سوئی گیس کی بندش: ہوٹلز پر روٹی کے لئے قطاریں


ہمارا ملک یوں لگتا ہے کہ اب مسائلستان کا گڑھ بن گیا ہے کوئی چیز سیدھی نہیں ہے ہر طرف بحرانی کیفیت ہے، اس بحرانی کیفیت میں اضافہ تب بڑھا جب تحریک انصاف کو 2018 ع میں بھاری اکثریت سے جتوایا گیا۔ جتنی بھی پچھلی حکومت کے پراجیکٹ تھے وہ بند کر دیے گئے اور اس کے بعد ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سمیت سب سے ایسے ایسے معاہدے کیے گئے جس میں باقی کثر بھی مکمل کردی اور اب یہ صورتحال ہے کہ ملک میں نا آٹا ہے، نا چینی ہے نا گیس ہے نا بجلی ہے نا انصاف ہے اور نا ہی قانون ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی بھینس بھی اسی کی ہوئی والی بات ہو گئی ہے۔

اس بات کی ایک مثال یہ ہے کہ چند روز قبل سوئی سدرن گیس کمپنی نے ایک سرکلر نکالا تھا کہ چار اپریل کو حیدرآباد کی 85 فیصد آبادی میں سوئی گیس صبح 7 بجے سے شام پانچ بجے تک بند رہے گی۔ ظاہر ہے ماہ صیام کا بابرکت ماہ ہے اس میں بہت سارے روزے دار ہوتے ہیں اور باقی گھروں میں بڑی عمر کی خواتین ہوں یا بچے وہ تو روزہ رکھنے سے رہے سو صبح کو جیسے ہی اٹھے تو امی نے کہا کہ چائے بناؤں لیکن گیس نہیں ہے تو فوری طور پر مجھے سوئی سدرن گیس کمپنی والا سرکلر ذہن پر آ گیا اور میں نے امی کو کہا کہ میں بتانا بھول گیا تھا سوئی گیس اب شام پانچ بجے آئے گی۔

امی سوئی گیس پانچ بجے آئی گی کی بات سن کر کہا کہ پھر کیا ہو گا بچے بھوکے کیسے رہیں گے اور میں چائے کے بغیر کیسے رہوں گی، خیر کام کرنے والی ماسی تو آئی ہوئی تھی سو امی نے انہیں کہا کہ باہر سے لکڑیاں کچھ لیکر آؤ تو چائے تو لکڑیوں پر بناتے ہیں باقی دیکھتے ہیں۔ مجھے کھانے کی لگی کہ بچوں کو تو ہر حال میں کھانا دینا ہے وہ کہاں سے لاؤں میں باہر گیا ویسے تو ماہ صیام میں تمام ہوٹلز بند ہوتے ہیں مگر کچھ ہوٹلز کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے پر میشن دی ہوئی ہوتی ہے سو جیسے ہی نسیم نگر پر ایک ہوٹل پر نظر پڑی تو دیکھا کہ ہر طرف موٹرسائیکلیں ہی موٹرسائیکلیں نظر آئیں میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ یہ کیا ہے پھر جیسے ہی اندر ہوٹل میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تقریباً ایک سو کے قریب لوگ ہوٹل کے پردے کے پیچھے کھڑے ہیں جو کا ؤنٹر پر پیسے دینے کے لئے جھرمٹ بنا کر کھڑے تھے میں نے سوچا کہ اگر یہاں روٹی لی تو پھر تو تقریباً دو گھنٹے کہیں نہیں جائیں گے یہ سوچ کر پھر پکوڑا چوک پر گیا تو وہاں پر بھی یہ ہی صورتحال دیکھ کر لطیف آباد جانے کا سوچا کیوں کہ مجھے یاد آیا کہ لطیف آباد میں سوئی سدر گیس کمپنی نے گیس بند نہیں کی تھی سو یہ سوچا کہ وہاں پر جو پردے والے ہوٹلز ہیں ادھر رش نہیں ہو گا سو وہاں گیا ایک ہوٹل کھلی ملی مگر باآسانی سے وہاں سے مجھے روٹی ملی اور پھر دہی لے کر گھر پہنچا تو امی نے کہا کہ اتنی دیر میں نے کہا کہ امی شکر کریں کہ یہ روٹی بھی ملی ہے باقی کوئی آسرا نہیں تھا۔

کہنے کا مقصد ہے کہ پہلے لوگ آٹا خریداری کے لئے لائنوں میں کھڑے ہوتے تھے اور اب روٹی لینے کے لئے لائنوں میں لگنا پڑ رہا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے ملک کے ساتھ کتنا مذاق کیا گیا ہے کوئی چیز اپنی سمتھ میں نہیں چل رہی ہے۔ اس ملک میں ہوتا یہ ہے کہ ایک تجربہ کیا جاتا ہے کہ فلاں چیز بند کر کے دیکھتے ہیں کہ عوام کا ری ایکشن آتا ہے یا نہیں اگر ری ایکشن آیا تو پھر اس کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے اور ری ایکشن نہیں آیا تو سمجھیں کہ وہ روٹین بن جاتی ہے۔

اب سوئی گیس سدر کمپنی کو یہ اندازہ ہو گیا کہ حیدرآباد میں ایک دن کے لئے سوئی گیس بند ہوئی تو اب مسلسل اس کو پریکٹس کرتے رہیں گے۔ اچھا اس پوری کہانی میں یہ بتانا بھول گیا کہ ایک تو ماہ صیام کا مہینا اوپر سے چند پردے میں کھلے ہوٹلز تھے تو جیسے ہی انہیں اس بات کا اندازہ ہوا کہ سوئی گیس نہیں ہے تو انہوں نے روٹی، چائے سالن کی قیمتوں میں فوری طور پر ایک دن کے لئے ہی سہی مگر اضافہ کر دیا جس میں روٹی پچیس روپے والی 30 روپے، چائے 60 والی 100 سے لے کر 120 روپے تک فروخت کی جا رہی تھی۔

اب سوچیں کہ جس میں ملک ہر کوئی ایک داؤ کے چکر میں ہو گا تو پھر یہ ملک کیوں ترقی کرے گا کیوں اس ملک کے مسائل ختم ہوں گے ؟ اس سے اچھی طرح اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں جس طرح سے طرز حکمرانی گزشتہ 75 سالوں سے چلی آ رہی ہے اس نے اس ملک کی بنیادیں کھوکھلی کردی ہیں۔ یہ معاشرہ اب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور لگ یوں رہا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں مزید خوفناک صورتحال پیدا ہو جائے گی اور کوئی کچھ نہیں کر پائے گا۔ کہتے ہیں کہ ڈوبتے ہوئے معاشروں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments