ٹوٹ بٹوٹ سے کشورِ حسین تک

ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
ایک کیا اس زمانے کا ہر وہ لڑکا جس نے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی کتاب ’جھولنے‘ پڑھ یا دیکھ رکھی تھی وہ ’ٹوٹ بٹوٹ‘ بن کر اصلی نہیں تو خیالی بادام اخروٹ کھا کر ہی اپنی فرضی موٹر کار اڑائے پھرتا تھا۔ ہم کوئی استثنا نہ تھے۔ مگر جب ٹوٹ بٹوٹ کی فرضی موٹر کار لڑکپن کی گلی کو عبور کر کے نوجوانی کے مقفٰی موڑ تک پہنچی تو چمن کی صورت بدل بدلی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا جی دنیا کی رونق سے اچاٹ ہونے لگا۔ جانے کب صوفی تبسم ٹوٹ بٹوٹ کی دنیا سے نکال کر اسے دل کی دنیا میں لے آئے تھے اور اب وہ کچھ یوں گنگنا رہا تھا:
سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی
دنیا کی وہی رونق، دل کی وہی تنہائی
سچ پوچھیں تو صوفی تبسم صاحب کی شخصیت نے اپنی کشش اور ان کی شاعری نے اپنے موضوعاتی تنوع اور اظہاری سلیقے سے ایک نسل کو نہیں بلکہ ایک پورے عہد کو اپنا گرویدہ بنایا۔ وہ ریڈیو پر بھی پروگرام کیا کرتے اور ٹی وی پر بھی۔ اور ان کی ایک اہم پہچان گورنمنٹ کالج لاہور سے ان کی وابستگی بھی تھی جہاں وہ استاد تھے اور ہردلعزیز استاد تھے۔
اردو اور پنجابی کے اس سربرآوردہ شاعر کی برسی تو فروری میں آتی ہے مگر ان کے حوالہ سے میرے علم میں بس ایک ہی حالیہ تقریب آئی جو اسلام آباد میں منعقدہ صوفی تبسم کانفرنس تھی۔ زندگی میں صوفی تبسم ایک ایسی مصروف اور معروف ہستی تھے کہ کوئی بھی اہم ادبی تقریب ان کی شمولیت یا ذکر کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی تھی۔ سوچوں تو زیادہ مدت نہیں گزری کہ ہمارے درمیان ایسی کچھ اور شخصیات موجود تھیں جن کے اعزاز میں آئے دن تقاریب منعقد کی جاتی تھیں، جرائد کے خصوصی شمارے جاری کیے جاتے تھے اور باقاعدہ اور دھوم دھام سے جنم دن منائے جاتے تھے مگر آج ان کا ذکر بھی خال خال ہی ہوتا ہے۔ اس کا سبب تخلیقی کام کی کم تاثیری ہے یا وقت کی تیز رفتاری؟ مجھے معلوم نہیں۔ تاہم اتنا مجھے یاد ہے کہ جب 1977 میں مجھے گورنمنٹ کالج لاہور داخلہ ملا اور میں ’راوین‘ بنا اس وقت اگرچہ صوفی تبسم صاحب کالج چھوڑ چکے تھے مگر ان کے تذکرے بدستور پوری آب و تاب سے گونج رہے تھے۔
وہ منفرد یا ذرا ”وکھری ٹائپ“ کے استاد تھے۔ جو شاگرد ان کے قریب آ جاتے انھیں بے بہت حد تک دوستانہ بے تکلفی کا اختیار حاصل ہوجاتا تھا۔ استاد شاگرد کے غیرمعمولی تعلق کے حوالہ سے صوفی صاحب اور فیض احمد فیض صاحب کا جو واقعہ مرزا طفرالحسن صاحب نے اپنی یادداشتوں کی دل چسپ کتاب ذکر یار چلے ”میں کیا ہے وہ خاصا معروف ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
فیض احمد فیض طالب علم تھے اور کالج میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تاش کھیل رہے تھے کہ اچانک ان کے استاد صوفی غلام مصطفی تبسم پہنچ گئے۔ لڑکوں کے ہاتھ میں تاش کے پتے دیکھ کر خوب بپھرے، خوب گرجے کہ تم لوگ نالائق ہو، لچے ہو، لفنگے ہو اور کالج میں تاش کھیلتے ہو وغیرہ وغیرہ جب شاگردوں کا منھ فق ہو گیا، ہونٹ خشک ہو گئے اور سر ندامت کے مارے جھک گئے تو صوفی صاحب خود بھی بیٹھ گئے اور بولے : ’اچھا ہمارے پتے بھی بانٹو‘ ۔ فیض صاحب نے صوفی صاحب کی موجودگی میں مجھے بتایا کہ ہم نے سارے شرعی عیب صوفی صاحب سے سیکھے ہیں ”۔
صوفی صاحب اور شہزاد احمد صاحب کی بے تکلفی کا ایک واقعہ تو خیر میں نے خود کالج میں سنا۔ ہوا یہ کہ کالج میں پروفیسر مرزا محمد منور صاحب میرے اردو اعلیٰ کے استاد تھے اور ان کی کلاس پروفیسرز روم نمبر 15 میں ہوتی تھی۔
ایک روز مجھے کہنے لگے کہ کل تمہاری کلاس نہیں ہوگی اور کلاس کا وقت لائبریری میں بیٹھ کر ڈپٹی نذیر احمد کا ناول تو بۃ النصوح پڑھنا۔ میں نے کہا: ”جی بہتر“ ۔
اگلے روز ”توبۃ النصوح“ ہاتھ میں تھامے پروفیسر صاحب کے کمرے کے پاس سے گزرا تو اندر سے آوازیں آ رہی تھیں۔ میں سمجھا کہ پروفیسر صاحب نے کلاس لینے کا فیصلہ کر لیا ہو گا۔ دروازہ پر دستک دی اور آہستہ سے ہینڈل گھما دیا۔
اندر پروفیسر صاحب کی نشست پر کتاب ”سبزہ بیگانہ“ کے مصنف عبدالشکور شیخ صاحب تشریف فرما تھے جو آنکھوں سے تو نابینا تھے مگر سینے میں دل بینا رکھتے تھے۔ وہ آواز سے انسان کو فوراً پہچان لیتے تھے۔ جو آواز ایک بار سن لیتے اسے کبھی نہیں بھولتے تھے۔ انہوں نے لاہور کی کتنی ہی عظیم ہستیوں کو دیکھ رکھا تھا اور ان سے ملاقاتوں کے قصے انھیں ازبر تھے۔ اسی لیے شیخ صاحب کو بجا طور پر لاہور کا چلتا پھرتا ادبی انسائیکلو پیڈیا کہا جاتا تھا۔ پروفیسر صاحب ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے تھے جبکہ باقی کرسیوں پر کالج کے کچھ اور اساتذہ اور مہمان براجمان تھے۔ پروفیسر صاحب نے مجھے دروازے میں کھڑے دیکھا تو میں بول پڑا:
معذرت، سر۔ میں سمجھا کلاس ہو رہی ہے ”۔“
پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا: ”ہاں برخوردار کلاس تو ہو رہی ہے مگر تمہاری نہیں بلکہ ہماری۔“ یہ سن کر سب ہنس دیے۔
آپ کی کلاس؟ سر آپ کیا پڑھتے ہیں؟ ”میں نے معصومانہ حیرت سے دریافت کیا۔“
ہم کالا علم پڑھتے ہیں شیخ صاحب سے۔ ”پروفیسر صاحب کے اس جواب پر وہاں موجود سبھی نے قہقہہ لگایا تھا۔“
میں کچھ جھینپ سا گیا۔ اپنی حرکت پر احساس ندامت بھی ہونے لگا تھا کہ کیوں خواہ مخواہ بڑوں کی محفل میں مخل ہوا۔
تم کچھ دیر بیٹھنا چاہو تو بیٹھ سکتے جاؤ۔ ”پروفیسر صاحب نے کہا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ میں کیا کروں۔ بس چپکے سے دروازے کے بالکل ساتھ والی کرسی پر ٹک گیا۔
شیخ صاحب پروفیسر صاحب سے مخاطب ہوئے :
ہاں تو پروفیسر صاحب، وہ صوفی تبسم صاحب اور شہزاد احمد کا کیا قصہ سنا رہے تھے آپ؟ ”
ہاں، وہ۔ اچھا ”۔ پروفیسر صاحب قصہ سنانے لگے۔“ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ خوش فکر شہزاد صوفی صاحب کا چہیتا ہوا کرتا تھا۔ ایک روز جو شہزاد کالج آیا ہے تو ناک پر نظر کی عینک ٹکا رکھی ہے۔ صوفی صاحب کو شہزاد کے چہرے پر نظر کی یہ عینک ایک نظر نہ بھائی۔ استفسار پر شہزاد نے بتایا کہ پڑھنے میں کچھ دقت ہونے لگی تھی چناں چہ ڈاکٹر نے عینک لگانے کا مشورہ دیا ہے۔ صوفی صاحب کو یہ طبی جواز بھی مطمئن نہ کر سکا۔ کچھ دیر اپنی نشست میں کسمساتے رہے۔ پھر بولے :
شہزاد، اتارو یہ عینک۔ ذرا بھی اچھی نہیں لگ رہی تمہارے چہرے پر ۔ اسے لگا کر تم ”بالکل بندر دکھائی دیتے ہو“ ۔
کیا کروں صوفی صاحب؟ اسے اتارتا ہوں تو آپ بندر دکھائی دیتے ہیں ”۔ حاضر جواب اور نٹ کھٹ شہزاد نے فوراً جواب دیا تھا۔“
اس پر پھر سے کمرہ قہقہے سے گونج اٹھا۔
قہقہہ تھما اور شیخ صاحب انارکلی بازار میں علامہ اقبال سے اپنی ملاقات اور احسان دانش صاحب کی کتابوں کی دکان اور ان کے گھر ”دانش کدہ“ یا ”دانش آباد“ اور ماضی کے لاہور کے کچھ اور دل چسپ قصے سنا چکے تو میں نے مودبانہ انداز میں وہاں سے رخصت لی
اور کمرے سے باہر نکل آیا اور پل پل بدلتی وقت کی داستاں کے بارے میں سوچتا ہوا کالج کینٹین کی طرف روانہ ہو گیا۔
اس واقعے کے ایک سال بعد یعنی 1978 میں خبر آئی کہ صوفی صاحب کا انتقال ہو گیا اور ظاہر ہے کتنی ہی رنگا رنگ محفلیں بے رنگ ہو گئی ہوں گی، کتنے دوست اداس ہو گئے ہوں گے۔
اگلے سال ان کی برسی ہوئی۔ لاہور میں سب سے بڑی تقریب الفلاح بلڈنگ میں واقع پاکستان نیشنل سنٹر میں منعقد ہوئی جس کی ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ان دنوں کشور ناہید تھیں جبکہ پروگرام مینجر خالد خلیل تھے۔
برسی کی اس تقریب میں شرکت میرے لیے ایک قطعی مختلف تجربہ تھا کیونکہ اس کے کسی مرحلے میں بھی فضا میں روایتی سوگواری محسوس نہیں ہوئی۔ سبھی مقررین صوفی تبسم کی شخصیت کی ہردلعزیزی، شگفتہ مزاجی، بے تکلفی، بذلہ سنجی اور فن کارانہ حسن پرستی کے واقعات انتہائی دل چسپ اور پر لطف پیرائے میں سنا رہے تھے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب نے خطبہ صدارت میں کہا کہ صوفی صاحب سفر پر نکلتے ہوئے تمام ضروری اشیا سے بھرا ایک تھیلا ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے۔ ٹرین کے ایک ادبی سفر کو یاد کرتے ہوئے ندیم صاحب بتا رہے تھے کہ قمیص کا ٹوٹا بٹن لگانے کے لیے انھیں سوئی دھاگے کی ضرورت پڑی تو وہ سیدھے صوفی صاحب کی نشست پر پہنچے اور سوئی دھاگہ عاریتاً مانگا۔ صوفی صاحب شرارت سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولے :
”اچھا تو تمہارے پرانے ٹانکے پھر سے ادھڑ گئے؟“
یہ سن کر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا مگر بات میرے پلے نہ پڑی۔ سب کو ہنستا دیکھ کر میں بھی ہنس دیا۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ کئی باتیں مجھے دیر ہی سے سمجھ آتی ہیں۔
خیر، تقریب کے بعد چائے کے دور میں بھی ایسی ہی کھلکھلاتی یادیں تازہ ہوتی رہیں۔ میں سیکنڈ ائر کا طالب علم تو بس ان بڑے لوگوں کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا اور اس بات پر نازاں بھی تھا کہ میں ان کے اتنے قریب کھڑا ہوں۔
اتنے میں کشور ناہید مسکراتے ہوئے بتانے لگیں کہ صوفی صاحب کی طرح حفیظ جالندھری صاحب بھی بہت خوش مزاج اور حاضر جواب انسان تھے۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے حفیظ صاحب کو چھیڑنے کی غرض سے کہا:
حفیظ صاحب، سنا ہے آپ بہت حسن پسند شاعر ہیں اور آپ نے عورت کی خوب صورتی پر لاتعداد گیت لکھے ہیں، شعر کہے ہیں۔ مجھ پر تو آپ نے کبھی کوئی شعر نہیں کہا۔ ایسا کیوں؟ ٖ
حفیظ صاحب جھٹ بولے :
کیسی بات کرتی ہو کشور، شعر، گیت کیا؟ تمہارے حسن کی تعریف تو میں نے قومی ترانے میں کی ہے۔ کشور حسین شاد باد۔
اور وہاں موجود سبھی کھلکھلا اٹھے تھے۔
افسوس اب ہم اس عمر میں صوفی تبسم کی ”ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ“ تو گانے سے رہے لیکن یقین جانیے کہ خیر باد کہنے کے باوجود ہم پاک سرزمین کو جب بھی ’شاد باد‘ کہتے ہیں ساتھ ہی زبان پر بے ساختہ یہ دعا بھی جاری ہوجاتی ہے :
کشور حسین شاد باد۔

