ہم نے فیصلے عجیب کر لئے ہیں!


حقیقت چیختی رہ جاتی ہے، فطرت کا کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے جب ایک عالم اس ضد پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ صرف اس کا مسلک درست ہے اور دیگر مسالک کم و بیش دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب ایک دانشور اپنی انا کے فراز پر کھڑا مخالف رائے کو نشیب سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا سیاسی و سماجی قبلہ درست ہے اور باقی محض بتوں کی پوجا کر رہے ہیں، تو افق سے آواز آ رہی ہوتی ہے کہ، تو بھی کئی جگہوں پر غلط ہے، تیرا لیڈر بھی کوتاہی کو نہ ماننے کی ہٹ دھرمی پر ہے جیسے تیرے ناپسندیدہ لیڈر، اور معصوم ذات تو صرف انبیاء کی ہے جبکہ تو کسی نرگسیت کے خوشبودار کفن میں محض خوش فہمی اور غلط فہمی کی نکہتوں میں عام آدمی ہی کی طرح مسحور ہے، اور تو نہیں جانتا تیرا خاص ہونا کسی عام سے کہیں کم تر ہے، یہ خود پسندی کا سحر کبھی صوفی بننے دیتا ہے نہ رہنما، یہ تو خود غرضی کا پرچار بن کر عاقبت نا اندیشوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے!

اجی، بدقسمتی سے ہم نے فیصلے کر رکھے ہیں کہ، میرا لیڈر زندہ باد تیرا لیڈر مردہ بھلے ہی دونوں ایک سے جھوٹے ہوں، لیکن نہیں، پھر بھی، میرا ذی وقار تیرا بد کردار، کبھی سوچنا کیا یہ ذمہ دار شہریوں کا رویہ ہے؟ اور تو اور، یہاں تو دانشوروں کی صف کے ہر نمازی کی آستین میں پوجا کے لئے بت ہیں یا ثروت کے سانپ لیکن تیرے بت اور سانپ مردہ باد تاہم میرے بت اور سانپ زندہ باد۔ ایسا ہی ہم نے اپنے اپنے ججوں کے نظریہ ضرورت اور جرنیلوں کی آمرانہ روش کو من و عن قبول کر رکھا ہے، جیسے ایمان لائے ہوئے ہیں! کہ میرے سانپ آب حیات کے پیکر اور تیرے سانپ زہریلے، گویا سوچا ہی نہیں، کہ سانپ تو سانپ ہوتا ہے بھلے ہی بلیک اینڈ وائٹ ہو یا رنگین!

ان گنہگار آنکھوں نے حیا کی پاسداری فیشن کے جدتوں میں بھی دیکھی ہے، اور بے حیائی چادر کی پاکیزگی میں لپٹی برہنہ سوچ میں بھی۔ جہاں جانچ کے دونوں پیمانے غلط ہیں، حیا دونوں صورتوں میں اپنی اپنی جگہ ممکن ہے، کہ حیا کی پاسداری تو جاندار انسان نے کرنی ہے بے جان فیشن یا بے جان چادر نے نہیں لیکن ہم نے اپنے ہی فیصلے تراش رکھے ہیں!

منصفوں کی اکثریت انصاف اور سیاستدانوں کی اکثریت خدمت، جرنیلوں کی اکثریت سیکورٹی، بیوروکریسی کی اکثریت سروسز اور استاد تعلیم بیچتے ہیں لیکن کسی نے رشوت کو فیس اور کسی نے بخشیش کا نام دے رکھا ہے، تو کیا ہم ان کی اصطلاحوں کو مان لیں یا خرید لیں؟

جمہوریت ایک مسلسل معجزہ ہے جو ازخود انسان کے انسانی پرچار، افکار اور اعتبار کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اور دستور وہ زندہ دستاویز ہے جس کو محض مردے بھولتے ہیں تاہم زندہ تلاش کرتے ہیں ایسے جیسے رگ و پے آکسیجن کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور وہ جو عوام کو جمع کے پیرائے بیان کی ابتدا اور دستور کی زبان دے، استحصال کے فلسفہ اور سائنس کو لب پر لائے، جمہوریت نواز کہلائے، پھانسی کے پھندے پر جھول کر زندگی کا استعارہ پائے، انسانی حقوق کی روح بن جائے اور ملکی بقا کو جوہری توانائی کی فراہمی کا جوہر بن جائے، اس کے متعلق تم عجیب فیصلے کرو گے، تو فقیر یہی کہے گا : ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں! یہ ہم نے کیا عجیب فیصلے کر لئے ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہیں کرنا؟ کوئی مسلم ممالک کو ایک مقام، نام، انعام اور اہتمام پر لاکر بناؤ کا چلن سکھائے، نوے ہزار سے زائد قیدیوں کو وطن واپس لا کر دکھائے، شعور کی آبیاری اور عوامی فرماں برداری کو اجلا پیرہن دے، بین الاقوامیت کو اپنا رنگ دے، قومیت کو ایک اچھوتی امنگ دے، تعلیم کو ایک ترنگ دے، ایسے شہریار اور باعث افتخار بھٹو کو ہم کیا دیں؟ اپنا یہ طریقہ کہ، آدھا سچ بولنا ہے تو کبھی آدھا جھوٹ گویا سچ کی بانسری میں کبھی جھوٹ کا سوز اور جھوٹ کے بانس سے کبھی سچ کی بانسری بنانے اور بجانے میں وقت برباد کرنا۔ یہی تو سبب ہے کسی نے سوشلزم کے نظریات کو کفر کہا تو کبھی کمیونزم کی سائنس کو کافر جانا لیکن اپنی منافقت کی موذی مرض کے لئے کسی مسیحا یا مسیحائی کی جستجو کو مقدم نہیں جانا! پنجابی کا ایک سہ جہتی اکھان ہے ”آپ کسے جئی ناں تے گل کرنو رئی ناں۔ “

غلطیاں اس قائد عوام سے بھی ہوئی ہوں گی، غربت مٹانے اور ساتھ نبھانے میں کہیں بھٹکا ہو گا، کہیں ٹھوکر بھی کھائی ہوگی، کہیں عجز کا دامن چھوٹا بھی ہو گا، لیکن میرے میزان اور تیری کسوٹی نے اس کی اچھائیوں کو کتنا تولا اور اس کی ریاضتوں و فراستوں کو کتنا پرکھا؟ کیوں ہم نے عجیب فیصلے کرلئے ہیں کہ بھٹو کو ”بھٹو“ ماننے میں دلیل ترک کرنی اور بغض بروئے کار لانا؟ چلئے ہم آپ کی مان لیتے ہیں، تھوڑی سی ذہانت ویسی اور تھوڑی سی مشقت ویسی لا دو کسی لیڈر میں ہم اپنا فیصلہ آپ کے فیصلے میں شامل کر دیں گے! کوئی ایسا بھی فیصلہ کر لیں کہ، ادراک رہے ملک کمزور اور ناتواں اس وقت ہوتا ہے جب آئین سے منہ موڑ لیا جائے۔ آج کے لیڈر کے منہ کو لگا ہوا اسٹیبلشمنٹ کا فیڈر کون چھڑائے اور کہے کہ اے لیڈر آپ نے عوام کی قسمت کا فیصلہ عوام سے لینے کے بجائے مقتدر پر کیوں چھوڑا آپ نے دل کے در آمروں کی آسانی کے لئے کیوں کھول رکھے ہیں؟ آہ :

تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

جس نے آمریت کی پتھریلی دیوار میں جمہوریت کے امکان کی نرمی و نازکی اور شگفتگی و تازگی کا در ٹانک دیا ہم نے اسے کبھی جانا ہی نہیں جاننے والوں کی طرح! ، کہ صعوبتیں اٹھانے اور عوام سے یاریاں نبھانے کے عزم کے سبب بھٹو تو اب بھٹو ازم ہو چکا۔ لاکھ تم اپنے فیصلے عجیب کرو!

Facebook Comments HS