ماموں جی کے بغیر ایک سال گزرا


ماموں تو سب کو بہت عزیز ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ باپ کے بعد کسی سے لاڈ اٹھوا کر ہر بات منوائی جا سکتی ہے، وہ ماموں کا رشتہ ہے تو یہ بے جا نا ہو گا۔ مگر میرے ماموں تو دنیا سے نرالے ماموں تھے۔ ان کی شفقت سے تو دودھ والا، سبزی والا یہاں تک کہ کچرے والا بھی محروم نہیں تھے۔ میں آج بھی سوچتی ہوں تو حیران ہوتی ہوں، کیا یہ آپ کو پیدا کرنے والی ماں کی خصوصیات تھیں جو آپ کے اندر خون کی طرح دوڑ رہی تھیں یا اللہ نے بس آپ کو ایک جداگانہ حیثیت دی تھی۔ ماں کو تو آپ کے ساتھ گزارنے کے لیے چند برس ہی کی مہلت ملی تھی۔

ماموں جی آپ کے بغیر ایک سال گزر گیا۔ ہم نے تو ایک دن بھی آپ کے بغیر گزارنے کا سوچا نہیں تھا۔ پر سمجھ آ گئی ہے کہ وقت چلتا رہتا ہے۔ کسی کے جانے سے رکتا نہیں ہے۔ ہم بھی عادی ہو جاتے ہیں۔ اپنے پیاروں کو جاتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر بھی زندہ رہتے ہیں۔ اگر موت ایک اٹل حقیقت ہے تو اٹل حقیقت زندگی بھی ہے۔ زندگی چلتی ہے، موت سے لڑتی ہے، اپنا آپ منواتی ہے۔ سمجھ آ گئی ماموں جی کہ آپ نے جانا تھا، پھر بھی ہم نے جینا تھا۔

آپ بہت یاد آتے ہیں ماموں جی! جب بھی کسی باریش انسان کو مسجد کی طرف جاتا دیکھتی ہوں۔ کیسا انس تھا آپ کو مسجد سے، قرآن سے، روزے سے۔ رمضان میں آپ کی مصروفیت دیکھنے والی ہوتی تھی۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ آپ قرآن کو نہیں چھوڑتے یا قرآن آپ کو نہیں چھوڑتا۔ مسجد اور گھر کے بیچ لگتی آپ کی دوڑ اللہ کو اتنی پسند آئی کہ انہیں راتوں میں، اسی دوڑ دھوپ میں آپ کو اپنے پاس بلانے کا فیصلہ کیا۔

کیسی رات تھی وہ بھی۔ میں نے سوچا نہیں تھا کہ آپ ہسپتال جائیں گے اور واپس نہیں آئیں گے۔ عجب ہی تھی وہ رات جب میں اندھیری سڑک پر با آواز بلند آیت الکرسی پڑھتے تقریباً بھاگ رہی تھی۔ ابو جی کا فون آیا تو کہا ابو جی جلدی آنا۔ جیسے وہ آئیں گے تو آپ کا جانا روک لیں گے۔ سوچا تو تب بھی نہیں تھا جب ڈاکٹر نے کہا آخری ای سی جی کرتے ہیں۔ سب کچھ دیکھ سن رہی تھی پر کیا کرتی۔ میں آپ کا جانا روک نہیں سکتی تھی۔ اور پھر جو انسان کبھی سوچتا بھی نہیں، وہ ہو بھی جاتا ہے۔ اللہ کے حکم کے آگے بھلا کس کی چلی ہے؟

ماموں جی! آپ کی تسبیح چپکے سے میں لے آئی تھی جس پر آپ ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے تھے۔ میں نالائق بھی کبھی کبھی کچھ ہمت کر لیتی ہوں پر آپ جیسا خشوع کہاں سے لاؤں۔ آپ کو میرے ہاتھ کے بنے دال چاول بہت پسند تھے نا۔ ہم جب بھی دال چاول کھاتے ہیں آپ کو یاد کرتے ہیں۔

جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد ہو رہی تھی تو آپ کتنا پر سکون تھے کہ یہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔ قاسم سوری کی رولنگ پہ کتنا ہنسے تھے آپ۔ شاید وہ آپ کی دعائیں تھیں جو عمران خان کا کچھ بگڑنے نہیں دیتی تھیں۔ وہ دعائیں تو آپ اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ آپ کے جاتے ہی عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ماموں جی! عمران خان کو ہٹا بھی دیا۔ اس پر گولیاں بھی چل گئیں اور ہم منہ تکتے رہ گئے۔

آپ کے بعد اس ایک سال میں بہت کچھ بدل گیا ماموں جی! اس سال کی خوشیاں کم ہیں اور دکھ زیادہ ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ خوشیوں کا وزن دکھوں کے وزن سے کئی گناہ کم ہے۔ دکھ بڑے تھے لیکن پھر بھی ان دکھوں کے ساتھ چلے جا رہے ہیں۔ آپ کا دیا سبق بھی تو پلے باندھا ہے نا۔ جیسے آپ نے ایک جملے کے اوپر ساری زندگی گزار دی۔ اللہ ہمیں بھی ایسے ہی اس جملے پر اعتقاد کی توفیق دے۔ ہم بھی بخوشی اور صدق دل سے اپنے ہر معاملے میں کہیں ”اللہ مالک ہے“ ۔

Facebook Comments HS