خیبر پختونخوا میں امن و امان کا چیلنج

میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 360 افراد گرفتار کر کے 73 مارٹر گولے 93 دستی بم، 78 کلاشنکوف، 40 پستول، 10 آر پی جی 1014 رائفل اور 5 دیگر بھاری ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اسی طرح شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائیوں کے دوران 33 شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر پر ہونے والے پے درپے حملوں کے متعلق انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا اختر حیات خان کا کہنا ہے کہ صوبہ کے دیگر اضلاع کی نسبت جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کی واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے جو کے پی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہماری جواں ہمت پولیس قربانیوں کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے جو ہمارے لیے باعث فخر ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس پچھلے چند ماہ سے ایک بار پھر دہشتگردوں کے نشانے پر ہے اور یکے بعد دیگرے مختلف اضلاع میں پولیس کو فائرنگ اور بم دھماکوں کے ذریعے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران پولیس پر 25 حملے کیے گئے ہیں جن میں ڈی ایس پی رینک کے 2 افسران کے علاوہ 125 پولیس اہلکار بھی شہید ہو گئے ہیں جب کہ ایک حالیہ حملے میں پاک فوج کے ایک بریگیڈیئر مصطفی کمال برکی کو بھی چار دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ وان جنوبی وزیرستان میں نشانہ بنایا گیا ہے ۔
اس ضمن میں جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2023 کے دوران خیبرپختونخوا پولیس پر حملوں کے 15 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جس میں 116 پولیس اہلکاروں و افسران نے جام شہادت نوش پائی جبکہ 189 زخمی ہو گئے تھے۔ اسی طرح فروری کے مہینے میں پولیس پر 3 حملوں کے واقعات پیش آئے جن میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے تھے جبکہ مارچ کے مہینے میں پولیس حملوں کے 7 واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں 7 پولیس اہلکاروں اور افسران کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ اس طرح ان تین ماہ میں 25 حملوں میں 125 پولیس اہلکار اور افسران جاں بحق جبکہ 212 زخمی ہوئے۔ واضح رہے کہ ملک سعد شہید پولیس لائنز پشاور میں رواں سال جنوری میں خودکش دھماکہ کیا گیا جس میں 100 سے زائد پولیس اہلکار اور افسران شہید ہو گئے تھے۔
خیبر پختونخوا میں جاری تشدد کی نئی لہر کے دوران ایک نئی واردات میں پشاور میں گڑھی عطاء محمد دیر کالونی میں مسلح موٹر سائیکل سواروں نے سکھ پنساری دیال سنگھ ولد ہر دیال سنگھ سکنہ ضلع خیبر حال دیر کالونی کو دکان کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ مقتول دیال سنگھ کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ رمضان میں سستے داموں اشیا فروخت کرتا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق دیال سنگھ قتل کا واقعہ ٹارگٹ کلنگ تھا یا ذاتی عناد و دشمنی کا شاخسانہ اس حوالے سے تحقیقات کے بعد ہی حقائق سامنے آ سکیں گی جب کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے اب تک صوبے بھر میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے 28 افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔
اس واقعہ پر سکھ برادری کے افراد نے غم و دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں پشاور کے علاقہ پشتہ خرہ میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے ایک مسیحی باشندے کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے۔ واقعہ بنارس آباد میں پیش آیا جہاں مقتول کے بھائی نوید مسیح نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بھائی کاشف مسیح ولد اعظم مسیح کارپوریشن کالونی میں کلیز تھا اور وہ دوپہر کو ڈیوٹی کرنے کے بعد واپس گھر جا رہا تھا اس دوران نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ نامعلوم افراد ارتکاب جرم کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔
مقتول کی عمر تقریباً 35 سال تھی جو اکیڈمی ٹاؤن کا رہائشی تھا۔ بعد ازاں ایس ایس پی انوسٹی گیشن پشاور شہزادہ کوکب فاروق نے کرائم سین کا دورہ کیا اور متعلقہ پولیس سٹیشن کے آپریشنل پولیس اور تفتیشی ٹیم کو واقعہ میں ملوث ملزموں کو گرفتار کرنے کی ہدایات دیں۔ اس حوالے سے ایس ایچ او پشتخرہ واجد نے بتایا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے۔ فائرنگ کرنے والا مسلح شخص اکیلا تھا جو سی ڈی 70 موٹرسائیکل پر آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ قرار دینا قبل از وقت ہو گا۔ ادھر اکیڈمی ٹاؤن میں مسیحی باشندے کے قتل کیس کی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہے تاہم اب تک کیس میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ان واقعات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ سمیت مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ اقلیتی برادری کے لوگ بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں جنہوں نے حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر میں کافی عرصے بعد تشدد کی عفریت پر قابو پانے کے بعد یہ جن بوتل سے پھر کیوں باہر آ گیا ہے اور اس ضمن میں حکومت سمیت مختلف سیکیورٹی اداروں سے کہاں کہاں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جاری تشدد کی نئی لہر کے دوران پولیس، مسلح افواج کے علاوہ اقلیتی برادری کے افراد کو ٹارگٹ کرنے کا واضح مقصد صوبے میں بے چینی اور بے یقینی پیدا کرنے کے ذریعے صوبے اور ملک میں اقتصادی اور سیاسی بحران پیدا کرنا ہے لہٰذا توقع ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس صورتحال کا نہ صرف فوری نوٹس لیں گی بلکہ اس حوالے سے درکار بعض ضروری اقدامات بھی سائنسی اور ترجیحی بنیادوں پر اٹھائیں گی۔

