ذیابیطس اور دل کو لاحق خطرہ
لکھاری: ڈاکٹر سعدیہ اعظم اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا
ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے جس کو اگر کنٹرول میں نہ رکھا جائے تو اس کی شدید پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ ان پیچیدگیوں میں اندھا پن، گردوں کی بیماری، نیوروپیتھی، دل کے دورے اور فالج شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا کے بالغوں اور بچوں میں ذیابیطس کا مرض روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ذیابیطس صرف امیر اور کھاتے پیتے یا بوڑھے لوگوں کی بیماری ہے لیکن آج یہ بیماری نوجوان بالغوں حتیٰ کہ بچوں اور نوعمروں میں بھی نظر آتی ہے۔
پچھلے ہفتے، ایک جنوب ایشیائی تیس سالہ شخص اپنی لیب کی رپورٹس لے کر میرے کلینک میں دکھانے آئے۔ ان صاحب کو کوئی تکلیف نہیں تھی اور یہ چیک اپ ان کی انشورنس کمپنی نے کروائے تھے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کو کتنے پیسوں میں انشورنس بیچنی ہے؟ جو شخص جتنا بیمار ہو اس کی اتنی ہی مہنگی انشورنس ہوتی ہے۔ ہیموگلوبن اے ون سی نو فیصد آئی تھی۔ ان رپورٹس کو پڑھنے کے بعد میں نے انہیں بتایا کہ انہیں ذیابیطس ہے۔ وہ حیران اور پریشان نظر آئے اور انہوں نے ایک ہی وقت میں مجھ سے کئی سوالات پوچھنا شروع کر دیے، کیا ذیابیطس کا علاج ممکن ہے؟ اگر میں آج سے صحت مند طرز زندگی شروع کروں تو کیا ذیابیطس معمول پر آ سکتی ہے؟ کیا دوائیں لازمی ہیں، کیا ہم اچھی خوراک اور ورزش سے ٹھیک کر سکتے ہیں؟
ذرا تصور کریں کہ ایک تیس سالہ شخص جس کی ابھی چند سال پہلے ہی شادی ہوئی ہے، اس کی بچی بھی صرف دو سال کی ہے اور اس نے ایک نئے شہر میں نوکری شروع کی ہے، وہ یہ جان کر کتنا پریشان ہو گا کہ اسے ایک سنجیدہ بیماری لاحق ہے۔ اس کے پاس مستقبل کے بہت سے منصوبے ہوں گے۔ وہ سب کچھ کیسے سنبھالے گا؟ یہ مضمون پڑھنے والے افراد ذرا غور کریں کہ آپ میں سے کتنے لوگ باقاعدہ چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں؟ کتنے لوگ خون کے ٹیسٹ کرواتے ہیں جب تک کہ کوئی وجہ نہ ہو؟
یہ نوجوان خوش قسمت تھے کہ ان کو شروع میں ہی معلوم ہو گیا۔ کتنے لاکھوں افراد دنیا میں ایسے ہیں جن کو ذیابیطس ہے لیکن وہ اس سے انجان ہیں۔ کافی مریضوں کو ذیابیطس کے بارے میں اس وقت پتا چلتا ہے جب ان کو اس کی کوئی جلد ہونے والی یا طویل عرصے میں لاحق ہونے والی پیچیدگی سے پالا پڑا ہو۔ کچھ افراد کو اس وقت یہ ایک تلخ حقیقت کے طور پر معلوم ہوتا ہے جب چیزوں کو معمول پر لانے میں دیر ہو جاتی ہے۔
آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بعض سرگرمیوں اور دلچسپیوں نے انسانی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے جیسا کہ کثرت سے فاسٹ فوڈ کھانا، متحرک رہنے کے بجائے کمپیوٹر اسکرین پر وقت گزارنا، رات دیر تک جاگنا وغیرہ۔ اس تیز رفتار زندگی میں پیش آنے والے ذہنی صحت کے مسائل جیسے بے چینی، اور ڈپریشن وغیرہ جدیدیت کی پیداوار تو نہیں سمجھے جا سکتے لیکن ان میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنا بہت مشکل ہے اس لیے حفاظتی تدابیر اور بھی اہم ہیں۔
ہمارے نوجوان مریض کی مثال لے لیں۔ اگر انہوں نے ابھی اپنی بیماری کا مناسب علاج نہیں کروایا تو اگلے چند سالوں میں انہیں دل کے دورے سے مرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ اس صورت میں ان کے خاندان پر اس بات کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا آپ نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ آج کل کتنے نوجوان آدمیوں کو اچانک دل کے دورے پڑ رہے ہیں؟ اپنے گردونواح میں نظر ڈالیں ؛ آپ کے بہن بھائی، کزن، دوست، یا دفتری کارکن۔ جنوب ایشیا میں طرز زندگی، ماحول اور جینیات کی وجہ سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہم سب کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیوں اور باقاعدگی سے صحت کی جانچ کی ضرورت کو سمجھنا اشد ضروری ہے۔ جب میں نے ان نوجوان مریض سے ان کی طرز زندگی کے بارے میں سوالات پوچھے تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ورزش کرنے کا بالکل وقت نہیں ہے۔ وہ اکثر سفید آٹے کے بنے ہوئے نان اور نہاری وغیرہ کے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ تناسب کے لحاظ سے ان کی غذا متوازن نہیں ہے۔ ان کو کاربوہائیڈریٹ، پروٹین اور چکنائیوں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہر ڈاکٹر مختلف ادویات تجویز کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ الجھن کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے وہ ڈاکٹروں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان صاحب کو جب ہم نے ذیابیطس کی تعلیم فراہم کرنے والے سینٹر میں بھیجا تو وہاں تین کلاسیں لینے کے بعد ان کو کافی ڈھارس بندھی اور ان میں ان مسائل سے نبردآزما ہونے کی نئی ہمت پیدا ہوئی۔ ان مریض نے مناسب دوا لینا شروع کی اور اپنی خوراک میں کچھ بنیادی تبدیلیاں پیدا کیں جیسا کہ انہوں نے بھوسی نکالے ہوئے آٹے کا استعمال ختم کر دیا، گھی کے بجائے سرسوں یا مونگ پھلی کا تیل استعمال کرنا شروع کیا اور اپنی خوراک میں سبزیوں، دالوں اور پھلوں کا اضافہ کیا۔ انہوں نے ایک دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی پینا شروع کیا اور تیس سے چالیس منٹ ہلکی پھلکی چہل قدمی شروع کی۔
کل، جب وہی مریض دو ماہ بعد میرے کلینک میں واپس آئے تو مجھے ان کی اگلی لیب کی رپورٹس دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ان کے کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں بہتری آئی تھی۔ ان کا وزن کم ہو گیا تھا اور اب انہیں دوائیوں کی کم خوراک کی ضرورت تھی۔ چونکہ وہ کم سے کم ممکنہ دوائیں لینا چاہتے تھے، وہ باقاعدگی سے ورزش اور صحت بخش خوراک پر توجہ دے کر اپنے مقصد تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہ خود ارادیت اور حوصلے کی ایک بہترین مثال ہے۔
ہمیں تمام جنوبی ایشیائی باشندوں میں اسی رویے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بیماریوں سے لڑ سکیں اور طویل عرصے تک صحت مند رہ سکیں۔ ان نئے مریض کی طرح ہی اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنے روزمرہ معمولات میں مصروف ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ انہیں ذیابیطس کا خطرہ لاحق ہے۔ اس لیے یہ مضمون پڑھنے والے تمام قارئین سے گزارش ہے کہ سال میں کم از کم ایک بار اپنے ڈاکٹر سے ملیں اور علاج کے اہداف بنائیں تاکہ آپ ہونے والے مسائل کی پیش گوئی کر کے ان سے خود کو بچا سکیں۔

