نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ’کیا عدلیہ کوئی ضمانت دے گی؟
ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحران سے نجات کس طرح ممکن ہوگی، کیا سیاست دانوں میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ ریاست کو اس سنگین بحران سے نکال سکے اور خود کو ”نجات دہندہ“ ثابت کرسکے جبکہ اس کے سر پر دو دھاری تلوار بھی لٹک رہی ہے یعنی اسے بیک وقت عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عدالتی اسٹیبلشمنٹ کا بھی سامنا ہے۔ ایک زمانے سے سیاست دان محض عسکری اسٹیبلشمنٹ کے دکھ میں مبتلاء تھے اور اب اسے عدالتی اسٹیبلشمنٹ کا غم بھی لاحق ہو گیا ہے۔
پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ آ چکا ہے جسے مخلوط حکومت کی طرف سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ اب کیا ہو گا اس حوالے سے فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن اس سوال کے جواب کی تلاش میں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اگر معزز عدلیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کی فضاء قائم رہتی ہے تو یقیناً اس کے نتیجے میں ملک میں ”ایمرجنسی“ اور ”نظریہ ضرورت“ جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
جہاں تک ریاستی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات ہے تو یہ محض خام خیالی اور دیو مالائی جیسے تصورات معلوم ہوتے ہیں کیونکہ 1973 کے آئین کی پامالی دو فوجی ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں اور عدلیہ کی جانب سے ایسی غیر آئینی اور ناجائز حکومتوں کو نظریہ ضرورت کے تحت تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ کیا اب بھی عدلیہ کی طرف سے ایسا کیا جانا ممکن ہے اس حوالے سے عدلیہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ ریاست میں اس وقت دو مختلف نوعیت کی اسٹیبلشمنٹ پائی جاتی ہے جو بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ دکھائی نہیں دیتی لیکن یہ غیر سیاسی قوتیں اپنے مزاج اور رویے کی بنیاد پر پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو سے زیادہ با اختیار نظر آتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ کہا جاسکتا ہے پاکستان میں بھی ”بنگلہ دیش“ جیسا کوئی ماڈل ظہور پذیر ہونے جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان کسی بھی وقت کوئی نیا سماجی و سیاسی تنازعہ جنم لے سکتا ہے اور اس طرح کی صورتحال میں جنم لینے والے ممکنہ تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایسے میں یقیناً سیاست دانوں کو ہی اپنا غیر معمولی کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا سیاست دانوں سمیت ریاست کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ”معاملات“ اسی تناظر میں دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ محض عام انتخابات اور نئی حکومت کی تشکیل سے ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحران کا حل تلاش کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ وسیع پیمانے پر ان معاملات کو پرکھنے کی ضرورت ہے جو حالیہ بحران کی وجہ بنے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے ہی سیاسی طور پر اس طرح کی غلطی کرتے آئے ہیں جس طرح کی آج کر رہے ہیں۔
اسباب اور سد باب میں ہمارا جھکاؤ یقیناً سدباب کی طرف ہوتا ہے لیکن کیا اسباب جانے بغیر سدباب ممکن ہے۔ اسی روش اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سیاسی و آئینی معاملات عدلیہ کی دہلیز سر جھکائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ آج عدلیہ کی طرف سے ہر طرح کے سیاسی و آئینی معاملے میں سیاست دانوں سے ”تحریری ضمانت“ مانگی جاتی ہے۔ کیا کبھی ایسا ہو سکتا کہ پارلیمنٹ بھی اپنی کسی ”قرارداد“ کے ذریعے عدلیہ سے اس بات کی تحریری ضمانت مانگے کہ وہ آئندہ کسی بھی غیر آئینی اور ناجائز حکومت کو ”نظریہ ضرورت“ کے لبادے میں پناہ نہیں دے گی۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کو ممکن بنائیں جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیا معزز عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان اس حوالے سے اپنا کوئی غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کر سکتے ہیں تو فوراً انھیں ”بسم االلہ کرنی چاہیے، نہیں تو پھر سیاسی لڑائیوں کو پارلیمنٹ تک ہی محدود رہنے دینا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ایک ساتھ بیٹھ کر ”مکالمہ“ کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں، کیا اس طرح کے مکالمہ کے لیے پارلیمنٹ بہترین اور قابل احترام فورم نہیں ہے۔
یقیناً ہے ایسا ہی ہے لیکن ایسی سیاسی وقتوں کے حوالے سے کس طرح کی رائے قائم کی جائے جو پارلیمنٹ کو محض اقتدار میں آنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں جبکہ دوسری صورت میں وہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے کی بجائے استعفے دینے یا انھیں تحلیل کرنے کو اہمیت دیتی ہے۔ اس طرح کی سوچ اور روش کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے اس طرح کی سوچ کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی بات ہے تو اس فیصلے میں مذکورہ سوچ اور روش کو سرے سے ہی نہیں پرکھا گیا بلکہ معزز عدلیہ کے اس فیصلے سے ”سولین ڈکٹیٹر شپ“ کی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے۔ اس بحث کے دوران یقیناً ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے عمل میں یقیناً بہت زیادہ تشنگی رہ گئی ہوگی لیکن بات کسی حد تک مکمل ہو گئی ہوگی جو کرنا مقصود تھی۔


