکورٹی اور بحالی کے لیے ذمہ دار ہے۔ موٹروے پولیس گشت کے مقاصد کے لیے ایس یو وی، کاروں اور بھاری موٹر سائیکلوں کا استعمال کرتی ہے اور رفتار کی حد کو نافذ کرنے کے لیے سپیڈ کیمروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
آئیں ان کے تاریخ کو تھوڑا زیر موضوع لاتے ہیں پاکستان موٹرویز پولیس کا آغاز 1997 میں پاکستان کے نئے تعمیر شدہ موٹروے نیٹ ورک کی پولیسنگ کے لیے ہوا، جس کا آغاز ایم۔ 2 سے ہوا۔ بعد ازاں، جون 2001 میں، اسے پاکستان کی سب سے طویل قومی شاہراہ این۔ 5 سے شروع ہونے والی پاکستان کی قومی شاہراہوں پر گشت کرنے کا کام سونپا گیا۔
نیشنل ہائی ویز پر پٹرولنگ کے تفویض کے ساتھ، پاکستان موٹر ویز پولیس کا نام تبدیل کر کے ”نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس“ کر دیا گیا۔ فروری 2007 میں، موٹروے پولیس نے مکران کوسٹل ہائی وے (این۔ 10 ) کی پولیسنگ شروع کی۔
ویسے یہ فورس بنائی گئی ہے ایمرجنسی/حادثہ اس میں ہنگامی ساز و سامان/بورڈز جیسے ”ایکسیڈنٹ آگے“ ، ٹریفک ڈائیورژن کونز اور کون لائٹس وغیرہ شامل ہیں، جو دن اور رات دونوں وقت حادثے /واقعہ کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔
کیوں ایسا لگتا ہے کہ ضلع گوادر کے این ایچ ایم پی کے کام صرف فوٹو سیشن تک محدود ہے۔ خواہ یہ ادارہ صرف فوٹو سیشن کے لیے بنایا گیا ہے یا جو مسافر کوسٹل ہائی وے پر دوراں سفر میں حادثے کے شکار ہوتے ہیں تو انہوں کی مدد کرنا ہے یا اسے فوٹو کی شکل میں ذلیل کرنا ہے؟
پسنی زیرو پوائنٹ سے لے کر کارواٹ تک یہاں آئے روز حادثے ہو رہے ہیں آپ سمجھے ریڈ زون ہے اس حدود میں قیمتی جانیں جا رہی ہیں اس کا ذمہ دار کون موٹروے پولیس یا وہ خود؟
گوادر میں موٹروے پولیس کی ایک غیر معیاری طریقے سے پیسہ کمانے کے بہت ٹیکنیک زیر کار آمد ہوتے ہیں ان میں سے ایک بلاوجہ گاڑیوں کا چالان کرنا ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ چالان کے لیے پسنی زیرہ پوائنٹ سے کارواٹ اور پسنی سے ماکولا تک جانے میں کوئی ہرج نہیں، لیکن اپنے ساتھ فرسٹ ایڈ کے سامان لے جانے میں عذاب آ جائے گا۔
کم ازکم کوئی حادثہ ہو گا تو آپ فرسٹ ایڈ دے سکو، اور گشت کرتے وقت ایمبولنس کیوں گشت میں شامل نہیں۔ کئی جانیں اس بے ایمبولنس کی وجہ سے زیاں ہو گئی ہیں۔
یہ ضلع گوادر کے موٹروے پولیس کی نالائقی ہے جو زخمی شخص کو فرسٹ ایڈ دینے کے قابل نہیں اور ان کی وجہ سے زخمیوں کی جان جا سکتی ہے اور بہت ایسے واقعے ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔
8 مارچ کو جو کلگ کراس میں کار کا ایک خوفناک واقع ہوا تھا جو ایک گھنٹے تک ان زخمیوں کے پاس کوئی گیا ہی نہیں ایک گھنٹے بعد لوگ آئے پھر کچھ دیر بعد ہمارے شہزادے آئیں اپنے ساتھ چالان کی پرچی اور ایک قلم کے علاوہ اور ایک معمولی سی پٹی ان لوگوں کے پاس موجود نہ تھی جو خون بہے جا رہے تھے کم از کم ان کے خون کی روک تام ہوتا۔ افسوس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چوں کہ ایک کی سانسیں چل رہی تھی، دو گھنٹے بعد باقی لوگوں نے اپنے آپ کے تحت ان کو پسنی سول اسپتال تک پہنچایا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر موٹروے ایمبولنس وہ بھی اپنے اعلیٰ افسروں کی پوچھ گچھ کرنے کے بعد تین گھنٹے بعد پہنچتی ہے۔ اس واقعے میں دو نوجوان کی جانیں فرسٹ ایڈ اور ایمبولنس کی وجہ سے زیاں ہوتی ہیں۔
ضلع گوادر کے موٹروے پولیس اس فلسفے پر عمل پیرا ہے کہ اگر حادثے والوں کی موت لکھی ہے تو مر جائے گئے اگر موت کا وقت پورا نہیں ہے تو وہ بچ جائے گئے۔ یہی فلسفہ ہے گوادر موٹروے پولیس کا۔ اب عوام سے درخواست ہے کہ اپنی گاڑیوں کے اندر فرسٹ ایڈ کے سامان خود رکھنے کی زحمت کریں موٹروے صرف چالان اور حادثے کے بعد وہاں جاکر فوٹو سیشن کے حد تک عوام کی خدمت کرتی ہیں۔

