موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

ممتاز شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا ”کلیجہ پُھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری“ بس کچھ ایسا ہی وقت مجھ پر بھی آن پڑا ہے کہ یہ حقیقت کس طرح سے تحریر کروں کہ میرے بڑے بھائی، جانی دوست، استاد اور عظیم صحافی جناب نعیم اللہ خان صاحب، اب ہم میں نہیں رہے، انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ عاشورہ ( 10 محرم الحرام ) بتاریخ 6 جولائی 2025 کی صبح مجھے جناب نعیم اللہ خان صاحب

Read more

عمران خان کے خطوط اور آرمی چیف کا اہتمامِ حجاب!

کیا آپ ایسے جواب کے منتظر ہیں جو عموماً ڈاکٹر ”مریض کے تیمارداروں“ کو دیتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ خط لکھتے جائیں، کبھی تو ایسا ہو گا کہ ”جواب“ آ جائے۔ جواب تو جو بھی ہو بہر حال جواب ہی ہوتا ہے لیکن جواب کی نوعیت یہ طے کرتی ہے کہ معاملہ کہاں جا کے رُکا ہے۔ سابق وزیر عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو پے در پے تین خط لکھے گئے

Read more

سائیں جی ایم سید اور سندھی قوم پرستی کا المیہ

سنسکرت میں ”مارو“ ریگستان کو کہا جاتا ہے اور ریگستانی علاقے کا نام بھی اسی وجہ سے ”مارواڑ“ پڑا تھا جسے اب راجستھان اور مغلیہ دور میں راجپوتانہ کہا جاتا تھا۔ میری چلے تو میں سائیں جی ایم سید کو ”ریگستان کا عاشق“ تحریر کروں، یعنی ”مارو ڈھولا“ سے تعبیر کروں جو دھرتی کا سچا عاشق ہی نہیں بلکہ دھرتی کا ”امین“ بھی تھا۔ سندھ کو نئی پہچان دینے اور اس کی قومی شناخت کو منوانے میں سائیں جی ایم

Read more

جون ایلیا کی شاعری میں پاکستانی سیاست کا المیہ

فوضوی شاعری جون ایلیا کے ان دو اشعارسے مضمون کا ابتدائیہ ہے کہ منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گُم ہوئی سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گُم ہوئی وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گُم ہوئی پاکستانی سیاست کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ نظریاتی اور فکری اعتبار سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ایک بھی ایسی جماعت نہیں ہے جسے

Read more

پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں

ہمیں کچھ عارضے ایسے لاحق ہوتے ہیں کہ ہم اپنے من چاہے پکوان نہیں کھا سکتے بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم مشروبات کا پرہیز کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں، ایسے میں اگر یہ بھی ہو جائے کہ سادہ پانی بھی ممنوع قرار پائے تو پھر سوچیئے کہ آپ پر کیا گزرے گی اور آپ کسے پکاریں گے۔ ایسی ہی مشکل زندگی سے اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک شفیق دوست نبرد آزما ہیں۔ گزشتہ

Read more

کیا مروجہ سیاسی نظریات کو چیلنج کیا جاسکتا ہے؟

برصغیر کے ممتاز شاعر اسرار الحق مجاز نے کہا تھا۔ کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہے بتاؤں کیا تمھیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہے ریاست سیاسی و معاشی عدم استحکام کا شکار ہے، سماجی بگاڑ بڑھتا جا رہا ہے، ایسا ہے کہ ملک میں کوئی بھی چیز اپنے ٹھکانے پر نہیں ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا روتے روتے آنکھیں پتھریلی ہو چکی ہیں۔ تعلیم تجارت بن گئی ہے تو صحت عامہ اور علاج

Read more

ٹیکس کی بھرمار سے افلاس زدہ سماج ہی جنم لیتے ہیں!

ہم بطور پاکستانی شہری کس بات پر فخر کرتے ہیں اور کیوں کرتے ہیں؟ کیا محض اس بات پر کہ پاکستانی ریاست ”ایٹمی طاقت“ کا حامل ایک ملک ہے جو اسے دیگر اسلامی ممالک میں نمایاں مقام دیتا ہے۔ یا پھر اس بات پر کہ اسے ایک ”اسلامی فلاحی ریاست“ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اسلام کے عروج کے ابتدائی زمانے میں ”ریاست مدینہ“ کی بنیاد رکھی گئی جو کہ خالصتاً عام آدمی کے اعتبار سے ایک ”ٹیکس فری“ ریاست تھی

Read more

پاکستان میں دہشت گردی کا بیج کیسے بویا گیا؟

بلاشبہ پاکستانی ریاست سیاسی اور معاشی اعتبار سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے تو سابق ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت پیش آئے گی اور اس کے بعد دوسرے سابق ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومتی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ آج ریاست کو اندورنی اور بیرونی دہشت گردی کا سامنا ہے اور

Read more

سندھ کے حکمران راجہ داہر پر عرب نے جنگ مسلط کیوں کی؟

سندھ کی قدیم تاریخ اور تہذیب پر تحریر کرنا ایک دشوار کام ہے جبکہ اس کی قدیم سیاسی تاریخ پر قلم اٹھانا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب معاملہ سندھ کے حکمران راجہ داہر اور عربی اموی سپہ سالار محمد بن قاسم کے درمیان تقابلی جائزے کا ہو۔ یہ تقابلی جائزہ عموماً حق و باطل کے تناظر میں کیا جاتا ہے جو کہ قطعاً مناسب نہیں ہے۔ معاملہ تو محض وطن پرستی اور مذہبی عقیدت مندی کا ہے لیکن اس

Read more

عرب میں بطور چیلنج خانہ کعبہ پر لٹکائے گئے شاہکار قصیدے (سبعہ معلقات) دوسرا حصہ

مضمون کے آخری حصے میں سبعہ معلقات کے شعراء کا تعارف اور ان کے کلام کے موضوعات کا مختصراً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سبعہ معلقات کے پہلے شاعر ”امرؤ القیس (م 539 ) کا پورا نام ابو الحارث حندج بن حجر الکندی تھا یہ نسلاً قحطانی تھا اسے الملک الغلیل یعنی گمراہ بادشاہ اور ذوالقروح یعنی زخموں والا بھی کہا جاتا تھا۔ امرؤ القیس نے شاعری میں بعض ایسی اصناف اور موضوعات متعارف کروائے جس کی مثال اس سے

Read more

عرب میں بطور چیلنج ”خانہ کعبہ“ پر لٹکائے گئے شاہکار قصیدے (سبعہ معلقات) پہلا حصہ

عربی زبان و ادب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں عہد جاہلیت کی شاعری خصوصاً سبعہ معلقات کو انتہائی منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ سبعہ معلقات ان سات قصائد کو کہا جاتا ہے جنہیں اظہار مقبولیت ’شہرت کی غرض سے اور چیلنج کے طور پر خانہ کعبہ پر لٹکایا گیا تھا۔ معلقات کا مطلب بھی لٹکایا جانا ہے۔ سبعہ معلقات پر مزید تحریر کرنے سے پہلے عربی زبان و ادب کی تاریخ پر مختصراً نظر ڈالنا

Read more

ہمارے مرنے پر ایک تعزیتی جلسہ، ارے وہ بھی نہیں!

گزشتہ شب ایک خواب میں خود کو مردہ پاتا ہوں اور مرنے کے بعد اس سوچ میں ہوں کہ کیا میرے بعد دوست یاروں نے میرے لیے کوئی تعزیتی جلسہ بھی کیا ہے یا نہیں، یا پھر کسی جگری نے مجھ پر یادِ رفتگاں بھی لکھا ہو گا یا نہیں۔ میں خود کو جنت اور جہنم کے درمیانی راستوں میں پاتا ہوں کہ اتنے میں مجھے اپنا ایک دوست نظر آتا ہے اور میں اس سے پوچھتا ہوں کہ۔ ابے

Read more

آہ کہ اب وہ نگاہ ہائے سایہ شجر نہیں رہیں

شاعر منور رانا نے کہا تھا گھیرنے کو مجھے جب بھی بلائیں آ گئیں ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آ گئیں لیکن میں اب اس ڈھال اور دعاؤں سے محروم ہو چکا ہوں۔ 18 اور 19 جنوری 2024 کی درمیانی شب میری والدہ ماجدہ ؒدنیائے فانی سے رخصت ہو گئیں۔ بلا شبہ ہم سب کو اک دن مٹ جانا ہے، جس مٹی سے ہم تخلیق ہوئے و ہی ہمیں نگل بھی جائے گی۔ میں سفر میں تھا کہ

Read more

عام انتخابات 2024، ایک عوامی ریفرنڈم مگر کس کے خلاف؟

عام انتخابات 2024 کے انعقاد کے بعد ملک میں حکومت سازی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اس بار بھی 2018 کے عام انتخابات کی طرح کوئی بھی سیاسی جماعت سادہ اور واضح اکثریت سے کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے، لہذا ایسے میں مخلوط حکومت کی تشکیل ریاست کا مقدر ٹھہرا ہے۔ 8 فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کے عمل میں برتی گئی تاخیر کی وجہ سے انتخابات کی شفافیت مشکوک ہو کر رہ گئی

Read more

دیسی چکن، دیسی گھی میں بھنا مٹن۔ لفنگی سیاست، بدمعاش معیشت

سابق وزیر اعظم عمران خان مختلف مقدمات میں اٹک جیل میں قید ہیں، دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو یہ فکر لاحق ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کو جیل میں سہولیات دی جا رہی ہیں یا نہیں جبکہ ان سہولیات میں کھانے پینے کی سہولتیں سر فہرست ہیں۔ یہ پاکستانی ریاست کی تصویر کا ایک رخ ہے کہ ریاست کے منصف اعلیٰ جیل میں قید ایک سابق وزیر اعظم کی

Read more

آئین کی گولڈن جوبلی اور ”لے پالک اشرافیہ“ یعنی پراپرٹی مافیا

ہم ریاستی آئین کی گولڈن جوبلی منانے جا رہے ہیں، ایک ایسے آئین کی جسے دو بار بوٹوں تلے روندا گیا۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ملک پر مارشل لاء مسلط کرتے ہوئے نظام حکومت اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اسی طرح 1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کو چلتا کرتے ہوئے

Read more

نظریہ ضرورت دفن ہو چکا ’کیا عدلیہ کوئی ضمانت دے گی؟

ملک کو درپیش سیاسی و معاشی بحران سے نجات کس طرح ممکن ہوگی، کیا سیاست دانوں میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ ریاست کو اس سنگین بحران سے نکال سکے اور خود کو ”نجات دہندہ“ ثابت کرسکے جبکہ اس کے سر پر دو دھاری تلوار بھی لٹک رہی ہے یعنی اسے بیک وقت عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ عدالتی اسٹیبلشمنٹ کا بھی سامنا ہے۔ ایک زمانے سے سیاست دان محض عسکری اسٹیبلشمنٹ کے دکھ میں مبتلاء تھے اور اب اسے

Read more

کیا ریاست کا مستقبل نئے سماجی معاہدے کا تقاضا کرتا ہے؟

ریاست کو درپیش سیاسی و معاشی بحران حل ہونے کی بجائے مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ کو بھی غیر معمولی تنقید کا سامنا ہے جبکہ پارلیمنٹ کی بالا دستی بھی سوالیہ نشان کی زد میں ہے۔ ملکی سیاست میں عسکری اسٹیبلشمنٹ کے بعد پہلی بار عدالتی اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح بھی استعمال ہونے لگی ہے۔ ایسا کیوں ہے اور کیوں کر عدلیہ کے کردار کو متنازعہ اور مشکوک بنایا جا رہا ہے اس سوال

Read more

جمہوریت کیسی ’کہاں کی سیاست!

آزادی اور غلامی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ آزادی اپنے راستوں اور منزل کا تعین کرتی ہے جبکہ غلامی کارواں اور منزل کا ایندھن ہوا کرتی ہے۔ ریاستوں کی تشکیل میں غلاموں کا کردار تو ہوتا ہے لیکن یہ ریاستیں غلاموں کے لیے نہیں ہوتی، ریاستیں آزادی کے بطن سے جنم لیتی ہیں اور آزادی کے لیے کسی نظریے کا ہونا ضروری ہے۔ آزادی اور غلامی کا یہاں جو بنیادی فرق بیان کیا گیا ہے وہ خالصتاً میری ذہنی

Read more

چائے کا بیٹا

2737 قبل مسیح کے چینی بادشاہ شین ننگ کے حوالے سے ایک قصہ منسوب ہے کہ وہ کسی باغ میں بیٹھے تھے اور اپنے کارندوں سے کہا کہ وہ اس کے لئے ایک پیالے میں ابلتا ہوا پانی لے کر آئیں تاکہ وہ اسے پی سکے جب پیالہ چینی بادشاہ کے ہاتھ میں دیا گیا تو اسی دوران کسی پودے کے چند پتے ہوا میں اڑتے ہوئے اس پیالے میں آگرے اور ایسے میں بادشاہ کیا دیکھتا ہے کہ ان

Read more

کراچی کا مقدمہ۔ (دوسرا حصہ )

کراچی کے عوام کو پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور دیگر مسائل کا سامنا بھی ہے جن میں اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر جرائم جیسے مسائل شامل ہیں۔ اس وقت کراچی میں سیاسی قیادت کا فقدان بھی موجود ہے۔ حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) ، جماعت اسلامی، مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم حقیقی ) ، پاک سرزمین پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت

Read more

کراچی کا مقدمہ۔ پہلا حصہ

کہا جاتا ہے کہ کراچی تباہی کے دہانے پر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی تو کب کا تباہ ہو چکا ہے اور کراچی کے شہری ایسے کھنڈرات پر زندگی بسر کر رہے ہیں جس کے نشانات جاتے جاتے ہی جائیں گے۔ کراچی کیوں اور کیسے تباہ ہوا؟ اس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں لیکن یہ تاریخ کا پہلا شہر ہے جس کی تباہی کے اسباب میں ”سیاسی سبب“ سر فہرست ہے۔ جہاں تک کراچی کے سماجی بگاڑ

Read more

لانگ مارچ : ”آشیر باد“ سے ”اظہار بیزاری“ تک!

پاکستانی سماج سیاسی اعتبار سے اس قدر بانجھ ہو چکا ہے کہ یہاں انقلاب ہی نہیں بلکہ انقلاب برپا کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والا ہر ممکن سیاسی عمل بھی ”سطحیت“ اختیار کر گیا ہے۔ سیاسی تاریخ کا مطالعہ ہم پر یہ واضح کرتا ہے کہ احتجاج کے کئی رنگ اور ڈھنگ ہوتے ہیں لیکن اس سے پہلے مکالمہ ہوتا ہے اور اس کی ناکامی کے بعد الٹی میٹم دیا جاتا ہے، اگر اس سے بھی بات نہ بنے

Read more

رشتوں کے تقدس کی پامالی میں ڈرامہ انڈسٹری کا کردار!

ہم تیزی سے سماجی بگاڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا سماج بگاڑ کا شکار کیوں ہے اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اس کی ایک بڑی وجہ رجحانات میں ’اصلاحی پہلو‘ کو نظر انداز کیا جانا بھی ہے۔ سماج کی مثالی روایات اور اقداریں دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں اور خاندانی نظام پاش پاش ہوتا جا رہا ہے جبکہ رشتوں کی پامالی اس قدر عام ہو گئی ہے کہ اب رشتے ادب و آداب

Read more

میں بھی سقراط ہوں

حقیقت پسندی اور انصاف پسندی، یعنی حق گوئی کی پاداش میں کیا مجھے میں بھی ”زہر کا پیالہ“ پینا ہو گا۔ جیسا کہ قبل مسیح کے عہد میں ایک یونانی سنگ تراش کے بیٹے عظیم فلسفی سقراط نے زہر کا پیالہ نوش کیا تھا۔ افلاطون، ارسطیفوس، الکبیدش اور اینتی شینز جیسے عظیم فلسفیوں کے لیے استاد اعظم کا درجہ رکھنے والے سقراط نے یوں تو بہت سے اچھوتے تصورات اور خیالات دنیا کے سامنے پیش کیے لیکن ان کے نظریات

Read more

بپھرتے ہوئے دریا اور نوجوان عاشق کا غم

سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اس کا اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں جیسا کہ عرف عام میں بیان کیا جا رہا ہے۔ سیلاب بہت کچھ بہا کر لے گیا ہے، انسانی جانیں نگل گیا ہے، بے گھر کر گیا ہے، بھوک و افلاس میں مبتلا کر گیا ہے، مایوسی اور محرومی سے دو چار کر گیا ہے، یہ کہ ہر شے پانی پانی کر گیا ہے۔ خیالات، تصورات جذبات اور احساسات کی دنیا پانی پانی ہو رہی ہے، یعنی

Read more

پاکستان میں اخباری کارکنان کی تنخواہیں اتنی کم کیوں ہیں؟

پاکستانی صحافت سے وابستہ اخباری کارکنان اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ پاکستانی سماج میں جہاں دیگر سنگین المیے پائے جاتے ہیں وہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی اخبارات کے کارکنان کی تنخواہیں بہت کم ہے جبکہ اس کے مقابلے میں الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کی تنخواہیں قدر بہتر ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں پاکستانی صحافت میں اخباری کارکنان غیر معمولی طور پر سرمایہ داروں کے استحصالی رویہ کا شکار ہیں۔ اس

Read more

سیاسی کڑھی کے پکوڑوں میں آلو

پاکستانی سیاست جس طرح کے بحران سے دوچار ہے اسے کسی صورت ”سیاسی کھچڑی“ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے ”کڑھی پکوڑے“ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن اس کڑھی کے پکوڑے میں ”آلو“ کی آمیزش بھی کردی گئی ہے اور یہی وہ آلو ہے جو کڑھی پکوڑے جیسے ”زود ہضم“ عظیم سالن کو ”بادی“ بنا دیتا ہے اور ”تیزابیت“ پیدا کر دیتا ہے۔ جیسا کہ قدیم تاریخ میں لکھا ہے کہ کڑھی کے سالن کی ابتدا ء ”راجھستان“

Read more

چانکیہ کا ”آخری آپشن“ اور ایک یہ آپشن

ریاستی سطح پر جب معاملات ”آخری آپشن“ تک پہنچ جائیں تو یہ اس امر کی غمازی ہیں کہ ریاست تیزی سے ناکامی کی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ”آخری آپشن“ کے حوالے سے کچھ بیان کیا جائے اس سے پہلے قدیم تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کرتے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند یعنی متحدہ ہندوستان کے قبل مسیح کے ممتاز فلسفی، ماہر سیاسیات و معاشیات سمیت درجنوں علوم کے

Read more

سیاست جھوٹی اور مسائل حقیقی

ہم ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں جھوٹ کو پذیرائی ملتی ہے اور حقیقت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سماج میں سیاست جھوٹی ہوتی ہے اور مسائل حقیقی ہوتے ہیں لیکن سیاسی چلن ایسا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے اس پر سیاست در سیاست کی جاتی ہے۔ اگر پاکستانی سماج سے مسائل کا خاتمہ ہو جائے تو یقیناً اس سماج میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ یعنی پاکستانی سماج

Read more

ہندوستانی سماج اور عالمی بیگانگی؟

ہندوستان موجودہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا سماج آج بھی ”دیو مالائی“ تصورات میں جکڑا ہوا ہے۔ اس سماج کی سب بڑی خامی انسانوں کی ”ذات پات“ کے نام پر تقسیم ہے۔ ہندوستان میں سماجی سطح پر پائی جانے والی یہ طبقاتی تقسیم تین سے چار ہزاریے سے چلی آ رہی ہے جو انسانوں کے ”کرما اور دھرما“ سے تعبیر ہے۔ کرما یعنی کام اور دھرما کا مطلب فرض سے ہے۔ اس سے پہلے ہندو قوانین پر

Read more

انسانی ذہانت کے تقریباً برابر مصنوعی ذہانت کی تیاری میں کامیابی

کیا سائنس ”انسان“ کو دریافت کر پائے گی، یا پھر وہ ”مصنوعی انسان“ کی تیاری پر ہی اپنا وقت کھپاتی رہے گی، لیکن موجودہ دور میں بات ”مصنوعی ذہانت“ کی تیاری تک پہنچ چکی ہے۔ سائنس ”انسان“ کو اب تک کس قدر کھوج چکی ہے یہ سوال اپنی نوعیت اور مفہوم کے اعتبار سے سائنس سے زیادہ ”فلسفیانہ“ حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں تک انسان کی تخلیق کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ایک زمانے تک سائنس کا ادراک فلسفیانہ

Read more

پاکستانی ڈرامہ سماجی بیگانگی کا شکار کیوں ہیں؟

ایک زمانے تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ”ڈرامہ“ سماج کے عکاس ہوتے ہیں، یعنی سماج کی مثالی روایات اور اقدار کو ڈرامہ کے ذریعے فروغ دیا جاتا تھا جبکہ سماج کی برائیوں اور خامیوں کی نشاندہی کے کر کے اس کے اسباب اور سد باب کو ”موضوع“ بنایا جاتا تھا۔ اس حوالے سے یونانی فلسفی ارسطو نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”بوطیقا“ میں ”ڈرامہ“ کی جو تعریف و تشریح بیان کی ہے وہ آج کے سماج کا ”مقدمہ“

Read more

عمران خان کے بکھرے خیالات کا حتمی ”عنوان“ کیا ہو گا؟

کیا سابق وزیر اعظم عمران خان ”اسلامی انقلاب“ کا نعرہ لگا سکتے ہیں۔ ؟ جی ہاں ایسا ممکن ہے۔ ریاست کو ”ریاست مدینہ“ کے طرز پر ڈھالنے کے دعوے اور نعرے اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں یا نہیں اس بحث سے ہٹ کر اگر بات کو آگے بڑھایا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے بکھرے ہوئے نظریات و خیالات کو اب تک کوئی حتمی ”عنوان“ نہیں دے سکے ہیں جبکہ وہ

Read more

پاکستانی سماج میں ”محنت کشوں“ کی سیاسی شناخت کا مسئلہ!

پاکستان میں محنت کشوں کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جو سرمایہ درانہ اور جاگیردارانہ اشرافیہ کی گرفت میں ہے جو پارلیمان میں ہی نہیں بلکہ بیورو کریسی میں بھی نمایاں پوزیشن رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں روزگار کی فراہمی کی بات تو کی جاتی ہے لیکن محنت کشوں کے لیے کوئی جامع ”فریم ورک“ نہیں دیا جاتا حالانکہ ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے

Read more

اسلامی تاریخ میں مذہبی کارڈ کا پہلا استعمال

سیاست میں انتخابی منشور اور سیاسی ایجنڈوں کی تشہیر کے لیے مہم چلائی جاتی ہیں لیکن سیاست میں کسی ”سیاسی ایجنڈے“ کے لیے ”تبلیغ“ کرنے کی تلقین اس امر کی غمازی ہے کہ سیاسی ایجنڈوں کو ”مذہبی لبادہ“ پہنا کر ایک نئی روایت قائم کی جا رہی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ”مذہبی کارڈ“ کا استعمال نئی بات نہیں ہے لیکن جس انداز اور طرز سے سابق وزیر اعظم عمران خان مذہبی کارڈ کھیل رہے ہیں اس کی مثال پاکستانی سیاسی

Read more

بلوچستان، پاکستان کا معاشی مستقبل

کیا بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ”پسماندگی“ ہے یا پھر کچھ اور مسئلہ ہے جو بیان نہیں کیا جاتا۔ اس بحث سے ہٹ کر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ ”سماجی و معاشی“ نوعیت کا ہے جس سے اس صوبہ کی پسماندگی اور محرومیاں جڑی ہیں اگرچہ بلوچستان کی محرومیوں کا حل ”سیاسی و عسکری انداز“ میں نکالے جانے کی کوششیں ہوتی رہیں ہیں۔ بلوچستان جو رقبہ کے اعتبار سے پاکستان کا سب

Read more

عربی ادب کا ’’ عہد جاہلیت‘‘ اور جون ایلیا

اردو زبان کے وجود میں آنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے کہ یہ کیسے وجود میں آئی اور اس زبان کی تخلیق میں کتنی ہی زبانوں کی آمیزش ہے ۔ جہاں تک عربی اور فارسی کی بات ہے تو ان زبانوں کے الفاظ اردو زبان میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں تاہم اس کے باوجود اردو زبان بولنے کا انداز ’’دیسی ‘‘ طرز میں رہا، یہ غالباً اس لیے ہوا کہ اردو زبان خود کو بر صغیر پاک و ہند کی ریاستی زبانوں کے رنگ میں رنگنے سے باز نہیں رکھ سکی اور ایسا ہونا ایک فطری تقاضا بھی تھا ۔

Read more

پاکستانی سماج کا سیاسی المیہ!

یونان کے عظیم فلسفی ارسطو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے استاد افلاطون کے متفرق مکالمات اور نظریات کو جمع کر کے ایک ”سیاسی ضابطہ اخلاق“ ترتیب دیا تھا جبکہ مغرب کے سیاسی ضابطہ اخلاق کی بنیاد بھی یہی اصول ہیں جو بعد میں جمہوری طرز حکومت کی تشکیل میں رہنما اصول ثابت ہوئے ہیں۔ ارسطو کے سیاسی ضابطہ اخلاق میں سیاست اور اخلاقیات کو لازم ملزوم قرار دیا گیا ہے۔ جس زمانے میں ارسطو یونان

Read more