پاکستان ترکیہ کے مابین حالیہ تعلیمی تعاون


پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں، جن کی جڑیں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب سے جڑی ہوئی ہیں۔ دونوں ممالک نے اعلیٰ تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان (اے پی ایس یو پی) کے زیراہتمام 18 معروف یونیورسٹیوں کے 34 رکنی پاکستانی وفد نے استنبول کا دورہ کیا، جس سے اعلیٰ تعلیم میں دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کا سنہری موقع ملا۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا پاکستانی وفد تھا جس نے ترکیہ کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کا دورہ کیا۔

وفد نے یوریشین یونیورسٹیز یونین کے زیر اہتمام سالانہ یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ میں بھی شرکت کی۔ جس میں خطے میں اعلیٰ تعلیم کی موجودہ حالت اور مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ سربراہی اجلاس تعلیمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو یوریشیا میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تجربات، بہترین طریقوں اور خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس سے پہلے پاکستانی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پر مشتمل پاکستانی وفد نے 2019 میں استنبول میں ساؤتھ ایشیا ہائر ایجوکیشن فورم میں شرکت کی تھی۔

سمٹ کے دوران، پہلا پاکستانی پویلین قائم کیا گیا، جس میں پاکستانی یونیورسٹیوں کی اچیومنٹ، انوویشن اور تحقیق کو پیش کیا گیا۔ اس میں سپیریئر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف فیصل آباد، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، انسٹی ٹیوٹ آف ساؤتھ پنجاب، اقرا یونیورسٹی، پریسٹن یونیورسٹی، گفٹ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا، انڈس یونیورسٹی، بینظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ مینجمنٹ کے وفد نے دیگر شرکاء کے ساتھ تعلیم کے میدان میں شراکت داری اور تعاون کے مواقع تلاش کیے۔

پاکستانی وفد نے ترکیہ کی معروف یونیورسٹیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جن میں استنبول ایدین یونیورسٹی، یدیٹائپ یونیورسٹی، استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی، استنبول یونیورسٹی اور دیگر معروف یونیورسٹیز شامل ہیں۔ وفد نے اگست 2023 میں ہونے والی SEE پاکستان ایکسپو میں بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی، جو یوریشین یونیورسٹیوں کی قیادت نے دعوت قبول کر لی۔ اس دورے کا مقصد تحقیق، انوویشن اور انٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا جو کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

دورے کا ایک اہم مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طلباء کے تبادلے کے پروگراموں کو فروغ دینا تھا۔ پاکستانی وفد نے ترکیہ کی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کی جس سے دونوں ممالک کے طلباء بیرون ملک تعلیم حاصل کر سکیں گے، معلومات اور تجربات کا تبادلہ کرسکیں گے۔ اور نئے زاویوں اور ثقافتوں سے روشناس ہو سکیں گے۔ جس سے ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔

پاکستانی وفد نے مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تعاون کے شعبے تلاش کیے ۔ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے اور عالمی تحقیقی منظر نامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ ترکیہ کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے، پاکستانی یونیورسٹیاں ترکیہ میں موجود وسائل سے استفادہ کر سکتی ہیں، جبکہ مشترکہ تحقیقی منصوبوں میں تعاون کر سکتی ہیں جو دونوں ممالک کی ترقی اور تعلیمی میدان میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس دورے کی بدولت پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیمی میدان میں تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے کا بڑا موقع ملا۔ وفد نے مشترکہ ڈگری پروگرامز کے تشکیل، طلباء کو پاکستانی اور ترکیہ دونوں یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرنے کے قابل بنانے، دونوں ممالک کی تعلیمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور تعلیمی اداروں کے درمیان معلومات اور نئے آئیڈیاز سے فائدہ اٹھانے کے لئے تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے ترکئی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے 500 ملین روپے سے زیادہ کا وعدہ کیا، جو متاثرہ علاقوں کے طلبہ کے لیے امداد، بحالی اور اسکالرشپ پر خرچ کیے جائیں گے۔ پاکستان کی متعدد یونیورسٹیوں نے ترکئی کے زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے اپنی مدد کا اعلان کیا، جن میں سپیریئر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف فیصل آباد، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی اور دیگر شامل ہیں۔

اے پی ایس یو پی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے پاکستانی وفد کی قیادت کی، ریکٹر سپیریئر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سمیرا رحمان کے ہمراہ 400,000 ترک لیرا کا چیک بورڈ اناطولیہ ایجوکیشن اور کلچر فاؤنڈیشن ترکیہ کے وائس چیئرمین ایلف آیدن کے حوالے کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے یوریشین یونیورسٹیز یونین کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مصطفیٰ آیدین نے ایپ سپ اور پاکستانی قوم کا ترک عوام کی مسلسل سپورٹ خاص طور پر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کیا

کامسٹیک (COMSTECH) کے کوآرڈینیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، جو پاکستانی وفد کا حصہ بھی تھے، انہوں نے ایپ سپ (APSUP ) اور کامسٹیک (COMSTECH) کنسورشیم کی رکن یونیورسٹیوں کے تعاون سے زلزلے سے شدید متاثر ترک شہریوں کو مکمل اسکالرشپ اور ریسرچ فیلو شپ کی پیشکش کی۔

پاکستانی وفد کے حالیہ دورہ استنبول نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ طلباء کے تبادلے کے پروگراموں، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی میدان میں تعاون کے فروغ سے دونوں ممالک عالمی تعلیمی معیشت میں حصہ بڑھا سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی صلاحیت اور تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کی یونیورسٹیوں کے درمیان آنے والے سالوں میں مزید گہرے اور بامقصد تعاون کی راہ ہموار کرے گا۔

مصنف ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز پاکستان (اے پی ایس یو پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور گزشتہ 23 سال سے زائد عرصے سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

Facebook Comments HS