طاقت کا سرچشمہ عوام


آٹے سے لدا ٹرک جونہی رو کا۔ منتشر ہجوم آؤ دیکھا نہ تاؤ ٹرک پر چڑھ دوڑا۔ جیسا کہ بلوائی حملہ اور۔ یہ دیکھ کر بالی ووڈ فلم کا وہ سین یاد آ گیا۔ جس میں زومبیز انسانی خون پینے کو دوڑ پڑتے ہیں۔ ایک طرف لوٹ مار، گالم گلوچ، دھکم پہل تو دوسری طرف ہجوم میں پیچھے رہ جانے والا لڑکا۔ کمزور سی جسامت، بڑی کالی آنکھیں جن میں ابھی تک بچپنا اور معصومیت، اور چہرے پر خوف۔ محسوس ہو رہا تھا کہ خالی ہاتھ گھر نہیں جانا چاہتا۔ صدیوں سے انسانوں کا ہی دریافت کیا گیا لفظ انسانیت۔ مگر اس وقت نہ انسان دکھ رہے تھے اور نہ ہی انسانیت۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ منظر اس بچے کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟

بحیثیت معلم، اس دن کمرہ جماعت میں، میں لاجواب ہو گیا جب ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کہ نوجوان پاکستان کو چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟ کیا جواب دیتا۔ جس تابناک اور روشن مستقبل کے سنہرے خواب آج آپ کو دیے جا رہے ہیں ایسے ہی ان نوجوانوں کو دیے گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ امیدوں پر دنیا قائم ہے مگر جب امیدیں ہی اذیت بن جائیں تو؟

سوشل میڈیا پر ایک تجزیہ کار فرما رہے تھے کہ عوام نفسیاتی بھوک کا شکار ہو گئی ہے۔ بھوک تو انسانی فطرت کا حصہ ہے مگر، نفسیات تو ماحول کے تابع ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام بھی فطرتاً نفسیاتی طور پر انحطاط کا شکار ہوتی ہے؟ ہم کیوں اس نظام پر کھل کر بات نہیں کرتے؟ جو مسلسل اذیت اور ذلت ہی دیے جا رہا ہے۔ کب تک فرسودہ نظریات کی ہی تبلیغ ہوتی رہے گی اور عوام کو ہی موردالزام ٹھہرایا جاتا رہے گا؟ بس بے ہودہ قسم کی لوریاں ہیں سنائی جا رہی ہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں کہ کہ جب لنگر خانے چلائے گئے، تو مذاق اڑایا گیا۔ تب عوام لائنوں میں عذاب سہ رہی ہے۔ کیا واقعی ریاست کا کام لنگر اور خیرات بانٹنا رہ گیا ہے؟

ایک اور صاحب فرما رہے تھے کہ عوام بہت ناشکری ہے اسی لیے اناج کا قحط نازل ہوا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عوام کے پاس تھا ہی کب جو ناشکری ٹھہری۔ ریاست کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پہلے ہی دن سے بھوک اور افلاس کو عوام کا مقدر بنا کر پیش کیا گیا۔

آج چھ ہزار من آٹا اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم عوام کیا خاک ناشکری کرے گی۔ جب آٹا 30 روپے کلو تھا تو حضور والا مزدور کی دیہاڑی بھی دو، ڈھائی سو روپے تھی۔ عام آدمی آج بھی اتنی ہی اذیت میں ہے اور اس وقت بھی اتنی ہی تکلیف میں تھا۔ اس وقت بھی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم تھا اور آج بھی ہے۔ کون کون سے مصائب عام آدمی نے برداشت نہیں کیے؟

انسان ہر دکھ، درد اور جبر برداشت کر لیتا ہے مگر اپنی تذلیل نہیں۔ مگر یہ کیسا نظام ہے کہ آج عام آدمی ذلت کی دلدل میں ڈوبا ہے اور آف تک بھی نھیں۔ کیونکہ مسلسل ناشکری کے طعنے اور ذہنی اذیت دے دے کر آج عوام مسیحا کے انتظار میں مافیاز کے چکروں میں پھنس چکی ہے۔ ہر دہائی بعد کوئی نہ کوئی مافیا، مسیحا کے روپ میں بالآخر عوام کو ہی کوستا نظر آتا ہے۔ فلان تو یہ تھا مگر عوام بزدل نکلی۔ فلاں تو وہ ہے مگر عوام بے شعور ہے وغیرہ وغیرہ۔ سوچی سمجھی سازشوں کے تحت عوام کو اپنی ہی نظروں میں گرایا جا رہا ہے۔

انسانوں نے ہی اپنی تکلیف و مصائب سے آزادی پانے اور خوشیوں و امان کے لئے سماج، ریاست اور سیاسی نظام تشکیل دیے۔ تاریخ میں کئی دور ایسے بھی آئے ہیں کہ جب کوئی نظام اپنی افادیت کھو چکا تھا تو سماج اپنی طاقت کے بل تبدیلی کی طرف گیا۔ سماج اپنے اندر ایسی قوت رکھتا ہے کہ ایک گلے سڑے نظام کو ایک صحت مند اور پائیدار نظام سے تبدیل کر سکے، کیونکہ ریاست اور نظام سماج ہی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ آج عوام کو مورد الزام اسی لیے بنایا جا رہا ہے کہ عوام اپنی ہی نظروں میں گنہگار بنی رہے اور اپنا اعتماد کھو کر کسی تبدیلی کی طرف نہ جائے۔ یہ مافیاز کی سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ ان کا اقتدار اسی طرح قائم اور دائم رہے۔ آج ہمارے سماج میں رائج مقدس نظریات، تاریخ میں اسی طرح ترقی یافتہ سماجوں میں بھی مقدس تھے مگر وہاں کی عوام سمجھ گئی تھی کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہی ہیں۔