”سندھیالوجی“ سندھ کا ثقافتی قلعہ کیوں ہے؟
جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کے ساتھ اور سندھی ادبی بورڈ کے قریب ”انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی“ کا وجود میں آنا کوئی عام روایتی امر نہیں تھا۔ اس کے پیچھے دور رس نگاہ نگاہ رکھنے والے دانشوروں اور اہل علم شخصیات کی اعلیٰ سوچ تھی۔ کوئی شک نہیں کہ سندھیالوجی سندھ کی ثقافت کا قلعہ ہے، اور یہ قلعہ ہر وقت مخالفین کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے۔
عقل اور دانش رکھنے والے جانتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اقتدار اعلیٰ پر قابض لوگ عظیم تہذیبی تاریخ کی دیواروں پر اپنی مرضی کا رنگ چڑھانے کی مکمل سازش تیار کرچکے تھے۔ پنجاب میں یہ کام غیر محسوس انداز اور احسن طریقے سے جاری تھا۔ پاکستان میں آزادی کے بعد پہلی ہی دو دہائیوں میں تمام اکائیوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اب بدلتی صورت حال میں اپنے قومی تشخص، بولی، ثقافت کو بحال رکھنا اور اس کو ترقی دینا تو درکنار موجودہ شناخت کو باقی رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ نئے قومیتی نظریہ کے نام پر سندھ کے عظیم ماضی اور روایتی صوفی مزاج اور رواداری والے سماج کو ختم کر کے نیا سخت گیر سماج کھڑا کیا جا رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے سندھ کو بھی مسلمان ہونے کے 1236 برس بعد اب پتا چلا کہ وہ تو ”باب الاسلام“ ہے، اور اسلام کے نما۔ حر۔ کوئی بھی کہیں بھی قبضہ کر سکتا ہے۔
اس دور میں سندھ کے بڑے اہل علم و دانش شخصیات نے قومی ورثہ و دانش کو سنبھالنے، ایک جگہ اکٹھا کرنے اور اس کی ترقی کے لئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ سندھی ادب کی ترقی کے لئے سائیں جی ایم سید کا 1940 ع میں بنایا گیا ادارہ ’سندھی ادبی بورڈ‘ موجود تھا مگر ثقافت اور قومی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اور ادارے کی ضرورت تھی۔
اس صورتحال کے پیش نظر کچھ اہل نظر کے مشورے پر سندھ یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر جناب رضی الدین صدیقی صاحب نے 1962 ع میں حیدرآباد شہر میں موجود یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں ”سندھی اکیڈمی“ کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد تقسیم ہند کے بعد سندھ کا تاریخی رکارڈ تبدیل کرنے کی کسی بھی سازش کو ناکام بنانے کے لئے ایک ایسی لائبریری یا ادارہ بنانا تھا جس میں سندھ کے تاریخی اور تہذیبی رکارڈ کو سائنسی بنیادوں پر بچا کر رکھا جائے۔
صرف چند ماہ یا ایک برس کے اندر تمام خدشات سچ ثابت ہوئے اور کچھ سازشیوں نے اپنے نئے نظریات کی پنیری لگانے کے لئے حیدرآباد شہر میں موجود ”سندھ اکیڈمی“ کے دفتر اور ایک عظیم لائبریری کو آگ لگادی، ہزاروں قیمتی کتابیں، قیمتی رکارڈ، ہاتھ سے لکھے مخطوطات، نقشے اور دوسرا سامان جل کر خاک ہو گیا۔ سندھ میں علمی مراکز، ثقافتی اداروں اور کتب خانوں کو آگ لگانے کی روایت نئی نہیں، اس سے پہلے کی عربوں، ارغونوں اور ترخانوں نے دیبل، ٹھٹہ اور اروڑ میں نے بھی یہ روایت دہرائی تھی۔
سندھ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس حیدرآباد میں ہوئے اس واقعہ پر پورے سندھ میں جیسے سوگ کی کیفیت چھا گئی، ہر اہل دل و اہل نظر سخت فکرمند اور پریشان تھا۔ ہزاروں لوگ جائے وقوعہ دیکھنے سندھ یونیورسٹی آرہے تھے۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو اس وقت وفاقی وزیر خارجہ تھے، جب اس کو اس وقوعہ کا پتا چلا تو آپ خاص طور پر سندھ یونیورسٹی حیدرآباد تشریف لائے اور وائس چانسلر سمیت اہم شخصیات کے ساتھ مل کر جل کر خاکستر ہوئی اکیڈمی کا معائنہ کیا، اس موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے متعلقہ حکام کو کہا کہ ”آپ اس ادارے کو پھر سے زندہ رکھنے کا سلسلہ جاری رکھیں، مجھے یقین ہے کہ وہ وقت بہت قریب ہے جب ہم اس ادارے کو عالمی لیول کا انسٹیٹیوٹ بنائیں گے۔ میں اپنی ذمے داری سمجھتا ہوں کہ سندھ کی تاریخ، بولی اور ثقافت کو طاقتور بناؤں۔
اس سلسلے میں 12 دسمبر 1962 ع کو ’سندھ اکیڈمی‘ کا اہم ترین اجلاس بلایا گیا، جس میں ادارے کے کام، ذمے داریاں، اصول و ضوابط کو نئے انداز سے ترتیب دیا گیا۔ اس موقع پر نامور دانشور و محقق پیر حسام الدین راشدی نے رائے پیش کی کہ یہ ادارہ مستقبل میں ایک اہم ادارہ بنے گا تو کیوں نہ اس کا نام بھی کوئی عالمی سطح کے اداروں جیسا ہونا چاہیے جیسا ایران کا ”ایرانولاجی“ ، مصر کا ”ایجپٹولاجی“ یا انڈیا کا ”انڈولوجی“ ہے۔ اس رائے کو بہت اہمیت دی گئی، اور مخدوم طالب الۡمولىٰ کی تجویز پر اس ادارے کا نام ”انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی“ یا ’ادارہ سندھیات‘ رکھا گیا۔
سندھیالوجی کے موجودہ ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ سیال کا کہنا ہے کہ ’آج ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے دانشوروں اور اہل علم شخصیات نے کتنا اہم ترین کام کیا اور بروقت کیا۔ یہ وہ ہی وقت تھا جب پاکستان میں بہت بڑی سیاسی اور ثقافتی تبدیلی کی لہر چل رہی تھی۔ اس وقت دھرتی کی زبان، ثقافت، رسوم، موسیقی سے لے کر ہر چیز کو سنبھالنے اور بچانے کی سخت ضرورت تھی۔‘
پھر وہ وقت بھی آیا جب شہید ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم بن گئے اور ممتاز علی بھٹو کو سندھ کا وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس دوران جب ممتاز علی بھٹو نے سندھ میں ثقافت اور بولی کی ترقی پر کام شروع کیا تو سندھ یونیورسٹی کے پہلے دورے پر انہوں نے یونیورسٹی حکام اور سندھ کے دانشوروں کو کہا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ آپ انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کے لئے کوئی بڑا پراجیکٹ ڈیزائین کریں اور یہ کام جتنی جلدی ممکن ہو شروع کیا جائے۔
کہا جاتا ہے کہ سندھ یونیورسٹی کی جانب سے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کے لئے جو پراجیکٹ بنایا وہ چند لاکھ روپوں کا تھا جس میں لائبریری، ریسرچ ہال اور شاید آڈیٹوریم شامل تھا، پراجیکٹ دیکھتے ہی وزیر اعلیٰ ممتاز بھٹو نے کہا ”کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں وزیر اعظم بھٹو کو یہ چھوٹا سا پراجیکٹ دکھا کر ڈانٹ کھاؤں، آپ واپس جائیں اور اس پراجیکٹ کو چار گنا بڑا بنا کر لے آئیں ایک ایسا پراجیکٹ جو اگلی ایک صدی تک کی اپنی حصے کی ضروریات کو پورا کرتا رہے۔ آپ کو یہ بات سمجھ جانی چاہیے کہ جو کام اب کر سکتے ہیں وہ شاید پھر نہ کیا جا سکے۔“
اس کے بعد انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کا موجود شاندار پراجیکٹ بنایا گیا۔ سائیں جی ایم سید کے بنائے گئے سندھی ادبی بورڈ کی طرح آزاد، خودمختار اور شاندار پراجیکٹ جس میں ایک عظیم الشان چار منزلہ عمارت، ساتھ ہی بہت عالیشان لائبریری اور زبردست آڈیٹوریم بھی شامل کیا گیا۔
انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کی موجودہ ایرانی طرز تعمیر کی پرشکوہ عمارت کا سنگ بنیاد 10 دسمبر 1972 ع کو وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی بھٹو نے خود آ کر رکھا اور پوری رپورٹ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کی۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو جہاں اجتماعی طور پر پاکستان کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام دلوانے کہ کوشش کر رہے تھے وہاں انفرادی سندھ کو بھی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی طور پر اپنا تاریخی مقام دینے کی کی کوششیں کر رہے تھے۔
اس وقت سندھ میں ثقافتی اور بولی کو درپیش خطرات کا اندازہ ہو چکا تھا یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ کا دانشور اور اہل علم فرد بھی خاصہ چوکنا تھا۔ انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کو سندھ یونیورسٹی کے اندر بنانا اور خودمختار ہونے کے باوجود اس کا حصہ بنانا بھی دیکھنے میں کمال فیصلہ تھا کہ علم و ادب، ثقافت و تہذیب کو ایک قلعہ میں محفوظ کیا گیا تھا۔
انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کو جو بنیادی کام اور ذمے داریاں تفویض کی گئیں ان میں سندھ کی تاریخ کے تمام کتب و مخطوطات کو اکٹھا کرنا اور تحقیق کے لئے موزوں ماحول مہیا کرنا، اہم کتابوں کو دوبارہ چھپوانا، سندھ کے بارے میں دنیا بھر میں موجود قلمی مواد کو اکٹھا کرنا اس کو کھنگالنا، ان کتابوں کے سندھی زبان میں تراجم کرنا، سندھی کتابوں کے دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنا، سندھ کی لوک اور فوک موسیقی کا مرکز بنانا، آلہ موسیقی سے لے کر خوبصورت آوازوں کو آڈیو وزیوئل لائبریری میں سنبھال کر رکھنا، سندھی دستکاری، ہینڈی کرافٹس، فنون اور دوسری روایتی اشیاء کو اکٹھا کرنا تھا۔ ساتھ ہی ”انتھروپولوجیکل ریسرچ سینٹرل میوزیم“ بنانا عظیم کامیابی تھی۔ جس میں سندھ کے سندھ کی ثقافت کو زندہ صورت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں ثقافتی کھیل، قوم کی مختلف برادریوں کے کام، مزاج، رہن سہن اور چیزوں کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
سندھیالوجی کے دیگر اہم ترین حصوں میں آرکیالوجیکل گیلری، ہتھیاروں کی گیلری، ایتھولوجیکل گیلری، جنرل گیلری، ایتھنو میوزیکل اینڈ انسٹرومینٹل گیلری، انڈس پینٹنگ گیلری اور فوٹوگرافکل گیلری شامل ہیں۔ ان میں ہر گیلری اپنی تاریخ رکھتی ہے، خاص طور پر مشاہیر گیلری کا جواب نہیں۔ قوم کو زندہ اور دھرتی سے جڑا رکھنے کے لئے ان کے مشاہیر اور قومی ہیروز آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔ دیکھنے والے لوگ حیران ہو جاتے ہیں کہ مشاہیر گیلری میں سماج کے ہر طبقے کے مشاہیر کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے سندھ، سندھی اور سندھیت کے لئے کوئی بھی کام کیا ہے، خواہ ان کا تعلق ادب، شاعری، حرفت، فن، موسیقی، مذہب، سیاست، تعلیم، سائنس، رقص، میڈیا، ڈرامہ، سفرنامہ حتی کہ کسی بھی فن سے ہو۔ یہ کتنی خوبصورت بات ہے کہ آج بھی آئے روز اس گیلری میں ایک نیا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مشاہیر گیلری میں اس وقت تک سندھ کی 54 اہم شخصیات کی الگ الگ گیلریاں بنائی گئی ہیں، جن میں قائد اعظم محمد علی جناح، سائن جی ایم سید، علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی، خانبھادر حسن علی آفندی، علامہ آء آء قاضی، پہر حسام الدین راشدی، محمد عثمان ڈپلائی، سید غلام مصطفیٰ شاہ، شمشیر الحیدری، ایم ایچ پنہور، علن فقیر، تاجل بیوس، نسیم کرل، شہید فاضل راہو، رئیس شمس الدین بلبل، ابراہیم جویو، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، سہراب فقیر، استاد بخاری، صادق فقیر، عالم چنہ، نثار بزمی اور دیگر مشاہیر شامل ہیں، یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پوری گیلری میں تمام وفات پا چکے مشاہیر کی گیلریاں بنائی گئی ہیں جبکہ سندھ کے مشہور سفرنامہ نویس اور دانشور الطاف شیخ واحد شخصیت ہیں جن کو زندگی میں یہ عزت بخشی گئی ہے کہ ان کی گیلری بنا دی گئی ہے۔
ان گیلریوں کے ساتھ ایک علیحدہ حصہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے وقف ہے جہاں ان کی استعمال شدہ چیزوں اور تاریخی حوالوں کو محفوظ کیا گیا ہے اہم بات یہ ہے کہ اس حصے کے لئے بھٹو خاندان نے خود رقوم مہیا کی ہے۔
سندھیالوجی کی لائبریری بھی کمال ہے جہاں صرف سندھ کے موضوع پر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں اور تیس ہزار سے زیادہ جرائد و اخبارات بھی موجود ہیں، وہاں تحقیق کے لیے علحدہ سیکشن بنایا گیا ہے، ساتھ ہی بیورو آف ٹرانسلیشن، پروڈکشن اینڈ اسکیننگ سیکشن نے سندھ کے مشہور ترین ادارے ”ایم ایچ پنہور انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ“ کے ساتھ مل کر لائبریری کا تمام رکارڈ ڈجیٹل کیا جا رہا ہے۔
سندھیالوجی کے ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ سیال کا کہنا ہے کہ ”انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی اور“ ایم ایچ پنہور انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ ”مل کر جو عظیم کام کرنے جا رہے ہیں اس سے سندھیالوجی کا دنیا بھر کے ثقافتی اداروں کے ساتھ ایک رابطہ ہو جائے گا جس سے پوری دنیا اگر کوئی بھی یونیورسٹی، ادارہ یا فرد سندھ پر تحقیق کرنا چاہے گا اس کو ایک کلک پر تمام مواد میسر ہو جائے گا اسی طرح سندھیالوجی بھی دنیا بھر کے تحقیقی اداروں سے منسلک ہو جائے گا۔“
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ سندھیالوجی میں جو اہم کام ہونے جا رہا ہے وہ آڈیوز وزیوئل سیکشن کو بھی ڈجیٹلائیز کرنا ہے، ہم 1831 سے زیادہ گراموفونز اور ہزاروں کیسٹس میں موجود ہزاروں آوازوں کو ڈجیٹلائیز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، ساتھ ہی سندھ کے سینکڑوں مشاہیر کے انٹرویوز اور تقاریر کو بھی محفوظ کرنے کا پلان کر رہے ہیں، سندھیالوجی کی ویب سائٹ، سوشل میڈیا اکاؤنٹ، یوٹیوب چینلز بھی بھی کام ہو رہا ہے، جو یقینی طور پر ایک انقلاب ہو گا۔ ”
یہ سارے پراجیکٹ مکمل ہونے میں ابھی ایک اور مشکل ہے، وہ یہ کہ گزشتہ کئی برس سے سندھیالوجی جیسے خودمختار ادارے کی خودمختاری ختم کر کے اس کے فنانس سیکشن کے ہوتے تمام مالی معاملات اور ادارے کے ڈائریکٹر کے موجودگی میں ادارتی معاملات یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے حوالے کیے گئے ہیں، اور وی سی کو خود اپنے کام سے فرصت نہیں اور نہ ہی سندھیالوجی میں کوئی دلچسپی ہے۔ ایسے میں یہ ادارہ اپنی شایان شان وقعت اور اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سندھیالوجی کی سربراہی کے لئے ہمیشہ علم و ادب، بولی و ثقافت کے ماہرین ہونے کے ساتھ ساتھ خاص طور پر سندھ اور سندھیت سے عشق کرنے والوں کو چن کر رکھا گیا ہے، اس وقت تک اس ادارے کے سربراہ کے طور پر ڈاکٹر غلام علی الانا، مہتاب اکبر راشدی، عبدالقادر جونیجو، شوکت حسین شورو، محمد قاسم ماکا اور ڈاکٹر اسحاق سمیجو صاحب اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں۔ اس وقت بھی موجود ڈائریکٹر کو مکمل با اختیار بنائے بغیر ادارے میں بہتری آنا مشکل ہے۔
سندھ میں اکثر لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا ملک کی بدلتی صورتحال میں انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کو اس وقت پھر کسی طرف سے مشکل یا 60 کی دہائی والی صورتحال کا سامنا تو نہیں ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سندھ کو کبھی بھی آسان صورتحال نہیں ملی، مگر جو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ”قوموں کے لئے مشکل وقت ہی بہترین وقت ہوتا ہے وہ مشکل صورتحال میں اور زیادہ اچھا کام کر سکتی ہیں۔“ سندھیالوجی اس وقت پھر سے ایک سخت مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہے، خاص طور پر اس خودمختار ادارے کی خودمختاری مکمل طور پر ختم کی گئی ہے، انسٹیٹیوٹ ہونے کے باوجود ادارے کے تمام اختیارات ادارے کے ڈائریکٹر کے بجائے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے حوالے ہیں جس کے پاس وقت ہی نہیں، فنانس جیسا اہم شعبہ جو ہمیشہ سے انسٹیٹیوٹ کے پاس رہا اور رہنا چاہیے اب اس کو بھی یونیورسٹی کا فنانس ونگ دیکھتا ہے، اس شاندار ادارے کو تنخواہوں کے علاوہ دیگر مد میں فنڈز نہ ہونے کے برابر دیے جاتے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ کی عمارت گزشتہ برسات اور سیلاب میں بہت متاثر ہوئی ہے مگر اس کی مرمت پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا، ادارے کے سیکشنز کمزور مالی صورتحال کے سبب اپنے ہی بنائے گئے پراجیکٹس پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔
سندھ سرکار کو چاہیے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس خواب کو رائگاں ہونے سے بچانے کے لئے خاص اور بروقت اقدامات اٹھائے، ادارے کو مکمل خودمختار بنایا جائے، خاص طور پر فنڈز مہیا کیے جائیں، اس شاندار اور پرشکوہ عمارت کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں، ادارے کے تمام پراجیکٹ کو عملی صورت دینے کے لئے اس کا اپنا فنانس ونگ خودمختار، فعال اور مضبوط بنایا جائے۔ ساتھ ہی سندھ کی سول سوسائٹی کو چاہیے کہ سندھی ادبی بورڈ کی طرح سندھیالوجی کی اہمیت کے پیش نظر اس ادارے کو مکمل خودمختاری بنوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ کیونکہ سندھ کے قومی، تہذیبی اور ثقافتی تشخص کے مخالف اس وقت کسی نہ کسی صورت اس ادارے کو پھر سے تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔



