رمضان کا پیغام اور ہمارا اسراف


خوراک، پانی، مال اور اللہ کی کسی بھی نعمت کے استعمال میں حد سے تجاوز کرنا، میانہ روی کو چھوڑ دینا یا فضول خرچی کرنا اسراف کہلاتا ہے۔ ہمیں اسراف اور کنجوسی دونوں سے بچتے ہوئے توازن اور اعتدال کو قائم رکھنے کا حکم ہے۔ اگر ہم اپنے اخراجات اور اشیاء کا استعمال ضرورت کی جگہ، مناسب مقدار یا تعداد میں، صحیح وقت کا خیال رکھتے ہوئے کریں تو اسراف اور کنجوسی دونوں سے دامن بچا سکتے ہیں۔

اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ نکلو، بیشک اللہ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا
سورۃ الاعراف۔ آیت 31

اسراف دراصل اللہ کی نعمتوں کی نا شکری ہے اور شکر گزاری یا نعمتوں کی قدر کرنا نعمتوں میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں (نعمتوں میں ) ضرور اضافہ کروں گا، اور اگر تم نے ناشکری کا رویہ اختیار کیا تو میرا عذاب بھی انتہائی سخت ہے

سورة ابراہیم ۔ آیت 7
قرآن پاک میں مختلف مقامات پر مسرف کے بارے میں سخت ناراضگی اور سزا کا ذکر ہے۔

تبذیر کو اسلام میں سخت گناہ قرار دیا گیا ہے، اس کے معنی کیا ہیں، مختصر بات کر لیتے ہیں۔ جس طرح اسراف حد سے نکل جانا ہے اسی طرح تبذیر مال اور دولت کے ضیاع اور ان کے غلط استعمال کو کہتے ہیں، یہ دراصل اسراف کی ایک قسم ہے۔

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے
سورة اسراء۔ آیت 27

ہم رمضان کے مہینے کا استقبال تو شاندار طریقے سے کرتے ہیں لیکن اس مہینے کی افادیت، مقصد اور پیغام کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

اسراف کو دیکھنا ہے تو رمضان کی افطاری یا شادیوں کی تیاری دیکھ لیں۔ شادی بیاہ کے انتظامات، رسومات، جہیز اور کھانوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، جس کی استطاعت نہ ہو، لوگ یا حالات اسے بھی مجبور کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ضرورت سے زیادہ کھانے پکا کر ان کا ضیاع کیا جاتا ہے، خواہ شرکاء کی پلیٹیں ہوں یا کوڑے کا ڈھیر۔ خود کو جھنجھوڑنے کے لئے کچرے کے ڈھیر میں سے خوراک ڈھونڈتی ہوئی مخلوق خدا پر ضرور نظر ڈالیں اور سستے آٹے کے لئے لائن میں لگے ان مجبور افراد کو دیکھیں جن میں سے کچھ لوگ تو دھکے برداشت نہیں کر پاتے اور وہاں پر ہی دنیاوی فکروں سے مستقل آزاد ہو جاتے ہیں، اس کا حساب ہم سب نے دینا ہو گا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کل پیداوار کی سترہ فیصد خوراک ہر سال ضائع کر دی جاتی ہے جو تقریباً ً 1.03 بلین ٹن ہے جس میں 61 فیصد حصہ گھریلو خوراک کا ہے۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مشہور شیف میکس لامنا کہتے ہیں کہ انسانیت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ خوراک کا ضیاع ہے۔ میکس نے ’زیادہ پودے، کم ضیاع‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ کھانا ہمیشہ سے ان کی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایک شیف کا بیٹا ہونے کی وجہ سے وہ ایسی دنیا میں بڑے ہوئے جہاں کھانا ہی سب کچھ تھا، لیکن والدین نے انہیں ہمیشہ یہی سکھایا کہ کھانا ضائع نہیں کرتے۔ یاد رکھئے یہ سب باتیں ایک غیر مسلم نے کی ہیں اور ہم اسلام کو مانتے ہوئے اسلام کی نہیں مانتے ہیں۔ تقریباً نو ارب کی انسانی آبادی کے ساتھ ہمیں ہر سطح پر خوراک کے عدم تحفظ کا سامنا ہے اور دنیا میں 820 ملین انسانوں کو اتنا کھانا نہیں ملتا ہے جتنی ان کی ضرورت ہے۔

پاکستانی معاشرے میں روزے زور و شور سے رکھے جاتے ہیں اور وہ افراد بھی روزے شوق سے رکھتے ہیں جو عموماً نمازوں میں سستی کر جاتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ باقی فرائض پر بھی توجہ دیں۔

آپ رمضان میں دوپہر کے بعد کسی بھی بازار کا چکر لگائیں تو اندازہ ہو گا کہ ڈالر کے ریٹ کے بڑھنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر دکان پر سجے درجنوں یا شاید سیکڑوں سموسے اور پکوڑے غرباء کو منہ چڑاتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے آخر یہ سب انسان کی ضرورت ہے یا انسانی ہوس جو ہم رمضان کے مقصد اور پیغام کو نہیں سمجھ پائے۔

رمضان سموسوں، پکوڑوں اور مرغن کھانوں کا نام نہیں، یہ صبر، برداشت، ایثار اور قربانی کا وہ درس ہے جس کی ایک مہینہ تربیت کے بعد گیارہ مہینے آزمائش ہوتی ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سڑکوں پر لڑائی جھگڑے اور دفتروں میں کام چوری میں اضافہ رمضان کی آمد کا پتا دیتے ہیں۔ بقول شاعر

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرع لکھ دیا
کام ہو سکتا نہیں سرکار، میں روزے سے ہوں

کچھ نیک افراد اپنی زبان پر قابو رکھنے کی کوشش میں یوں کہہ دیتے ہیں، بات ذہن میں آ رہی ہے لیکن اب میں کیا بولوں روزے سے ہوں، یعنی کہ ان کے مطابق روزہ نہ ہو تو ہر نازیبا بات زیبا بن جاتی ہے۔

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں

رمضان کا مہینہ اللہ کی فرمانبرداری کی تلقین کرتا ہے جسے ہم نے پس پشت ڈال کر خود کو افطار پارٹیوں اور ٹیلی ویژن کے گیم شوز تک محدود کر دیا ہے۔ اس ماہ مبارک میں جو مسجدیں اور جائے نمازیں بھری نظر آتی ہیں وہ شوال میں خالی ہو جاتی ہیں۔ کچھ ریاکار یا ناسمجھ توبہ اور تلافی کا مفہوم جانے بغیر اعتکاف کو سال بھر کے گناہ معاف کرانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور آنے والے مہینوں کے لئے دوبارہ سے خود کو تیار کرتے ہیں کہ ایک اور اعتکاف کے لئے نو سو چوہے پھر سے پورے کریں۔ گویا کہ ہم شیطان سے پہلے خود کو آزاد کر لیتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا۔

اگر کوئی اللہ کا بندہ یہ جان لیتا کہ ماہ رمضان میں کیا چیز رکھی گئی ہے (یعنی اس مہینے میں کتنی برکتیں ہیں ) تو پورا سال ماہ رمضان ہونے کی تمنا کرتا۔ غور و فکر کریں اور روزے کو فاقہ نہ بنائیں۔

Facebook Comments HS