عدالتیں طاقتوروں کی آماج گاہ
سپریم کورٹ کا حالیہ بحران کمزور اور مظلوم کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکتا ہے ہے۔ آئین پاکستان نے سپریم کو جتنی بھی طاقت بخشی ہے اس کا مقصد مظلوم کی داد رسی تھا نہ کہ طاقت ور کے لیے سہولت کاری تھا۔ اگر ہم سپریم کورٹ کا گزشتہ بیس سال کا ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے لیے 200 از خود نوٹس میں غریب، لاچار، مظلوم اور مسکین کی آہوں اور سسکیوں کی آواز سپریم کورٹ تک نہیں پہنچی ہے۔
پچھلے ایک سال سے سپریم کورٹ پر طاقتوروں کا قبضہ ہے۔ سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی پریکٹس کو دیکھا جائے تو چیف جسٹس آف پاکستان ہی از خود نوٹس لیتے ہیں کیا آئین پاکستان میں یہ درج ہے کہ جیف جسٹس آف پاکستان کے پاس یہ اختیار ہے اس کا جواب ہے کہ آئین پاکستان نے یہ اختیار سپریم کورٹ کو دیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان کو نہیں از خود نوٹس کی روح کو دیکھا جائے تو یہ تو ازخود نوٹس اس کے لیے تھا کہ جو خود اپنی مدد نا کر سکتا ہو اور طاقت وار اس کے بنیادی حقوق سلب کر رہا ہو تب سپریم کورٹ آف پاکستان اس طاقت وار سے جواب طلبی کریں۔
قومی ادارے انفرادی سوچ کے تحت نہیں بلکہ قوانین اور اجتماعی سوچ سے پر فارم کرتے ہیں۔ اگر سوال یہ ہے ججوں کے ماتھے پر سیاسی وابستگیاں لکھی ہوئی ہیں تو آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ جو ادارے یہ قابل جج پیدا کرتے ہیں۔ ان میں کوتاہی کہاں پر ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب الیکشن التوا ء کیس میں میں تین رکنی بینچ نے شاید آئینی تقاضے کو تو مد نظر رکھا مگر کیا آئین صرف پنجاب کی حدود تک ہی قابل عمل ہے؟ کیا خیبر پختونخوا اس کے لیے علاقہ غیر ہے؟ کیا آئین کی بالادستی صرف پنجاب میں ہی ہو گی؟ کیا سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئین کی سمجھ بوجھ والے صرف تین جج ہی موجود ہیں؟ اگر سپریم کورٹ میں صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی ہے تو پھر سب کام چھوڑ کر سپریم کورٹ کی از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں الیکشن کروانے والے بینچ میں اعجاز الاحسن کی موجودگی کیا پیغام دیتی ہے؟ کیا اس سے ہم خیال ججوں کے بیانیے کو تقویت نہیں ملتی؟ سپریم کورٹ اور قابل عزت و احترام ججوں کے رویے اس وجہ سے آشکار ہوئے ہیں کہ انہوں نے کئی طاقتوروں کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا ہے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ وہ عدالتیں جو براہ راست عوامی مسائل سنتی ہیں ان کی حالت کس قدر قابل رحم ہو گی جہاں پر لمبی لمبی تاریخیں اور رشوت کے معاملات عام ہیں مگر دوسری طرف انصاف کی اس قدر جلدی کہ ایک گھنٹہ پہلے بینچ تشکیل دیا جاتا ہے تو بھر سماعت کا آغاز بھی کر دیا جاتا ہے ۔سپریم کورٹ کے کچھ ججوں کا فیصلہ قابل عمل ہے اور چند ایک کے فیصلوں کو ایک سرکلر کے ذریعے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیا یہ سب پھرتیاں عام آدمی کے لیے بھی ہیں؟ کیا ججوں کی آڈیو ٹیپ پر پھرتیاں دکھانے کی ضرورت نہیں تھی؟ کیا عوامی جلسوں میں معزز ججز پر کسے گئے جملے یہ تقاضا نہیں کر رہے کہ ججوں کے مالی معاملات کو دیکھنے کے لیے بھی ایک غیر جانب دار ادارہ ہونا چاہیے۔
کیونکہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نہایت مایوس کن ہے۔ کسی نئے احتسابی ادارے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ جج اس قسم کی کسی بلیک میلنگ پر پریشان نا ہوں اور ان کے فیصلے بھی اس دباؤ کے زیر اثر نا ہوں۔ کیا آئینی پٹیشن کے لیے چھ سات ججوں کا سینئر ترین بینچ مختص نہیں کر دینا چاہیے؟ سپریم کورٹ کو ان سارے سیاسی مسائل سے فارغ ہو کر زیر التوا ء مقدمات کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔


