ناقابلِ اعتبار تاریخ کی الجھن


مجھے تھوڑی دیر کے لئے آپ سے بات کرنی ہے، کیا آپ میرے لئے تھوڑا سا وقت نکال پائیں گے کیونکہ میں اس وقت بہت اپ سیٹ ہوں اور مجھے نارمل ہونے کے لئے کسی ایسے انسان سے بات کرنے کی ضرورت ہے جو بہت متوازن شخصیت کا مالک ہو اور وہ آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔

” جی بیٹا“ ، چند ہی ساعتوں کے بعد جواب آ گیا اور دوسرا ٹیکسٹ یہ تھا۔
”بیٹا آپ تو بہت مضبوط شخصیت کی مالک ہیں۔ مجھے بتائیے کیا ہوا ہے“ ؟

انکل ہمارے کچھ عقیدے ہوتے ہیں جن کو ہم انگریزی میں بیلیف کہتے ہیں جیسا کہ سوشل، ایموشنل، ریلیجئس۔ جب ان میں سے کسی پہ چوٹ پڑتی ہے تو ہم مضبوط نہیں رہتے۔

میں دیکھ رہی تھی کہ میری چیٹ ساتھ ساتھ ڈیلیور ہونے کے ساتھ ہی ڈبل ٹکس اور پھر بلیو ٹکس میں بدلتی جا رہی تھی جو کہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انکل مجھے پڑھ رہے ہیں۔ سو میں گویا ہوئی :

کل میں نے ”ہم سب“ پہ ایک آرٹیکل بھیجا تھا جو انہوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ

Dear writer, please don’t try to reinvent the history because there is a big gap between the period of Caliph Umar Farooq and Qutaiba.

میں نے جلدی جلدی تاریخیں سرچ کیں تو یہ بات بالکل درست تھی تو میں نے حضرت عمر فاروق کی بجائے حضرت عمر بن عبد العزیز کا نام لکھ کر اپنی طرف سے غلطی کی تصحیح کے ساتھ مینو سکرپٹ پھر سے سینڈ کر دیا جو کہ چند ہی منٹس کے بعد اس جواب کے ساتھ واپس آ گیا کہ آپ پھر سے غلطی کر رہی ہیں اور بہتر ہے کہ آپ اسلامی ہسٹری کی بجائے اب کسی اور موضوع پر لکھیں۔

انکل کہنے لگے ”بیٹا! آپ آرٹیکل مجھے بھیجیں کیوں کہ وجاہت مسعود میرے بھائیوں کی طرح ہیں، اگر اب اس میں کوئی غلطی نہیں ہے تو وہ اس کو پبلش کر دیں گے“ ۔ میں نے بتایا کہ انکل میرا مسئلہ آرٹیکل پبلش کروانا نہیں ہے اور ویسے بھی میں اسلامی ہسٹری پر نہیں لکھ رہی تھی، میں تو بطور مسلمان اپنی موجودہ سیاسی اور قانونی پسماندگی کے تناظر میں ہماری عدلیہ کے فیصلوں کو ہماری تاریخ میں پرکھنے کی کوشش کر رہی تھی جس نے ایک ایسا قضیہ کھول دیا جس کو سلجھانا بطور کم عمر اور کم علم طالبہ میری بساط سے باہر ہے۔

ہوا کچھ یوں ہے کہ میں نے اپنے آرٹیکل میں اپنی اسلامی تاریخ کی عظمت کا پہاڑ جیسا واقعہ بطور ریفرنس دے بیٹھی جس کا حقیقت سے تعلق شاید کم اور ہماری تڑی مڑی تاریخ سے یوں زیادہ ہے کہ پہلے تو یہ ”ہم سب“ جیسی معتبر ویب سائٹ سے دو بار واپس آیا پھر جب میں نے نیوز پیپر ایڈیٹر سے اس کی کچھ جانکاری چاہی تو انہوں نے جس جس معتبر ذرائع سے رابطہ کیا وہ وائس نوٹ مجھے بھیجے جس میں صرف اس بات پر زور تھا کہ ہماری تاریخ خاصی آگے پیچھے ہے، اس پر کلی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

یہ میرے لئے خاصا شاکنگ تجربہ تھا کہ جس تاریخ کی مثالوں سے ہمارے ذہن میں عظمت کے پہاڑ بنائے جاتے ہیں ان کی حقیقت تو رائی کے پہاڑ سے بھی کم ہے اور ان کا کوئی معتبر اور صحیح حوالہ ڈھونڈنا تقریباً ناممکن۔ خیر اخبار نے خلیفہ کا نام ہٹا کر اموی دور حکومت لکھ کر آرٹیکل پبلش کر دیا اور میں بھی یہ سوچ کر مطمئن ہو گئی کہ میں اس آرٹیکل کے آخر میں جو پیغام دینا چاہتی ہوں وہ پڑھنے والوں تک پہنچ گیا مگر یہاں ایک نیا موڑ سامنے آ گیا جب میں نے اس آرٹیکل کو اپنی فیس بک پہ پوسٹ کیا تو میرے بابا کے ایک دوست جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ میرے لئے ایک معتبر حوالہ یوں بھی تھے کہ ان کی فیس بک پوسٹس ہمیشہ سے ایک تنقیدی نقطہ نظر پر مبنی ہوتی ہیں اور حقیقت کی جانب نشاندہی کرتی ہوئی ہماری سوچ کے نئے زاویوں کا باعث بنتی ہیں۔ کمنٹ کو ہو بہو آرٹیکل کا حصہ بناتی ہوں :

”نہ بیٹا، اپنی تحقیق کر، اس ملک کو پہلے ہی نسیم حجازیوں نے بڑا نقصان پہنچایا ہے، اپنی تحقیق کریں اور جو بھی لکھیں ریفرنس سے لکھیں“ ۔
یہ پڑھ کر میں چونک گئی اور بہت دیر سے اس سوچ سے باہر نہیں آ پا رہی کہ ہمیں کس سمت کو چلنا ہے اور درست راستہ کیا ہے؟

انکل جو کافی دیر سے خاموشی سے مجھے پڑھ رہے تھے کہنے لگے بیٹا! میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں اور بات صرف اتنی سی ہے کہ پروردگار نے آپ کو ایک تنقیدی ذہن عطا کیا ہے جس کی وجہ سے آپ چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھتی اور سوچتی ہیں، تاریخ تو کیا کوئی بھی چیز زندگی میں پرفیکٹ نہیں ہوتی، آپ بس مطالعہ جاری رکھیں اور لکھتی رہیں۔ آپ کو الجھنا نہیں ہے، ہاں ہماری تاریخ میں اور ہمارے آس پاس بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں اکثر الجھا دیتی ہیں مگر ہمیں الجھنا نہیں ہے۔ اور ہاں میں چاہتا ہوں کہ آپ کے والدین آپ کو مجھے گفٹ کر دیں اور آپ میری بیٹی بن جائیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو آپ کے والدین کی کی طرح رکھوں گا کہ مجھے آپ جیسی بیٹی چاہیے اور میں یہ سن کر انگشت بدنداں تھی کہ گویا انکل مجھے نہ الجھنے کا مشورہ دے کر خود اپنی الجھنوں میں مزید اضافہ چاہتے ہیں۔

پوری تحریر میں فرشتوں سے بہتر میرے لئے یہ بہت پیارے انکل ہیں جو اصل میں محض بڑے انسان ہی نہیں ایک بہت بڑے افسر ہیں مگر اس بات سے قطع نظر میری راہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں، وقت دیتے ہیں اور کسی بھی طرح مجھے سوچ کے اس دائرے سے نکال لیتے ہیں جو میری تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے ہی انسان اس اخبار کے ایڈیٹر بھی ہیں جہاں میں لکھتی ہوں جو مجھے گائیڈ کرنے کے لئے ہر ممکن تگ و دو کرتے ہیں اور کسی بھی طرح سے میرے قلم کو رکنے نہیں دیتے۔

فرشتوں سے بہتر انسانوں میں ایک انسان میری والدہ ہیں جو میری الجھنوں کو ہر بار نظر بد کا نام دے کر مجھے اسی تاریخ کے قصے سنا کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہیں جس نے مجھے الجھایا ہوتا ہے اور دم درود کرنے لگتی ہیں۔ انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روایت ان کی رگ رگ میں ہے مگر ان کی شخصیت کی ٹھنڈک مجھے میری سوچ کے الاؤ سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور فرشتوں سے بہتر انسانوں کی ایک قسم ”ہم سب“ سے وابستہ وہ تعلیم یافتہ اور قابل ٹیم ہے جو اس کام کو بغیر کسی معاوضے کے انجام دے رہے ہیں۔

جو ہماری تحریروں کو پڑھتے ہیں، ہماری راہنمائی کرتے ہیں اور اس دور میں جس کو کمرشل دور کا نام دیا جاتا ہے جہاں ہر شخص نفسا نفسی کے عالم میں ہے انسانیت کو کچھ نہ کچھ دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سب کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس دعا کے ساتھ اپنی بات کا اختتام کرتی ہوں کہ خدا مجھے بھی انہی انسانوں جیسا بنا دے جو فرشتوں سے بہتر ہیں اور انسانیت کے لئے فائدہ مند۔

Facebook Comments HS