مزید تاخیر تباہی ہے


جتنا عرصہ اور جتنی وسیع مسلمانوں نے حکمرانی کی ایسی مثال آج تک نہیں ملتی۔ اور پھر جس طرح عروج سے زوال اس قوم کا مقدر بنا ویسی مثال بھی آج تک نہیں ملتی۔ طاقتور تھے، دلیر تھے، بہادر تھے، اللہ والے تھے پھر زوال کیوں؟

وجہ کے لیے آپ کو تاریخ میں جانا ہو گا۔ جب آپ تاریخ سے باہر نکلیں گے تو ایک ہی فقرہ آپ کے سامنے ہو گا، کہ جتنا نقصان ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو پہنچایا ہے اتنا کوئی اور نہیں پہنچا سکا، ہم اپنے ہاتھوں سے اپنا لہو خود کرتے رہے۔  دنیا کی کوئی طاقت ایسی نہیں تھی جو ہم سے، ہمارا اقتدار چھین سکتی، مسلمانوں کو مات دے سکتی، مسلمان کو جب بھی شکست دی تو مسلمان نے خود دی۔

ہم اپنی ہستی کو آپ ہی مٹاتے رہے ہم اپنی پسپائی اپنے ہاتھوں سے خود کرتے رہے۔ ہم نے ایسے ایسے سانحات جنم دیے، جن کے غم و الم کو قلم سے سمیٹا نہیں جا سکتا اور ان سانحات پہ اگر اتنی گریہ و زاری کی جائے کہ آنسو خون میں بدل جائیں اور آنکھوں کی بینائی چندھیا جائے پھر بھی ہم تاسف کا حق ادا نہیں کر سکتے۔

آپس کی یلغار ہماری بدقسمتی تھی ہی سہی مگر ستم ظریفی یہ تھی کہ ہم نے اس وقت تک ہوش میں نہیں آئے جب تک ہم بری طرح ملیا میٹ نہیں ہو گئے۔

ہم جب بھی تقسیم ہوئے یا تقسیم کیا گیا ہم بری طرح ہار گئے۔ شکست ہمارا مقدر بنی۔ آپس کی تقسیم ہمارے زوال کا سبب بنتی رہی ورنہ ہماری مثالی بادشاہتیں ایسے نہیں قصہ پارینہ بن گئیں۔

اگر آج پاکستان کی موجودہ صورت حال پر غور کیا جائے تو ایسی تقسیم جو آج ہے 75 برسوں میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ کوئی ایک بھی ادارہ ایسا نہیں جو اس دیمک سے بچا ہو۔

عدالتیں جو پسے ہوئے طبقے اور مظلوم عوام کی آخری امید ہوتی ہیں وہ بھی خود تقسیم کا بری طرح شکار ہو چکی ہیں۔ تمام اداروں میں ہم آہنگی اور اتفاق کا عنصر مفقود ہو چکا ہے، مطلب ہم خود اپنے ہاتھوں سے کشتی میں چھید کر رہے ہیں۔ کیا ہم مزید تاخیر کے متحمل ہو سکتے ہیں، کیا ادارے اس تقسیم کے ساتھ عوام کی امنگوں پہ پورا اتر سکتے ہیں، کیا ادارے ایسی صورت حال میں ڈیلیور کر سکتے ہیں۔

ایک عام آدمی کا جواب تو نہ ہے، ایک عام آدمی کے مطابق تو مزید تاخیر تباہی ہے۔

لیکن کیا اشرافیہ یا اس ملک کی بھاری بھرکم قوتیں ایسا سوچ رہی ہیں اگر وہ ایسا سوچ رہی ہیں تو پھر دیر کیوں ہو رہی ہے۔ پھر ہم مل بیٹھ کے حل کیوں نہیں نکال رہے۔

تمام سیاسی قوتوں، اسٹیبلشمنٹ اور باقی تمام سٹیک ہولڈرز کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اب ہمیں اندرونی خلفشار ختم کر کے آگے بڑھنا ہے، ورنہ ہولناک نتائج تو کب سے دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔

اداروں کی آپس کی اور اداروں کی اندر کی لڑائیاں جلتی آگ پہ پٹرول ثابت ہو رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اور ہم میں ایک فرق انتہائی نمایاں ہے کہ وہاں ادارے بے حد مضبوط ہیں اور وہاں انصاف کے ترازو کے پلڑے برابر ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس کسوٹی کا معیار بدلتا رہتا ہے۔ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم خود اداروں کی اس تقسیم پہ تالیاں بجا رہے ہیں بجائے نوحہ کرنے کے۔

اگر خدانخواستہ کچھ برا ہو گیا تو ہم عوام بھی اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔ ہمیں سوچنا ہو گا، ہمیں حالات کو بھانپنا ہو گا ہم پہلے ہی کافی کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ ہمیں اپنی بقا کی جنگ لڑنی چاہیے لیکن ظلم یہ ہے کہ ہم عجیب قسم کی اٹکھیلیاں کھیل رہے ہیں۔ کیا ہم سنجیدہ نہیں ہیں، کیا سچ مچ ہمیں اپنی بقا کی فکر نہیں ہے۔ ہم بے فکری کی یہ نیند کیوں سو رہے ہیں۔ اللہ نہ کرے اگر ہم یوں ہی بے فکر ہو کے خراٹے لیتے رہے تو پھر اس ڈوبتے سفینے کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔

سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ لیکن یہ وابستگیاں بقا سے زیادہ عزیز نہیں ہونی چاہیں۔ ہمیں تالیاں بجانے کی بجائے یہ کھیل ختم کروانا ہو گا اور ہم ہی کروا سکتے ہیں۔ ہمارا یہ غیر سنجیدہ رویہ کہیں تباہی کا باعث نہ بن جائے اس لیے عوام کو ہی اس سوئی ہوئی اشرافیہ کو جھنجھوڑنا ہو گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اندر کی تقسیم اور لڑائی اس سلطنت کے لیے نادر شاہ ثابت ہو، اور ہم محمد شاہ رنگیلا کی طرح ”ہنوز دلی دور است“ کا راگ الاپتے رہیں۔

Facebook Comments HS