ہندی اساطیر: فلسفہ شیو اور شکتی (پرماتما ویدک گیان کی رو سے) قسط نمبر 6
یہ بات کہ جانداروں کا اورا (ہالہ) اور انرجیز ہوتی ہیں، نئی نہیں ہے۔ باقی دنیا کے لیے تو شاید یہ بات نئی ہو سکتی ہے لیکن ہندوستان والوں کے لیے یہ علوم ان کی مذہب کتب میں شامل کیے گئے تھے۔ یا اگر ہم ویدوں کو الہامی تسلیم کریں تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ۔ یہ الہامی علوم ان اقوام کو سکھائے گئے تھے۔ جن میں ایسٹرولوجی، واستو شاستر، مراقبہ، یوگا، علم النفس، آیورویدا سمیت بے شمار قیمتی علوم اور ہیلنگ انرجیز سے کام لینا یہ لوگ جانتے تھے۔ ہم بات کر رہے تھے کہ اورا اور انرجی کی گیم سے ہی ابلیس لعین نے بڑے بڑوں کو راستے سے پد بھرشٹ ( راستے سے بھٹکانا) کیا ہے۔ اب یہ کیسے ہوا، یہ سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ ہمیں ان علوم پر مکمل طور پر عبور حاصل ہو۔ آئندہ مضامین میں ان علوم کی جا قدر ممکن ہوئی، وضاحت پیش کی جائے گی۔
کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پہلی مرتبہ جس کسی نے بھی مورتی یا بت کا تصور دیا ہو گا تو اس کے ذہن میں کیا ہو گا؟ اس بارے مختلف تصورات اور ریسرچز ہیں۔ ہندوستان میں مختلف ویدک تہذیبی ادوار اور بے شمار قدیم تہذیبیں گزری ہیں۔ تو اصلی ویدک تعلیمات ہم تک پہنچتے پہنچتے بہت سے عبوری ادوار سے گزری ہیں لہذا مسیحیت، یہودیت، زرتشت اور دیگر مذاہب کی طرح ان کی تعلیمات میں بھی تحریفات ہوئی ہیں۔
جب کسی ویدانت کے گیانی/عالم /کسی مذہبی رہنما یا اسکالر سے سوال کیا جائے کہ آپ مورتی کیوں بناتے ہیں یا مورتی پوجا کیوں کرتے ہیں؟ تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہمیں اس طرح ڈیوائن سے کنیکٹ کرنے یا رابطہ استوار کرنے میں مشکل پیش نہیں آتی اور یہ سب ہمارے اجداد بھی تھے جیسے رام چندر جی، کرشن جی اور دیگر کے تاریخی کرداروں اور ادوار کے بارے تاریخی و مذہبی کتب میں صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ کئی عالم یہ جواب بھی دیتے ہیں کہ شروع میں چونکہ پرماتما سے روحانی روابط استوار کرنے میں مشکل درپیش ہوتی ہے تو ہم مورتی کا سہارا لیتے ہیں لیکن جب کوئی یوگ اور بھگتی میں قائم (لین) ہوجاتا ہے تو پھر مورتی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
جیسے کسی نے برہما کماری سسٹر شیوانی جی سے سوال پوچھا کہ پراتیما یا مورتی جیسے شیو لنگ یا شیو جی کی مورتی دونوں میں بہت فرق ہے۔ لنگ کی کوئی شکل و صورت نہیں ہے جب کہ مورتی کہ شکل و صورت بھی ہے تو ان دونوں میں فرق کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟
شیوانی جی نے جواب میں کہا کہ ”جب کسی سے بات ہو یا بھگتی گیان کا لیکچر ہوتا ہے تو لوگ بہت یار سے ذکر کرتے ہیں کہ ہم۔ بھی نراکار پرماتما کو مانتے ہیں۔ وہیں وہ لوگ اسی پرماتما کی پراتیما کو بھی پوجتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ ایک ہے کہ وہ پرماتما موجود ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا اور دوسرا ہم نے اپنی سہولت کے لیے اس کی مختلف اشکال ترتیب دے لیں۔
مثلاً کوئی آپ سے محبت کرتا ہو اور آپ کہیں دور چلے جائیں اور وہ کسی سے کہہ کر آپ کی تصویر بنوا لے جو بے شک ہو بہو آپ جیسی ہی ہو لیکن وہ آپ نہیں ہوں گے۔ آپ ایک فزیکل جاندار ہیں اور تصویر ایک بے جان چیز ہے۔ کئی بار لوگ کیا کرتے ہیں وہ آپ کو نہیں جانتے اور نہ ہی کبھی آپ کو دیکھا ہوتا ہے لیکن انہوں نے آپ کے بارے سنا اور پڑھا ہوتا ہے تو اسی جانکاری کی بناء پر وہ آپ کے کردار اور تعلیمات پر موویز بنواتے ہیں، ڈرامہ بناتے ہیں، کیری کیچرز اور اشکال /تصاویری کہانیاں بنواتے ہیں ان سب کا مطالعہ کرنا اور ان سے اپنا رابطہ قائم کرنا اور مستقل انہی سب سے اپنا رابطہ قائم کرلینا، اور وقت کے ساتھ ساتھ ان سب کو اپنی زندگی کا اہم جزو بنا لینا۔ یہ سب تو ہو گیا لیکن ایک چیز بالکل ہی نظر انداز ہو گئی اور وہ تھے جیتے جاگتے ’آپ ”جس کے وجود پر یہ سب چیزیں بنائی گئیں انھیں اہمیت دی گئی انہی کو سب کچھ سمجھا گیا لیکن اصل وجود کو نظر انداز کر دیا گیا۔
یعنی ایک تو آپ ہیں اور دوسری جگہ آپ کے اسکلپچرز ہیں آپ کی مورتی ہے آپ پر بنائے گئے فلمز اور ڈرامہ ہیں۔ تو ان دونوں میں فرق ہے۔ تو ہم کہیں گے ہم نے اس اداکار یا سلیبرٹی جو آپ ہیں ان کے بارے میں تمام معلومات حاصل کیں، اس پر ریسرچ کی، ان پر لکھی گئی کتب اور بنائے گئے ڈرامے بھی دیکھے مگر ہم اس ہستی کو نہیں جانتے نہ کبھی ان سے براہ راست رابطہ ہوا اور نہ ہی ملے ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ کیا ہم دعوے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم فلاں سلیبرٹی سے بخوبی واقف ہیں اور اس کے بارے میں سبھی کچھ جانتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے کبھی اس سلیبرٹی سے رابطہ نہیں کیا، کبھی ملاقات نہیں کی تو ہم یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ ہم اس ذات کے بارے میں جانتے ہیں۔
کیونکہ کسی ذات کو جاننا اور اس کے سمبلز اور شناخت کی وجوہات کو جاننا ایک الگ بات ہے اور کسی ذات کو جاننا اور ان سے براہ راست رابطہ ہونا یہ دو الگ باتیں ہیں۔
تو یہ سمبلز یا مورتیاں بھی ایسے ہی جیسے کسی سلیبرٹی کے بارے قائم کیے گئے اندازے ہیں اور معلومات ہیں، یہ مورتیاں خود پرماتما نہیں ہیں۔
دوسرا سوال کیا گیا کہ اچھا تو یہ دو الگ باتیں ہو گئیں کہ کوئی انسان سلیبرٹی ہے جس کے بارے ہم نے کھوج کی، ٹی وی، میگزین، انٹرنیٹ وغیرہ سے اس کی تمام تر تفصیلات، نشانیاں، تصاویر اس کے سمبلز اکٹھے کر لیے اور ان سے رابطہ بنا لیا مگر وہ سب چیزیں ہمارے رابطے کا جواب نہیں دے سکتیں جیسا کہ وہ سلیبرٹی خود دے سکتی ہے، لیکن پرماتما کی بات تو الگ ہے وہ تو ہر جگہ ہے تو انسان اس سے متعلق۔ چیزیں، سائنز اور سمبلز اکٹھے کرتا رہے اور ان سے رابطہ بنا لے ان سب کے بارے پرماتما جانتا ہے تو وہ ہمیں جواب ضرور دیتا ہے۔
اس پر شیوانی جی کا جواب تھا کہ ”پرماتما وہ مورتی نہیں ہے جیسے امیتابھ بچپن ایک سلیبرٹی ہیں لیکن ان کا اسٹیچو امیتابھ بچن نہیں ہو سکتا۔ یہ ہماری فیلنگز یعنی محسوسات ہوتے ہیں جو اس آبجیکٹ جیسے سائنسی اصطلاح میں سٹیملس (محرک) کہا جاتا ہے کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک پھول، جسے دیکھ کر کوئی انسان رک جاتا ہے، ٹھٹھر جاتا ہے وہ اس کی خوبصورتی میں منہمک ہوجاتا ہے، اور کہتا ہے آج فلاں جگہ ایک پھول دیکھا، دن خوشگوار گزرا، ایک پھول ہماری مزاج اور ہماری پوری انرجی فیلڈ چینج کر سکتا ہے۔
لیکن کسی دوسرے انسان نے وہی پھول دیکھا تو بالکل ممکن ہے کہ اسے وہ کچھ خاص نہ لگے وہ معمول کے مطابق اس کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ جائے، یا اسے نوچ کر پھینک دے یعنی اصل چیز سٹیملس یا وہ مورتی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ایک ہی آبجیکٹ کو ہر ایک پر یکساں اثر انداز ہونا چاہیے، تو ویدک دھرم کے ماننے والوں کا درست عقیدہ یہی ہونا چاہیے کہ پرماتما ہر جگہ ہے مگر اسے کسی نے نہیں دیکھا۔
اچھا پھر ایسا کیسے ہوتا ہے کہ لوگ کسی مورتی کے آگے فریاد کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور منت مانتے ہیں تو ان کی مرادیں پوری ہوجاتی ہیں؟
دراصل اس پتھر یا مورتی یا پراتیما میں کچھ نہیں ہے کوئی انرجی نہیں ہے وہ دراصل پرماتما ہے جو ہر جگہ موجود ہے اور اگر وہ چاہتا ہے کہ میں نے اس بندے کو کچھ دینا ہے یا اس کی فریاد سننی ہے تو وہ جہاں ہے وہاں سے ہماری دعا قبول کر لیتا ہے۔ یہ تو گھر بیٹھے بھی ہو سکتا اور کہیں کسی اور جگہ سے بھی ہو سکتا ہے اس کے لیے بت یا مورتی یا کسی آبجیکٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تو سائل نے پوچھا لیکن ہم ایسا کیوں نہیں کر پاتے۔ ؟
اس لیے کہ ہمیں عادت ہی نہیں رہی برسوں سے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پرماتما اس مورتی میں آواہن کر کے استھاپت کر دیے گئے ہیں یا مینفیسٹ ہو گئے ہیں تو یہی سب کچھ ہے درحقیقت وہ صرف ایک آبجیکٹ ہوتا ہے جس کی کوئی انرجی فیلڈ تک نہیں ہوتی۔
جاری ہے

