ڈاکٹر احسان الرحمن صاحب کا مقالہ حروف مقطعات

میں جب جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ عمومی میں پڑھتا تھا تو احسان الرحمن شعبہ انگریزی میں ہوتے تھے۔ ان سے میری اچھی خاصی دوستی تھی۔ پھر عملی زندگی میں جہاں اور بہت سے دوست احباب روزگار کے سلسلے میں ادھر ادھر ہوئے وہیں موصوف سے بھی رابطہ نہ رہا۔ اب ایک زمانے بعد جامعہ کراچی کے دوست اور روزنامہ نوائے وقت کراچی کے ایک سابقہ ذمہ دار صدف اقبال کی وساطت سے احسان دوبارہ رابطے میں آئے۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے حروف مقطعات پر تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے ساتھ ایک دلچسپ نشست رہی۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ان کی گفتگو پیش خدمت ہے :
” جناب آپ نے اتنے مشکل موضوع کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لئے کیوں منتخب کیا اور یہ کہ اسی میں ڈاکٹریٹ کرنے کی وجوہات کیا تھیں! ؟“ ۔
” (مسکراتے ہوئے ) اس سوال کا جواب اتنا سادا بھی نہیں! یہ تو میری سرگزشت ہے جو جامعہ کراچی کے زمانے سے شروع ہوتی ہے۔ میں سب سے پہلے اپنے بہت ہی دیرینہ دوست شاہد صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے سوچا کہ میری تحقیق کے بارے میں بات ہونا چاہیے۔ تو میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے کہ میں وہ بات کروں جو حق ہو اور اللہ سبحانہ نے میرے ساتھ محبت کرتے ہوئے جو کچھ عطا کیا ہے میں اس میں دوسروں کو بھی شریک کروں“ ۔
” بات یہ ہے کہ جب میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچپن سے اسی کام کے لئے تیار کیا تھا۔ اگر میں شمار کروں تو ایک ایک قدم ادھر کو ہی جاتا ہے۔ تفصیل کی تو ضرورت نہیں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے ایم اے انگریزی اور پی ایچ ڈی کے درمیان ایک طویل عرصہ ہے۔ مجھے ابتدا ہی میں برٹش کونسل کے وظیفے پر لندن میں ڈاکٹریٹ کرنے کا ایک موقع ملا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر میں نہ جا سکا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں اس وقت یہ کر لیتا تو شاید یہ مقطعات پر نہ ہوتا۔ کیوں کہ عام آدمی اپنی زندگی میں ایک ہی پی ایچ ڈی کر سکتا ہے دو نہیں! “ ۔
” میں جب الجزائر گیا تو وہاں عربی اور فرانسیسی زبانیں سیکھیں“ ۔
” ارے! آپ الجزائر بھی گئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میں حکومت سندھ کی طرف سے وہاں بھیجا گیا تھا۔ میں نے وہاں چار سال تدریس کے فرائض انجام دیے۔ چوں کہ میں نے لسانیات پڑھی ہوئی تھی لہٰذا میری خواہش تھی کہ وہاں کی میسر زبانیں بھی سیکھوں۔ دل چسپی کی بات یہ ہے کہ وہاں کی بولی جانے والی زبان عربی کے قریب تو ہے لیکن عربی نہیں! لیکن میں نے وہاں ایک مستند استاد سے باقاعدہ عربی فصحا سیکھی۔ یہ عربی قرآن پاک کی ہے اور عربی ادب کی زبان ہے“ ۔
میری تحقیق کے لئے قدرت کے اشارے :
” اس سے پہلے بھی میں نے ریڈیو قاہرہ سے عربی کورس کیے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سارے اشارے میری اس ہونے والی ڈاکٹریٹ کی تیاری تھی۔ پھر جب یہاں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پی ایچ ڈی کا پروگرام شروع ہوا تو میں نے داخلہ لے لیا جو ایک عام سی بات تھی۔ چوں کہ میرا تجربہ اتنا تھا اور میں اسی جامعہ میں تدریس بھی کر رہا تھا اس لئے میرا براہ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ ہو گیا۔ پھر جب میرا کورس ورک مکمل ہو گیا تو میرے ذہن میں تھا کہ میں اپنا موضوع شیکسپئر کے کسی ڈرامے پر منتخب کروں گا۔
میرا میدان بھی یہ ہی تھا۔ اس کورس میں ڈاکٹر محمد غزالی صاحب ’قرآن، تھیم اینڈ اسٹائل‘ پڑھاتے تھے۔ اسٹائلسٹک چوں کہ میرا بنیادی مضمون رہا ہے اس لئے جب اسٹائل پر بات ہوئی تو میں نے ان کو قرآن پاک کی اسٹائلسٹک کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! میں ایک سورۃ کا اسٹائلسٹک تجزیہ کرتا ہوں۔ آپ اسے دیکھئے گا! یہ 2004 یا 2005 کی بات ہے۔ میرے علم کے مطابق اس وقت قرآن پاک کا ایسا اسٹائلسٹک تجزیہ کہیں بھی میسر نہیں تھا۔
تو میں نے ڈاکٹر محمد غزالی صاحب کو سورۃ ص کا یہ تجزیہ کر کے دکھایا جس کو انہوں نے پسند فرمایا اور کہنے لگے کہ تم ساری سورتوں پر یہ کام کرو۔ یہ سن کر میرے تو پسینے چھوٹ گئے۔ شوق کی بات تھی ایک سورۃ تو میں نے کر دی اب آپ کہہ رہے ہیں تمام سورتوں کا تجزیہ کر دو ! یہ کوئی آسان ہے؟ بات آئی گئی ہو گئی۔ ’شیکسپئر کے ڈرامے یا‘ ووڈس ورتھ ’کی کسی نظم پر اسٹائلسٹک تجزیہ کر نا میرے لئے بہت آسان تھا۔ پھر مجھے امید تھی کہ ایک دو سال میں یہ کر بھی لوں گا۔
اس وقت مجھے پتا چلا کی شرح صدر کیا ہوتا ہے۔ جب میں اس کام میں ہاتھ ڈالتا تھا تو میرا سینہ بند ہو جاتا تھا جیسے یہ کام کرنے والا نہیں ہے اور تم نے نہیں کرنا۔ پھر میں دوسری والی بات پر سوچنے لگتا کہ کیا اس پر کروں؟ تو یہ کام جیسے ہی اٹھاتا، سینہ ایسا کھل جاتا تھا جیسے دل خوشی سے باغ باغ ہو جائے! خوشی ہونے لگتی کہ یہی کام تو کرنے والا ہے اور پھر یہ آسان بھی لگنے لگتا۔ یہ بات دوسری ہے کہ اصل میں کتنا مشکل کام تھا یہ اللہ جانتا ہے! اس وقت ایسے محسوس ہوتا جیسے ایک باغ کھلے گا اور میں اس میں داخل ہو کر خوش نما پھول دیکھ رہا ہوں گا۔ آخر کار میں نے یہ عنوان چن لیا۔ میں نے یونیورسٹی سے درخواست کی کہ میرے اس عنوان کو منظور کر لیا جائے“ ۔
اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹدیز SOAS لندن میں داخلہ:
” اب یہاں یہ حالات تھے کہ اسلامی یونیورسٹی کے جتنے لوگ تھے بظاہر کھل کے کچھ کہتے نہیں تھے لیکن اس موضوع کے مخالف تھے۔ اس کی جو وجہ تھی وہ مجھے بعد میں پتا چلی۔ وہ یہ کہ ہمارے ہاں تفسیر ابن کثیر کا رواج ہے۔ اور پھر اسی کے حوالے سے مختلف مفسرین نے قرآن پاک پر اپنی تفاسیر لکھی ہیں۔ یہاں کی سب تفسیروں کا سرچشمہ یہی تفسیر ابن کثیر ہے۔ ظفر اسحاق انصاری صاحب تحقیق کے ڈائریکٹر تھے وہ بالکل بھی اس پر بات نہیں کرتے تھے کہ اس موضوع پر بھی کام ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر محمد غزالی سے میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ کام ایسے نہیں ہو گا۔ میں تمہیں ایک پروپوزل بنا کر دیتا ہوں اور تم اس پر کام کرو اور ملک سے باہر کام کرنے کے لئے درخواستیں دو ۔ تم یونیورسٹی آف لندن کے ’اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹدیز‘ SOAS میں جا کر اپنا ابتدائی کام کرو۔ دیکھا جائے تو وہ پروپوزل ان کا ہی بنایا ہوا تھا۔ انہوں نے میرے دو تین مہینے اس پر لگوا دیے۔ پھر میں نے وہ پروپوزل ’اسکول آف اورینٹل اینڈ
افریقن اسٹدیز ’کو بھیج دیا جنہوں نے اس کو منظور کر لیا۔ میں نے اپنے بیٹے سے بات کی جو برطانیہ میں تھا پھر اپنا زاد راہ لے کر برطانیہ چلا گیا۔ صورت حال یہ تھی کہ جب میں یہاں سے گیا تو میرے مالی حالت یوں سمجھیں کہ بس گزارہ ہی تھے۔ وہاں تو صرف فیس ہی 11000 / پونڈ تھی جو میرے بس سے باہر تھی۔ میرے پاس تقریباً 7000 / پونڈ تھے۔ ایک سال میں نے اس ادارے میں بغیر داخلے ہی کے گزار دیا۔ لیکن وہ یوں ہی نہیں گزرا بلکہ میں SOAS کی لائبریری چلا جاتا تھا۔
وہاں انہوں نے مجھے فیکلٹی وزیٹر کی حیثیت سے اجازت دے رکھی تھی۔ میں صبح 8 : 00 سے رات 8 : 00 تک یہاں بیٹھتا تھا۔ اس عمل میں ایک سال گزارا۔ ادب کا بنیادی جائزہ میں نے وہاں پر لکھا۔ میں نے اس میں کوئی چیز نہیں چھوڑی جو پی ایچ ڈی کی کسی تحقیق کے ادبی جائزہ کی ہونا چاہیے تھی۔ الحمدللہ میں نے وہ سارا کام کر لیا۔ وہاں مجھے ہر وہ تفسیر ملی جو نمائندہ اور موجود ہے، پائے کی بھی اور عام بھی۔ اس دوران میری عربی کی شد بد اتنی ہو گئی تھی کہ میں عربی تفسیر سے اس کا خلاصہ نکال لیتا تھا۔
پھر اس کے با وجود کوئی چیز پوچھنا ہوتی تو وہاں اس کے بتانے والے بھی میسر تھے۔ ماشاء اللہ میرے وسائل کھل گئے۔ پھر اگلے سال میں نے لینگؤسٹک میں داخلہ لے لیا کیوں کہ اب میرے پاس 11000 / پونڈ کی رقم ہو گئی تھی۔ کیوں کہ اس دوران میں نے SOAS میں باقاعدہ ٹیوٹر کی حیثیت سے پشتو پڑھائی تھی۔ پھر انہوں نے مجھے وہاں رکھ لیا اور 4000 / پونڈ کا وظیفہ بھی دیا۔ یوں میں نے بالا آخر یونیورسٹی آف لندن کے‘ اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹدیز ’میں داخلہ لے لیا ”۔
پروفیسر پیٹر سیلز کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کا مشورہ :
” وہاں ایک مضمون پڑھایا جا رہا تھا ’مارفو فونک‘ ۔ یعنی الفاظ کی صوتی ساخت یا شکل۔ اگر میں وہ نہ پڑھتا تو مقطعات کا یہ کام نہ ہو سکتا۔ میں نے وہاں کے اساتذہ سے پوچھا کہ کیا میں اس مضمون کو اپنے کام میں لے سکتا ہوں؟ اس پر پروفیسر پیٹر سیلز نے مجھے کہا کہ ہر ایک چیز کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ آپ ان سورتوں کے الفاظ اور ان کی صوتیات کو الگ کر لیں۔ پھر دونوں کو ملا کر دیکھیں کہ جو سورۃ آپ کہہ رہے ہیں کیا اس حرف کے ساتھ اس کا تعلق ہے؟ اس حرف کے صوتیات اور اس کی شکل کو بھی لے لیں۔ پھر اس کو دیکھ کر اپنا طریقہ کار خود تیار کریں! “ ۔
” پھر میں نے ال م کی کل چھ سورتوں پر ایم فل کے تھیسز کے لئے لکھ دیا جو وہاں سے منظور بھی ہو گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں نے ایم فل تو یہاں سے کر لیا، کیا میں پی ایچ ڈی بھی یہیں سے کروں؟ تو مجھے کہنے لگے کہ نہیں یہاں سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے کرو! اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی یونیورسٹی کی اپنی ایک مستند حیثیت ہے۔ پھر یہ کام تو بہت ہی زیادہ سند مانگتا ہے اور اسلامی یونیورسٹی سے کیے گئے اس کام کی سند زیادہ صحت مند ہو گی۔ یہاں سے کیا تو کہا جائے گا کہ غیر مسلموں سے یہ کام کروایا گیا ہے! مجھے مشورہ دیا کہ آپ اپنی یونیورسٹی جائیں وہاں لوگوں کو یہ کام دکھا کر ڈاکٹریٹ کرنے پر قائل کریں“ ۔
التوا کے مسائل۔ :
” تو میں جب پاکستان واپس آیا تو میرا یہ پروپوزل التوا کا شکار ہو گیا۔ بظاہر اس میں کچھ شعبہ جاتی مسائل بھی تھے۔ کڑوی بات یہ ہے کہ شعبہ میں کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسا کوئی کام نہیں کرنے دیا جائے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اپنے شعبہ انگریزی کی سربراہی عطا فرما کر چیئرمین بنا دیا۔ پھر میں نے بورڈ آف اکیڈیمک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ BASRسے دو ماہر لسانیات بلوائے۔
یہ شعبہ ہر ایک یونیورسٹی میں موجود ہوتا ہے۔ ہماری یونیورسٹی میں اس کے 60 ممبران ہیں جو مختلف فیکلٹیز سے ہیں۔ ان میں بنگلہ دیش، ملائیشیا، سعودی عرب، مصر اور دیگر ممالک کے بھی ہیں۔ پھر میں نے اپنا کیس پیش کیا۔ ان میں ڈاکٹر ندیم بخاری اور ڈاکٹر خواجہ نسیم صاحب ماشاء اللہ پاکستان میں انگریزی زبان کے پائے کے ماہر لسانیات ہیں۔ عربی کے تو کئی ایک قابل ترین ماہر یونیورسٹی میں پہلے ہی موجود تھے۔ تو میں نے جب ڈاکٹر ندیم بخاری اور ڈاکٹر خواجہ نسیم صاحب کو بلوایا تو انہوں نے میرا کیس بہت مضبوطی کے ساتھ پیش کیا۔
یہ بھی کہا کہ یہ ایک اہم موضوع ہے جس پر کام ہونا چاہیے۔ معین الدین عقیل صاحب جو آج کل کراچی شہر میں ہیں، اس وقت وہ فیکلٹی آف لینگویجز کے ڈین تھے، انہوں نے بھی اس کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی۔ یوں میرا کیس بورڈ آف اکیڈیمک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے تقریباً 60 ممبران سے منظور ہو گیا۔ یہ بہت اہم کامیابی تھی کیوں کہ اس کے بغیر میری ڈاکٹریٹ کی تحقیق نہیں ہو سکتی تھی۔ میں ان تمام ممبران کا مشکور ہوں! “ ۔
” یوں میں اس ذ ہنی اذیت سے نکل آیا۔ ورنہ میں بہت ہی دباؤ میں تھا۔ کیوں کہ ایک جانب تو وہ کام میرا جنون بن گیا تھا تو دوسری طرف راستے میں کافی رکاوٹیں پیش آ رہی تھیں۔ اب BASR کی منظوری کے بعد میرا تقریباً آدھا کام تو ہو گیا“ ۔
” پھر ایک واقعہ ہوا۔ وہ یہ کہ میں نے جب یہ کیس پیش کیا اور کہا کہ میں نے ایم فل برطانیہ سے کر لیا ہے اور یہ میری پی ایچ ڈی کا موضوع ہے تو مصر کے ڈاکٹر محمود شرف الدین صاحب نے جو شعبہ عربی کے ڈین تھے، مجھے کہا کہ کل تمہارے ساتھ ایک مشکل نشست کروں گا۔ وہ اگلے روز کوئی 80 سوالات لے کر آئے۔ جیسے مقطعات کیا ہیں؟ کن سورتوں میں ہیں؟ وغیرہ۔ جب میں نے جوابات دیے اور کام بھی دکھایا تو وہ کھڑے ہو گئے اور مجھے گلے لگایا۔
پھر کہنے لگے کہ اس کام کو میں سپر وائز کروں گا۔ اور اس کا ایک روپیہ بھی یونیورسٹی سے نہیں لوں گا! اس دن کی خوشی بیان سے باہر ہے! اس کے بعد شومئی قسمت کہ وہ مصر چلے گئے اور پھر ان کی واپسی نہیں ہوئی۔ ان کی جگہ ڈاکٹر محمد محمود صاحب آئے۔ یہ بھی مصر سے تھے۔ یہ جامعہ اظہر کے سربراہ کے بیٹے تھے۔ گو کہ وہ انگریزی پر بہت اچھا عبور نہیں رکھتے تھے لیکن میری ان سے عربی اور انگریزی کی ملی جلی زبان میں بات ہوتی تھی۔
انہوں نے BASR سے ایک سوال کیا کہ یہ کام عربی میں کیوں نہیں ہو سکتا؟ اس پر انہیں بتایا گیا کہ لسانیات نہ عربی کی اور نہ انگریزی کی ہوتی ہے! یہ کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ پھر اگر یہ آج انگریزی زبان میں ہو رہی ہے تو اس کی اشاعت زیادہ بڑے حلقے تک جائے گی۔ یہاں بھی BASR نے میری بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ پھر میں نے ڈاکٹر محمد محمود صاحب کو بتایا کہ باقی مواد کا مسئلہ کوئی نہیں ہے کیوں کہ میں تو پہلے ہی یہ کام لندن سے کر کے لایا ہوں۔ یوں تقریباً ایک سال اس کی نوک پلک سنوارتے ہوئے لگ گیا۔ اور میں نے اپنا کام جمع کروا دیا“ ۔
ایک قرآنی معجزہ:
ڈاکٹر صاحب نے اپنا تھیسس جمع کروانے کے بارے میں ایک قرآنی معجزہ بتا یا : ”اکثر اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ تھیسس جمع کروانے کے بعد جانچ پڑتال اور پھر وائیوا ہونے میں ایک سال لگ جاتا ہے۔ بعض افراد کے تو پانچ سے آٹھ سال بھی لگے ہیں۔ میرے ساتھ اپنے تھیسس جمع کروانے والے کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں چھ سال کا عرصہ لگ گیا۔ میں نے اس وقت کے وائس پریزیڈنٹ اکیڈ سے کہا کہ میں تو ریٹائر ہونے والا ہوں۔ میں نے کام مکمل کر کے جمع بھی کروا دیا ہے۔ اگر میری ریٹائرمنٹ سے پہلے میرا وائیوا نہیں ہو گا تو مجھے اپنی ڈاکٹریٹ سے دنیاوی فائدہ بالکل بھی نہیں ہو گا۔ نہ تو میری ترقی ہو گی نہ میرا گریڈ بڑھے گا۔ سچی بات یہ کہ میں ایسا نہیں چاہتا! ثواب آخرت کے ساتھ دنیاوی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اب یہاں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پہلے
ا یکسٹرنل ایوالیو ایٹر کو بیرون ملک تھیسس بھیجا جاتا ہے۔ جب ان کی رپورٹ آ جاتی ہے تو انٹرنل ایوالیو ٹر کو ملک میں بھیجا جاتا ہے۔ بیرون ممالک تو دیر لگتی ہی ہے کبھی اندرون ملک بھی چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ میری بات سن کر وائس پر یزیڈ نٹ اکیڈ نے فیصلہ کیا کہ دونوں طرح کے ایوالیو ٹر کو یہ تھیسس بیک وقت بھیج دیا جائے۔ ایسا شاذ و ناد ر ہوتا ہے۔ پھر دونوں ایوالیوٹر کو بتایا بھی کہ اس ڈاکٹریٹ کے امید وار کی جائز مجبوری ہے کہ ایوالیوایشن جلد کیا جائے۔ جب اس تبصرے کے ساتھ میرا تھیسس دونوں جگہ گیا تو محض دو ہفتوں میں میری دونوں رپورٹیں آ گئیں! ”۔
” واضح ہو کہ جب میرا تھیسس جمع ہوا تھا تو میری ریٹائرمنٹ ہونے میں تقریباً 48 روز باقی تھے۔ میں بہت پریشان تھا کہ یا اللہ اب کیا ہو گا! میں اسی زمانے میں ایک درس میں بیٹھا ہوا تھا کہ درس میں یہ آیت آئی: ’جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے تمہیں اچھے ہی نتیجہ کی طرف لے جائے گا‘ تو میں مطمئن ہو گیا کہ شاید یہ اشارہ میرے لئے ہی ہے۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ جب میرا وائیوا ہوا تو ریٹائرمنٹ میں 13 دن رہتے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ الحمدللہ میری اس محنت کے ثمرات مجھے ریٹائرمنٹ پر مل گئے! “ ۔
” اس کے بعد تو پھر کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ میں نے اس کو جامعہ کراچی میں پیش کیا۔ جامعہ کراچی کے اسلامک اسٹڈیز کے ڈین نے مجھے بلوایا اور استادوں، شاگردوں کے سامنے مجھے شیلڈ بھی دی جس پر میرے کام کا عنوان لکھا ہوا تھا۔ میں ویسے بھی ان دنوں کراچی گیا ہوا تھا۔ عجیب فخر اور شکرانے کا مقام تھا کہ کبھی میں بھی یہاں ایک طالب علم ہوتا تھا۔ سب سے بڑھ کر وہاں بیٹھے طلباء کے چہروں پر حیرانی محسوس کی! کہ میں نے ایک ایسے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے تو کوئی معنی ہی نہیں۔ پھر یہ کہ میرے سامنے بڑے بڑے نام آنے لگے جو مجھے کہتے تھے کہ بھئی کیا کر رہے ہو؟ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ یہ سب علم اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا جو کسی طور میری دسترس میں نہیں تھا! لیکن اس کے ساتھ عربی زبان، قرآن پاک اور لسانیات سے تعلق، پھر قرآن پاک کی اسٹائلسٹک سے آشنائی نے میری بہت مدد کی“ ۔
قرآنی مقطعات کی حروف تہجی کا پہلا حرف ق:
” اگر قرآنی مقطعات کی حروف تہجی بنائی جائے تو اس کا پہلا حرف ق بنے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واحد سورۃ ہے جو واحد حرف کے ساتھ ایک ہی مرتبہ آئی ہے۔ پھر ق اس سورۃ میں ایک ہی دفعہ آیا ہے۔ اس سورۃ میں ق کے جو بنیادی مضامین بنتے ہیں ان کے ساتھ وہ چمٹا ہوا ہے۔ ق قرآن کی بنیاد ہے۔ سورۃ ق کی پہلی آیت ہے : ’ق والقرآن المجید‘ ۔ اور اس کی آخری آیت ہے : ’قرآن سے لوگوں کو یاد دلاتے چلے جاؤ‘ ۔ سورت ق میں قرآن کے علاوہ جو مناظر پیش کیے گئے ہیں وہ قیامت کے ہیں۔
ق سے قرآن ہے۔ ق سے قیامت ہے۔ ق سے قبر ہے اور قبر کے جو بنیادی حالات ہیں جہاں موت کے بعد انسان کو لے جایا جائے گا۔ پھر جو بنیادی سوالات ہوں گے ان کا ذکر ہے۔ انسانوں کی قال اور قیل بھی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی قال و قیل بتا رہے ہیں۔ پھر جہنم کی بھی قال اور قیل بتائی جا رہی ہے۔ شیطان کی قال و قیل بھی بتائی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ حرف ق کی آواز حلق سے نکلتی ہے اور ق خود ٹھہرنے کا اشارہ ہے۔ اس لئے یہ موت کا بھی اشارہ ہے۔
کیوں کہ جب زندگی رکے گی اور انسان مرتا ہے تو ق کی آواز نکلتی ہے۔ تو اس سورت میں علاماتی اشارے بھی اور وہ مضامین بھی ہیں جن کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر جو الفاظ چنے گئے ہیں مثلاً : ’تم نماز قائم کرو سورج کے طلوع اور غروب سے پہلے‘ ۔ دوسری جگہوں پر اس طرح سے نہیں کہا گیا۔ اس سورۃ ق میں مضامین بھی ہیں، حروف بھی ہیں، الفاظ بھی ہیں، تھیم بھی ہے سبجیکٹ بھی ہے اور اسٹائل بھی“ ۔
سورۃ حٰ م :
” حٰ م اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ حٰ م کی 07 سورتیں ہیں۔ ایک سورۃ ایسی بھی ہے جس میں حٰ م کے علاوہ تین حروف ع س ق اور بھی ہیں۔ میں اس پر علیحدہ سے ایک مضمون لکھ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ سورۃ مریم میں ے ٰ پر بھی لکھا ہے۔ ص پر لکھا ہے، یہ تین سورتوں میں ہے۔ ا ل م پر تو ایک کتاب لکھی ہے۔ تو حٰ م کی سورتوں میں اللہ کی صفات اور حمد بیان ہوئی ہے۔ جیسے : وہ حمید ہے، رحیم ہے، رحمٰن ہے۔ پھر حمد کا مضمون اس طرح ہے کہ فرشتے بھی حمد بیان کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنی حمد خود بتا رہے ہیں، انسان اللہ کی حمد بتا رہے ہیں۔
اس طرح وہ تحمید اس کا موضوع ہے۔ اس کے بعد اگلی صفت یہ کہ وہ حا کم بھی ہے حکم بھی اور حکیم بھی ہے۔ دیکھئے ان سب میں حٰ بھی ہے اور م بھی۔ پھر وہ حئی اور قیوم بھی ہے۔ پھر انسانوں کے حوالے دیکھئے۔ یہ وہ وقت تھا جب کفار آپ ﷺ کی حیات کے درپے تھے۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ پر یہ سخت ترین وقت تھا جب یہ حٰ م کی سورتیں نازل ہوئیں۔ یہ بنیادی مضمون بتایا کہ: اے پیغمبر ﷺ تمہاری حیات اور موت میرے اختیار میں ہے۔
لہٰذا ان سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو مثالیں دیں جیسے فرعون، موسیٰ علیہ السلام کی حیات کے پیچھے تھا۔ وہ چھوٹے لڑکوں کو مرواتا اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ پھر ہوا کیا؟ فرعون جیسے شخص کے گھر میں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کا انتظام فرمایا۔ پھر وہی موسیٰ علیہ السلام اس کی موت کا باعث بنے۔ ان سورتوں میں کس قدر خوبصورتی سے اس موضوع کو پیش کیا۔ حٰ م میں حیات اور موت کے تصور کو بیان کیا۔
اگلی بات بہت دلچسپ ہے کہ جو کفار کا سوال بھی تھا کہ آیا موت کے بعد بھی کوئی حیات ہے؟ اس کا بھی جواب آیا کہ حیات کے بعد موت ہے اور پھر اس کے بعد پھر حیات! اور تم اپنا انجام بھی دیکھ لو۔ پھر ان لوگوں کو قوموں کے انجام سے بھی آگاہ کیا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ ہماری بس یہ ہی زندگی ہے۔ اور کہا تم موت کو سوچو اور موت کے بعد جو زندگی ہے اس کی فکر کرو“ ۔
” دوسرا زبردست موضوع یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں میں حکمت کو بھر دیا ہے۔ جو شخص ان سات سورتوں کو صحیح معنیٰ میں پڑھ اور ان کی حکمتوں کو سمجھ لے وہ شخص حکمت حاصل کر لے گا۔ ایک مثال دیتا ہوں۔ مثلاً یہ کہا : ’باہم مشورہ کر لیا کرو‘ ۔ اب یہ اقوام متحدہ، ہماری قومی اور صوبائی اسمبلیاں کیا ہیں؟ یہی ہے نا! اسی طرح اگر ہم اپنے گھروں میں مشورہ نہیں کرتے تو غلطی کا امکان بڑھ جاتا ہے جب کہ مشورے سے حکمت بڑھ جاتی ہے۔ اس نکتہ سے میں یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ حٰ م اتنی خوبصورتی سے اس پوری بناوٹ میں پرو دی گئی ہے! “ ۔
” آپ یقین کیجئے کہ انشاء اللہ جب یہ تحقیق عام ہو گی اور مفسرین حٰ م کی تفسیر لکھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ جتنا کچھ لکھا جا چکا ہے، اس سے کچھ اور بڑھائیں گے! پھر اس سے قرآن پاک کی سمجھ اور فہم میں مزید اضافہ ہو گا۔ اس سے اگلی بات یہ کرنا چاہوں گا کہ ہم بنیادی طور پر غیر اہل زبان (عربی) ہیں، جب یہ چیز عربوں میں جائے گی تو حٰ م میں تو پہلے ہی خزینہ ہے۔ تو پھر جب وہ تفسیر لکھیں اور توجہ کریں گے تو سوچیں جو قرآن کی سمجھ ہو گی وہ کس درجے پر جائے گی! ہم مفسر نہیں نہ ہمارا کام تفسیر کرنا ہے لیکن مفسرین اپنے علم کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتے ہیں جب ان کے پاس یہ علم آئے گا تو اس تحقیق کے اثرات بہت آگے تک جائیں گے انشاء اللہ! “ ۔
” کیا آپ کا یہ کام اس سے پہلے کسی نے کہیں اور بھی کیا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اصل میں مقطعات پر جو بنیادی مسئلہ تھا وہ یہ کہ اس کے نیچے لکھا ہوتا تھا کہ اس کے معنی کسی کو معلوم نہیں! ایک طرح سے یہ کسی تحقیق یا مزید جاننے کی حوصلہ شکنی کی ایک شکل تھی۔ لیکن اس پر فلسطین یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا میں نے ایم فل کا ایک مقالہ پڑھا۔ اس مقالے میں جتنے مفسرین نے ان کے جو معنی دیے ہوئے ہیں ان کو ایک ربط کے ساتھ پیش کیا۔ ہمارے ہاں تو تفسیر ابن کثیر کا ہی بول بالا ہے لیکن دنیا میں بڑے بڑے مفسرین مثلاً زرکشی، کشاف، طبری وغیرہ نے کم از کم 30 صفحات حروف مقطعات پر لکھے ہیں۔ اس طرح میں نے یہ کوئی نیا کام نہیں کیا! میں نے تمام مفسرین کی وہ آرا جو انہوں نے دی تھیں ان کو پرکھا پھر ان کو اکٹھا کر کے جو تصویر بنائی اس میں کچھ رنگ میں نے ڈالے۔ یہ رنگ اسلوبیت اور مارفو فنیمک سے نکالے۔ لیکن بنیادی خاکہ سب تصاویر کو ملا کر ہی بنتا تھا“ ۔
” اس حوالے سے اٹھارہویں صدی کے ایک جرمن اسکالر ’نا ن پکی‘ نے تحقیق کی تھی اور بہت سارے نکات اس نے بھی بیان کیے تھے کہ یہ حروف مقطعات صحابہ کے نام ہیں جنہوں نے سورتوں کی کتابت کی تھی، انہوں نے اپنا نام ڈال دیا تھا۔ جیسے م سے مغیرہ، ط سے طلحہ ٰ لیکن پھر ایک مسلمان اسکالر کے ساتھ مناظرے کے بعد انہوں نے اپنی یہ رائے واپس لے لی۔ لیکن نا ن پکی نے اپنی تحقیق میں مختلف حوالوں سے ایسے اشارے دیے جس سے میری تحقیق میں بڑی مدد ملی۔
ان کے ایک ساتھی ’موزلز‘ نے بھی اسی طرح ح م کے حوالے سے بتایا جس سے مجھے بہت مدد ملی۔ وہ یہ کہ ح م سے مراد آگ ہے کیوں کہ ان سورتوں میں آگ کا ذکر ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ح م کی ان سات سورتوں میں ایک ایسی بھی سورت ہے جس میں 3 حروف اضافی ہیں جو دوسری آیت میں آتے ہیں۔ باقی ح م تو سورتوں کی آیت نمبر ایک میں آتے ہیں لیکن یہ آیت نمبر 2 میں آتے ہیں! میری تحقیق کے مطابق یہ چونکہ آیت نمبر 2 میں آتے ہیں اس لئے ان کی حیثیت بھی ثانوی ہے۔ ان کو سمجھنے کے لئے جیسے ہم نے ق کا ذکر کیا اب اس میں ایک ق بھی ہے۔ ق کے وہی مضامین جو وہاں ملتے ہیں انہیں یہاں ثانوی طور پر چھوا گیا۔ اسی طرح س بھی یہاں ثانوی چھوا گیا۔ پھر ع بنیادی طور پر سورت مریم کے مضمون کا حصہ ہے مگر یہاں وہ بھی ثانوی استعمال کیا گیا۔ میں نے اس کا بھی ذکر کیا ہے“ ۔
حروف مقطعات پر لکھنا، سننا، پڑھنا اور سوچنا شجر ممنوعہ :
” ہمارے ہاں عام تاثر تو یہ ہے کہ حروف مقطعات کے بارے میں لکھنا، سننا، پڑھنا اور سوچنا بھی شجر ممنوعہ ہے حالاں کہ بقول آپ کے دیگر اسلامی ممالک میں اس پر بہت کام کیا گیا۔ تو آپ اتنے خطرناک کام میں کیسے پڑ گئے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” یونیورسٹی کے درجے تک ہمارے محققین سمجھتے ہیں کہ جب بورڈ آف اکیڈیمک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ BASR سے کوئی چیز منظور ہو جائے ( جس کا سرٹیفیکیٹ میرے پاس موجود ہے ) تو کی گئی تحقیق پر بات ہو سکتی ہے۔ پھر اس سے پہلے یونیورسٹی درجے کی میں نے ایک ’پریزنٹیشن‘ سورۃ ق پر دی تھی۔ اس میں طلباء اور اساتذہ موجود تھے جنہوں نے اسے پسند بھی کیا۔ اس کے علاوہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ جب میں جامعات میں جا کر بتاتا ہوں کہ دنیا میں جتنے اسکالرز اور مفسرین نے کام کیا ان میں محض 5 فی صد ہی ایسے ہیں جو اس پر کام ہونے کے سخت خلاف ہیں۔
لیکن یہ ان کی رائے ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ چوں کہ یہ الفاظ سمجھ میں نہیں آتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سمجھنے کے لئے ہیں ہی نہیں! پہلی بات یہ کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے کوئی معنیٰ نہیں ہیں تو آپ اس کو صفر معنیٰ تو دے رہے ہیں۔ گویا یہ بے معنیٰ ہو گئے۔ میرے خیال میں یہ ایسا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ کچھ لوگوں کے نزدیک آپ ﷺ کو اس بات کا علم تھا۔ میرے نزدیک یہ بات درست نہیں کیوں کہ رسول کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اب اگر نہیں پہنچا تو بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے رکھا گیا ہے۔ اس کے حوالے سے امین احسن اصلاحی صاحب نے یہ بات ’تدبر القرآن‘ میں لکھی ہے کہ یہ امت پر فرض رہے گا! جب تک امت اس پر کام نہیں کرے گی یہ کام اس پر قرض رہے گا! “ ۔
” صحابہ رضوان اللہ علیہم نے حروف مقطعات پر تحقیق اپنی زندگیوں میں کیوں نہیں کی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اس کے لئے بہت ہی آسان سی وضاحت ہے جس پر تھوڑا سا سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس دو طرح کا علم ہوتا ہے۔ ایک شعوری دوسرا غیر شعوری۔ جو علم شعوری ہوتا ہے اس میں ہم سوالات کرتے ہیں اور غیر شعوری علم میں سوالات نہیں کیے جاتے۔ تو اصل میں یہ ان کے غیر شعوری علم کا حصہ تھا! کیوں کہ جو عرب شعراء تھے ان کے لئے تو یہ ( حروف مقطعات ) ایک عام سی بات تھی جو ایک حرف کو لے کر ، جیسے میں نے ق کی مثال دی ہے، یہ شروع ہو جاتے۔ ان کے ادب میں یہ چیز پہلے بھی موجود تھی۔ لیکن ان کی ہمت صرف ایک حرف سے زیادہ تک ہی محدود تھی اس سے آگے وہ نہیں جا سکتے تھے۔ لیکن قرآن انہیں ایک، دو ، تین، چار اور پانچ حرف تک لے کر گیا ہے۔ غور طلب بات ہے کہ پانچ ہی حرف عربی زبان میں موجود ہیں، اس سے زیادہ نہیں! “ ۔
ایک نہایت مشکل کام:
” جب میں نے یہ کام شروع کیا تو مجھے ایسے لگا جیسے میں آسانی سے کر لوں گا لیکن بعد میں مجھے مشکل پیش آئی۔ خاص طور پر جو ح م والی سورتوں میں مجھے بہت دشواری ہوئی۔ میں یہ سمجھا کہ باقی سورتوں پر تو میرا کام ٹھیک ہو گیا لیکن ح م کے حوالے سے میری ابتدائی تحقیق کا مفروضہ تھا کہ کیا ان سورتوں کا ان حروف کے ساتھ کوئی تعلق ہے؟ تو مجھے لگ رہا تھا کہ یہاں میں ناکام ہو چکا ہوں! یہ ایک دل شکن صورت حال ہو گئی تھی۔
لیکن کمال یہ تھا کہ ہمارے ہاں اسٹائلسٹک یا اسلوبیات کی تکنیک کہتی ہے کہ بار بار پڑھو۔ پھر قرآن کا مطلب ہی بار بار پڑھنے والی چیز ہے! اسلوبیات میں آپ کو اسلوب میں دسترس اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب تحریر کو بار بار پڑھا جائے۔ پھر تو میں نے ح م کو اپنے پڑھنے کا نسخہ بنا لیا۔ اپنی ڈاکٹریٹ کے بعد بھی میں نے مسلسل چھ مہینے ح م کی سورتیں پڑھیں! اس کے بعد اب میرا پیپر سامنے آئے گا۔ وہ بنیادی خاکہ تو ہو چکا لیکن جب اس پر تفصیلی کام کرنا شروع کیا تو ح م اللہ تعالیٰ کی صفات حمیدہ پھر اس کے بعد اس کے موضوعات، اس کے سیاق و سباق کے حوالے سے میں پچھلے چار مہینوں سے اس آرٹیکل / مضمون پر کام کر رہا ہوں جو اب مکمل ہونے کے قریب ہے“ ۔
ایبسٹریکٹ یا تحقیق کا خلاصہ:
” ہم ’ایبسٹریکٹ‘ یا تحقیق کے خلاصے میں بتاتے ہیں کہ یہ کام کیا ہے؟ وہ کام ان سورتوں میں حروف ( حروف مقطعات ) کا مطالعہ کرنا تھا جو میں نے کیا۔ پھر اس کے بعد یہ سمجھتے ہوئے یہ مفروضہ لیا کہ ان حروف کا سورتوں کے ساتھ تعلق ہے! اب آخر میں یہ ہو سکتا تھا کہ ہم کہتے کہ ہمارا مفروضہ غلط ثابت ہو گیا تو پھر بھی تحقیق ہو جاتی۔ اور اگر یہ درست ثابت ہو جاتا پھر بھی تحقیق ہو جاتی۔ دونوں صورتوں میں تحقیق مکمل ہو جاتی۔
کیوں کہ یہ لازمی نہیں ہوتا کہ کسی تحقیق میں مفروضہ ضرور ہی درست ثابت ہو جائے! یہ ہی تو تحقیق کا کمال ہے! ابھی آپ نے رائے نہیں دی بلکہ ابھی تو یہ دیکھنا ہے کہ آپ کی تحقیق قابل عمل اور قابل پرکھ ہے یا نہیں! جیسے میں نے سورۃ ق پر لکھا ہے تو آپ خود بھی سورۃ ق کھول کر دیکھیں کہ یہ مضامین اس میں ہیں یا نہیں! “ ۔
پراسس یا طریقہ:
” پھر اس میں تیسری چیز پراسس یا طریقہ ہے۔ اس میں اس حرف کو تاریخی پس منظر میں بیان کرتے ہیں۔ پھر یہ کہ اس حرف کی صوتیات کیا ہیں؟ مثلاً آپ نے کہا ل۔ اب ل کی صوتیات میں لا بھی آ گیا، و بھی آ گیا اور ما کی آواز بھی آ گئی۔ لام کی الٹ کریں تو مال بن جائے گا! اسی طرح اگر ال م کو اکٹھا کریں تو الم بن جائے گا۔ اھر اس میں ے ڈالیں تو الیم بن جائے گا۔ اگر ز ڈالیں تو ازلم بن جائے گا۔ مفروضات پھر صرف اور نحو بنتے ہیں جو مارفولوجی کا حصہ ہیں۔
تو سوال تھا کہ کیا یہ الفاظ ان سورتوں میں پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ پھر ہم ان سورتوں کو پڑھ کر ان کا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں کہ اس میں ال م کے کتنے حروف ہیں؟ کتنے الفاظ بنے؟ وہ الفاظ کون کون سے ہیں؟ یہ مرحلہ پراسس میں آتا ہے۔ پھر ہر ایک تحقیق کا ایک ریفرنس پائنٹ / نقطہ حوالہ ہوتا ہے اور ہمارا نقطہ حوالہ اسٹائلسٹکس تھا“ ۔
اسلوبیات :
” ہم پہلے درجے میں صوت کو رکھتے ہیں۔ صوت سے حرف بنتا ہے۔ حرف سے لفظ بنتا ہے۔ لفظ سے کلمہ اور کلمے سے جملہ بنتا ہے۔ اور جملے سے آیات بنتی ہیں۔ ہم اس درجہ بندی پر جانچتے ہیں۔ پھر اس سورۃ کے مجموعی مضامین کو دیکھتے ہیں۔ ایک نکتہ جاننا ضروری ہے کہ ہم اپنی کوئی تفسیر نہیں دیتے۔ تفسیر مولانا مودودی یا جناب امین احسن اصلاحی صاحب یا کسی بھی مفسر کی تفسیر لے سکتے ہیں“ ۔
” آپ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں کیوں نہیں گئے؟ آپ ایبٹ آباد یا آزاد کشمیر یونیورسٹی میں بھی جا سکتے تھے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میں تو پشاور یونیورسٹی بھی جا سکتا تھا۔ میں نے تو ایک مرتبہ وہاں کوشش بھی کی تھی لیکن کام نہ بن سکا۔ میرے انتخاب کے لئے تو قائد اعظم یونیورسٹی کے بھی روشن امکان اور پیشکش بھی تھی۔ اسلامی یونیورسٹی میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ میں اسلام سے منسلک رہنا چاہتا تھا۔ میرے ذہن میں تھا کہ میں انگریزی کا پرو فیسر تو ہوں لیکن اللہ کا بندہ بھی ہوں! ان لوگوں کو انگریزی پڑھاؤں جو اللہ سے محبت رکھتے ہیں“ ۔
” آپ کراچی میں سندھ کے سرکاری کالج میں پڑھا رہے تھے یونیورسٹی میں پروفیسری کا کیا قصہ ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” اس سلسلے میں پہلے تو یہ کہ میں اپنے والدین کے قریب رہنا چاہتا تھا۔ کراچی سے اسلام آباد منتقل ہونے کا بنیادی مقصد بھی یہی تھا! میں اپنے والدین کا واحد پروفیسر کے درجے کا فرد تھا۔ باقی افراد بھی پڑھے لکھے ہیں لیکن پرو فیسر کوئی بھی نہیں تھا۔ میں نے یہ سوچتے ہوئے کہ سوات میں والدین ہیں یوں میں ان کے قریب ہو کر جب چاہوں ان کے پاس تو جا سکوں گا۔ پھر وہ بھی آ سکتے ہیں۔ اس زمانے میں کراچی سے آنا جانا بہت مشکل کام تھا۔
ان دنوں خط سے ہی کام چلتا کیوں کہ ٹیلی فون بھی بہت سوں کو میسر نہیں تھے۔ دوسرے یہ کہ میری خواہش تھی کہ میں کیوں نا سب سے بلند درجے پر یعنی یونیورسٹی میں پڑھاؤں! میری یہ خواہش بھی اللہ نے پوری کی اور میں 1992 میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں آ گیا۔ میں نے یونیورسٹی میں بوساطت مجاز درخواست دی۔ اسی لئے مجھے پوری نہیں بلکہ آدھی پنشن مل رہی ہے“ ۔
” پنشن کی رکاوٹ کیوں ہوئی؟“ ۔
” حکومت سندھ میں پنشن کے اپنے قوانین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے اپنے! لیکن میں نے کیس کیا ہوا ہے۔ کبھی تو شنوائی ہو گی۔“ ۔
یونیورسٹی پروفیسر اور لازمی پی ایچ ڈی :
” آپ نے ڈاکٹریٹ کیوں کی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” در اصل یونیورسٹی کا پروفیسر چین سے بیٹھ نہیں سکتا۔ یونیورسٹی کی پروفیسر شپ آپ کو ٹانگ کے رکھتی ہے! آپ ہمیشہ دھار پر ہی رہتے ہیں! آپ کے کچھ ہم عصر ڈاکٹریٹ کر رہے ہوتے ہیں کچھ کر چکے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ڈاکٹر پروفیسر کے رتبے کا اپنا الگ ہی مزہ ہے! لیکن میرے ڈاکٹریٹ کرنے میں جس چیز نے ترغیب دلائی وہ ایچ ای سی / ہائر ایجوکیشن کمیشن ہے۔ اس نے خاص طور پر یونیورسٹی پروفیسروں کے لئے ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ وہ اگر اپنی ملازمت چاہتے ہیں تو انہیں لازما پی ایچ ڈی کرنا پڑے گی!
پروفیسر کے لئے تحقیق کی اشاعت بھی ضروری ہو گئی۔ اس کے لئے آپ کو تحقیق کی جملہ تکنیک بھی معلوم ہونا ضروری ہوئیں! پھر اس کے لئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرانے کے لئے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ یہاں شعبہ انگریزی میں پی ایچ ڈی کرانے کا کوئی سلسلہ ہی نہیں تھا۔ اس کے لئے بھاگ دوڑ ہم نے خود ہی کی اور ڈاکٹر قادر خان صاحب کو پشاور سے لے کر آئے جنہوں نے یہ شعبہ متعارف کروایا اور ابتدا میں اس کی سربراہی بھی کی“ ۔
تلاوت قرآن سے دلچسپی:
” اس زمانے میں پاکستان ٹیلی وژن پر صبح کی نشریات میں کسی پروگرام میں قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ نشر ہوتا تھا۔ میں یہ پروگرام باقاعدگی سے سنا کرتا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان سے صوت القرآن نامی ایک پروگرام میری دلچسپی کا محور بنا جس کو میں اپنی گاڑی میں بلا ناغہ سنتا تھا۔ الفاظ کے ساتھ ان کی تصویر ابھر کر سامنے آتی حالاں کہ اس وقت تو دور دور مجھے کسی بھی قسم کی تحقیق سے کوئی علاقہ نہیں تھا۔ بات تو اس وقت شروع ہوئی جب میں نے باقاعدہ ڈاکٹر غزالی کے سامنے اپنا اسائنمنٹ پیش کیا۔
اس میں یہ بات سامنے آئی کہ سورہ ص میں تمام پیغمبران کا ذکر ہے جو صابرین ہیں۔ اور پیغمبر اکرم ﷺ کو ان ہی کے حوالے سے صبر کی تلقین کی گئی۔ تو ایک مضمون بننے لگا کہ ص سے صبر بھی ہے۔ اس سے صبر کی تلقین بھی کی گئی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر ہے جن کا صبر مثالی ہے۔ اب یہاں سے کڑیاں ملنے لگیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ ص کے حوالے سے اس سورۃ میں ایسے ایسے الفاظ چنے گئے جو دوسری جگہوں پر کچھ اور ہیں! مثلاً گھوڑوں کو عادیات کہا گیا لیکن یہاں صافنات کہا گیا۔ اب ہمارے سامنے یہ سراغ ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کا چناؤ خاص طور سے کیا جو ص سے مطابقت رکھتے ہوں؟“ ۔
” میرے والدین کوئی بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ وہ ہمیں ہدف اور مقاصد دے کر نہیں پڑھاتے تھے۔ بس یہ کہا جاتا کہ پڑھو گے تو کہیں اچھی ملازمت مل جائے گی! ہاں اگر ڈاکٹر بن جاؤ تو عزت ہو گی اور لوگوں کی خدمت بھی کرو گے۔ اس وقت خدمت کرنے کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا۔ میں نے پری میڈیکل میں داخلہ لیا۔ اس وقت سیلف فائننسنگ کی اسکیم نہیں تھی، پھر اگر ہوتی بھی تو میں میڈیکل کالج میں نہیں جا سکتا تھا کیوں کہ ہمارا پس منظر ایسا نہیں تھا کہ بھاری فیسیں ادا کر سکتے! “ ۔
لسانیات میں ماسٹرز کرنا:
” جامعہ کراچی میں شعبہ انگریزی میں لنگیوسٹکس / لسانیات کا ایک پیپر پڑھایا جاتا تھا جسے جناب انیس الرحمن پڑھاتے تھے۔ مجھے اس سے ایک شغف پیدا ہو گیا۔ میں نے پھر بعد میں اسی جامعہ سے لسانیات میں ایم اے کیا۔ چوں کہ میں نے شعبہ انگریزی میں بی اے آنرز / اعزازی کر رکھا تھا اس لئے کہ میں نے یہ ایم اے ایک سال میں کر لیا۔ اللہ نے اسی میں مجھے گولڈ میڈل دلوا دیا۔ یوں میری حوصلہ افزائی ہو گئی۔ وہ جذبہ اور لسانیات تو اپنی جگہ پر رہ گئے لیکن جب میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں آیا تو یہاں F۔ 6 ماڈل کالج برائے خواتین، اسلام آباد نے اپنے ہاں لسانیات پڑھانے کے لئے ہم سے درخواست کی۔ ہم نے وہاں لسانیات پڑھائی اور پھر اس کا ایک شعبہ بھی بنا کر دیا“ ۔
الجزائر میں قیام اور زیتون کی کاشت:
” میں 1985 میں الجزائر گیا۔ وہاں زیتون کاشت ہوتی تھی۔ میں سوات کا رہنے والا ہوں۔ یہاں بھی زیتون کے درخت کافی ہوتے ہیں۔ جب میں واپس آیا تو میں نے ڈاکٹر کرامت خان جو اس وقت شعبہ زراعت کے سربراہ تھے، ان سے کہا کہ آپ الجزائر کی طرح زیتون کی کاشت پاکستان میں کریں! انہوں نے مجھے کہا کہ میں ایک خط لکھوں جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ ایسا کیوں کریں! میں نے لکھا کہ اس پودے کے پتے تک علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ بکری بھی اس کے پتے کھاتی ہے۔
اس کا پودا بھی مبارک ہے۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر ہے! اس کا پھل بھی قیمتی ہے۔ اس طرح آپ کو شجر کاری کا ثمر بھی ملے گا۔ اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ عوام درخت کاٹ لیتی ہے تو زیتون کا درخت کوئی نہیں کاٹے گا۔ یہ ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ میں نے یہ سب اس خط میں لکھ دیا۔ پھر ایک سال بعد میں نے ڈاکٹر موصوف سے پوچھا کہ اس خط کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ میرے اس خط کی سفارش پر مملکت ہسپانیہ سے زیتون کے 40000 پودے منگوائے گئے۔ انشاء اللہ جلد ان کو پھلتے پھولتے دیکھیں گے۔ لہٰذا آج جو آپ پاکستان میں زیتون کو دیکھ رہے ہیں اس کی ابتدا میں میرا بھی کچھ حصہ ہے! “ ۔
قرآن سے تعلق:
” بچپن ہی سے میرا قرآن پاک سے تعلق رہا۔ میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ جب تم پیدا ہوئے تو تمہارے دادا جو ریاست سوات کے سپریم قاضی تھے انہوں نے تمہارے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا یہ انگریزی کا عالم بنے گا! بات آئی گئی ہو گئی۔ لیکن پھر وقت نے جلد ہی ان کی کہی بات کو سچ ثابت کر دکھایا! “ ۔
” میری مہارت قرآنی علم کے اطلاق پر ہے۔ اپنی تمام لسانیات میں اسی کام میں ڈالتا ہوں! خاص طور پر سنکرونک / ہم وقت ساز اور ڈائی کرونک یعنی کسی عہد میں ہونے والی زبان کی تبدیلیوں کے مطالعہ سے متعلق علم کہ ہم قرآن کی روشنی میں اس علم کا اطلاق کیسے اور کہاں کہاں کریں؟ یہ اللہ کی عطا ہے۔ میں 20 سالوں سے ان موضوعات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن پاک کا درس دے رہا ہوں۔ مقطعات پر بھی میں نے پچھلے دنوں زوم پر خواتین کو ایک درس دیا تھا جس کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی“ ۔
” حروف مقطعات کو آخر کیوں شجر ممنوعہ کیوں سمجھا جاتا رہا؟“ ۔
” نہیں اب ایسا نہیں رہا! ثاقب اکبر صاحب نے پہلی مرتبہ حروف مقطعات پر اردو میں ایک کتاب لکھی ہے۔ میں نے انہیں بلایا اور انہوں نے میرے گھر میں بھی لوگوں کے سامنے گفتگو کی۔ دنیا میں جتنے مفسرین نے اس میدان میں جو جو کام کیا وہ انہوں نے ایک جگہ مرتب کیا ہے۔ لہٰذا اب یہ شجر ممنوعہ نہیں رہا۔ یہ عوام تک آہستہ آہستہ ضرور پہنچے گا“ ۔
” آپ نے میٹرک کیا، کالج گئے، یونیورسٹی میں آئے پھر مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر لیکچرار ہو گئے۔ کیا اس وقت ذہن میں تھا کہ مقطعات پر کام کروں گا؟“ ۔
” نہیں ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔ یہ خیال ایم فل پروگرام کے دوران یک دم پیدا ہوا۔ پی ایچ ڈی پروگرام میں اس نے نشو نمائی پائی۔ جب کہ پچھلی تمام معلومات غیر شعوری طور پر کام آتی رہیں“ ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا : ”کہ ایک غیر مسلم انگلستانی عالم جو شعبہ لسانیات کے سربراہ تھے، انہوں نے ابتدائی راہ نمائی فرمائی۔ وہ ٹیکنیکل لوگ ہوتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر یورپ میں اردو مشاعرہ ہو تو یہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں گو کہ اردو نہیں سمجھتے لیکن اس کا آہنگ سمجھ سکتے ہیں! اسی طرح ان عالم کا کہنا تھا کہ میری اس مجوزہ تحقیق کے اندرون کا تو پتہ نہیں لیکن اس کے جو طور طریقے ہیں، وہ ان کا اطلاق کروا سکتے ہیں“ ۔
اصل مسئلہ لا کا ہے :
” میری تحقیق کا اصل مسئلہ لا تھا۔ قدم قدم پر یہاں لا سے سابقہ پڑا۔ یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا! اس سے آگے ہی نہیں بڑھتے تھے۔ جب کہ انگلستانی عالم نے کہا کہ آپ کا مفروضہ ٹھیک ہو یا غلط تحقیق تو ہو سکتی ہے۔ اب وہ مفروضہ ٹھیک ہو یا غلط ثابت ہو، تحقیق تو ہو گئی نا! یہ ہی بات میں نے اپنی تحقیق کے آخر میں کہی بھی ہے۔ بلکہ ڈاکٹر انوار صدیقی (م) اللہ مغفرت فرمائے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ تحقیق چھوڑو کوئی کتاب لکھ ڈالو!
میں نے کہا کہ کتاب لکھنا تو مشکل کام ہی نہیں لیکن میں کوئی ایسا متنازعہ کام نہیں کرنا چاہتا جس کو پھر میں جانوں یا میری کتاب جانے۔ جب کہ تحقیق میں ایک سپر وائزر ہو گا ایک میں ہوں گا۔ پھر اس تحقیق کو اسکالرز / اہل علم پرکھیں گے۔ اس کے بعد بورڈ آف اکیڈیمک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ BASRکے لوگ اس کو دیکھیں گے۔ پھر اس تحقیق کے غیر ملکی جید علما اپنی کسوٹی پر جانچیں گے، تب کہیں جا کر میری بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کا کام مستند مانا جائے گا! جب کہ کتاب لکھی یا نہیں لکھی۔ کیا فرق پڑتا ہے! “ ۔
حروف مقطعات کوئی نئی چیز نہیں :
” حروف مقطعات کوئی نئی چیز نہیں! عربی زبان میں دور جہالت کے اشعار موجود ہیں جن میں ق کا استعمال کیا گیا۔ عربوں کا لاشعوری علم اپنی جگہ پر کام کر ہاً تھا۔ ان کے اس علم پر کوئی سوال نہیں کرتا تھا۔ مثلاً آپ اردو بولتے ہیں۔ آپ کی بول چال میں کبھی کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ یہ لفظ فعل ہے یا اسم؟ بہت سے بولنے والوں کو اس کا پتا بھی نہیں ہوتا اور ان کو اس کا پتہ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ لیکن وہ بالکل صحیح بولتے ہیں۔
جب کہ کوئی نیا شخص اردو زبان سیکھے گا تو اس کے لئے ان سب کا جاننا ضروری ہو گا۔ یہ شعوری معلومات ہوں گی جب کہ پہلے والی غیر شعوری معلومات ہیں۔ اب یہ لا شعوری علم زمانہ جہالت کے عرب عوام میں موجود تھا۔ اور اس کا پوچھنا ایسا تھا جیسا بے وقوفی والی بات ہو! اور یہ حروف مقطعات ان کے علم کا احاطہ کرتا تھا۔ لیکن بعد میں پھر آہستہ آہستہ یہ چیز ان سے نکل گئی! وہ ماحول وہ شاعری ان کے ہاں ختم ہو گئی۔ زوال تو ہوا نا!
پھر بعد کے زمانے میں اس سے ہٹ کر الگ سے سوچنا شروع کیا تو بعض لوگوں نے ان حروف مقطعات کے بارے میں کہا کہ ان کے کوئی معنیٰ نہیں کچھ نے کہا کہ ہاں ہیں! پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ہاں اس وقت یہ چیز ان کے ہاں موجود تھی اور استعمال بھی ہوتی تھی! یہ چیز ہم کو تفاسیر میں بھی ملتی ہے۔ تفسیر اللباب میں جتنی بھی اچھی تفاسیر ہیں ان
کا لب لباب پیش کیا گیا ہے! اس میں اس دور کے کئی اشعار بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اب دنیا سمٹ گئی ہے اور تمام تفاسیر ہمارے سامنے ہیں ”۔
” آپ کی ڈاکٹریٹ کس سن میں تکمیل کو پہنچی؟“ ۔
” مارچ 2013 میں! “ ۔
حرف آ خر:
” اول اور آخر حمد اللہ کی جس نے مجھے اس طرف راہ دکھائی۔ میں اپنی نسل اور نسلوں پر اس احسان کو مانتا ہوں گو کہ میں اس قابل نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مدد فرمائی اور اس کام پر ڈالا اور قرآن پاک کی فہم مجھے عطا فرمائی جس پر میں بہت ہی سرشار ہوں۔ جب میں حج کرنے گیا تو وہاں فریضہ کی ادائیگی کے بعد الوداعی دعا کر نا ہوتی ہے۔ میری دعا تھی کہ اے اللہ میرے فہم قرآن کو بڑھا دے! میں سمجھتا ہوں کہ اللہ نے میری دعا کو اس کم مائیگی کے ساتھ قبول فرمایا ہے۔
میں چاہوں گا کہ پاکستان اس قرآن پاک سے فائدہ اٹھائے۔ اس کو اپنے لیڈران کی تعلیمات کے لئے استعمال کرے۔ اگر یہ قرآن پاک ان کی روشنی بنے گا تو پاکستان گل و گلزار بنے گا! ان کی اور عوام کی زندگی بھی آسان ہو گی۔ اگر ہماری اسمبلی ممبران کو باقاعدہ سورۃ ملک کی ایک آیت روزانہ پڑھائی جائے تو ذہنوں کے بہت سارے امراض دور ہو جائیں گے“ ۔




