حکومتی اتحاد کی مزاحمت درست ہے
متعدد بار بنچ ٹوٹنے اور بننے کے بعد سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پنجاب کے صوبائی انتخابات کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس فیصلے میں الیکشن کمیشن کو 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے الیکشن کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اسی فیصلے میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے الیکشن کے لیے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا کہا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں انتخابات کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں سماعت جاری تھی مگر چیف جسٹس سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے کر اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے آئے اور لاہور ہائیکورٹ کو بائی پاس کر کے خود فیصلہ سنا دیا۔
چیف جسٹس کے اس ازخود نوٹس پر ان کے ساتھی ججز نے بھی اختلاف کیا اور حکومتی اتحاد کی جانب سے بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔ کچھ وقت کے لیے مگر ان سوالات کو پس پشت ڈال بھی دیا جائے تو پھر بھی یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ صوبائی عدالت کے اختیارات میں سپریم کورٹ نے کس اصول کے تحت مداخلت کی؟ اس مداخلت کی اگر کوئی توجیح سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بنچ کے پاس موجود ہے تو پھر بھی یہ واضح ہونا چاہیے کہ جو اصول پنجاب کے لیے بنایا گیا وہی کے پی کے میں لاگو کیوں نہیں کیا گیا؟
کیا خیبر پختونخوا آئین پاکستان کے دائرے میں نہیں آتا؟ آئین پاکستان کا اطلاق تمام صوبوں پر ہوتا ہے تو تمام صوبوں کے لیے ایک اصول طے کیا جانا لازم تھا۔ آئین کے تحت نوے روز میں انتخابات کی پابندی کو بنیاد بنا کر جب یہ فیصلہ دیا گیا تو اس کا اطلاق خیبر پختونخوا میں بھی ہونا چاہیے۔ آئین اور قانون اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ پہلے صوبائی عدالت سماعت کرے گی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اس پر اپیل سنی جائے گی، اور خیبر پختونخوا کی حد تک سپریم کورٹ نے یہ اصول تسلیم کر بھی لیا ہے تو پنجاب میں یہ اصول کیوں پامال کیا گیا؟ معذرت سے کہنا پڑتا ہے یہی نکتہ حالیہ فیصلے میں موجود سقم اور نظام عدل کے دہرے معیار کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس فیصلے میں جب خود قانونی سقم موجود ہیں اور قانونی ماہرین کی اکثریت اسے اقلیتی فیصلہ قرار دے رہی ہے تو اس پر عملدرآمد کس طرح ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کے مطابق یہ ازخود نوٹس ہی غلط تھا اور بنچ بنانے کا اختیار ہی اب چیف جسٹس کے پاس موجود نہیں رہا۔ قانون کا معمولی طالب علم بھی جانتا ہے کہ عدالتی حکم انتظامی حکم سے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ قاضی فائز عیسی صاحب کے اس عدالتی فیصلے کو پہلے رجسٹرار سپریم کے ایک سرکلر کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن پھر عجلت میں ایک چھ رکنی لارجر بنچ بنا کر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کو ختم کیا گیا۔ حالانکہ حکومتی اتحاد چیخ چیخ کر تھک گیا مگر اس کے مطالبے پر لارجر بنچ نہیں تشکیل دیا گیا تھا۔ اتنی عجلت میں لارجر بنچ کے قیام اور پانچ منٹ میں قاضی فائز عیسی کے فیصلے کو ختم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں۔ بہرحال اس لارجر بنچ کے قیام سے ایک لحاظ سے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے یہ توثیق خود کر دی ہے کہ رجسٹرار کا سرکلر غیر قانونی تھا، اور اس بارے میں جسٹس قاضی عیسیٰ کا موقف درست ثابت تھا۔
لہذا اب اگر یہ ثابت ہو گیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کا سرکلر غیر قانونی تھا تو پھر اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ عدالتی حکم کے خلاف انتظامی حکم کیوں اور کس کی ایما پر جاری جاری ہوا؟ جس کے بعد ذمہ دار شخص کو سزا ملنی چاہیے۔ لارجر بنچ کے قیام سے جب یہ ثابت ہو گیا کہ قاضی فائز عیسی صاحب کا فیصلہ وجود رکھتا ہے تو اس کے بعد اس فیصلے کو ختم کرنے والے چھ رکنی بنچ کی تشکیل بھی ازخود غلط ثابت ہو جاتی ہے اور آج نہیں تو کل یہ فیصلہ بھی ضرور کالعدم قرار پائے گا۔
ایک بات تو طے ہے کہ اس فیصلے کے بعد بھی انتخابات نہیں ہوں گے۔ وفاقی کابینہ تین رکنی بنچ کے فیصلے کو اقلیتی فیصلہ قرار دے کر مسترد کر چکی ہے اور قومی اسمبلی سے بھی اس کی توثیق کا ارادہ رکھتی ہے۔ کوئی شخص اگر توہین عدالت کے ڈراوے کے ذریعے انتخابات کی امید لگائے بیٹھا ہے تو یہ بھی اس کی خام خیالی ہوگی۔ پارلیمنٹ جب کابینہ کے فیصلے کی توثیق کر دے گی تو کیا پوری پارلیمنٹ کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر سزا سنائی جائے گی؟
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کی اگر الیکشن کے لیے اس وقت تیاری مکمل نہیں تو توہین عدالت لگا کر کس کس کو زبردستی مجبور کیا جا سکتا ہے؟ عدالتوں کے فیصلے کی ایک توقیر ہوتی ہے اور وہ دستیاب حقائق کی روشنی میں ہی حکم سناتی ہیں۔ عدالت کبھی بھی اس طرح کا فیصلہ نہیں دے سکتی جس پر عملدرآمد ناممکن ہو۔ میرے خیال میں چیف جسٹس نے حکومتی اتحاد کے فل کورٹ کے مطالبے کو رد کر کے عجلت میں جو حکم سنایا اس سے وہ خود بند گلی میں پہنچ چکے ہیں۔ نہایت معذرت سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اپنے فیصلے پر من و عن عمل کرانے کے لیے چیف جسٹس صاحب کو اپنے ادارے کی بھی مکمل حمایت حاصل نہیں لیکن اس کے بر عکس حکومت کے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔
نہایت افسوس سے بار بار یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اپنے فیصلوں کی وجہ سے آج ملک کی سب سے بڑی عدالت خود کٹہرے میں کھڑی ہے۔ معزز چیف جسٹس صاحب کو احساس ہونا چاہیے کہ تمام بار کونسلز اور خود سپریم کورٹ کے ججز کی طرف سے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنے کی آوازیں کیوں اٹھ رہی ہیں۔ سپریم کورٹ میں سنیارٹی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر موجود سینئر ترین جج قاضی فائز عیسی کئی مرتبہ اس متعلق چیف جسٹس صاحب کی توجہ دلانے کی کوشش کر چکے ہیں۔
حالیہ بینچ میں قاضی فائز عیسی کی عدم شمولیت اور بار بار مخصوص بنچ کی تشکیل سے اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ اختیارات کا غلط استعمال کہاں سے ہو رہا ہے۔ پارلیمان کے اختیار میں بار بار کی مداخلت سے اب پورے جمہوری نظام کے انہدام کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ حکومتی اتحاد کی مزاحمت بالکل درست اور بر محل ہے اور جمہوری نظام کی بقا کے لیے پارلیمنٹ پر فرض ہے کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات کسی قاعدے میں لانے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کرے۔


