کیا کچی آبادیاں لوگوں کی غریبی دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟
کیا کچی آبادیاں لوگوں کی غریبی دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟ یاد رہے دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں سے ایک ارب لوگ یعنی تیرہ فیصد لوگ سلمز یعنی شہر کے اطراف میں کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔ ایسا وہ اپنی خوشی سے نہیں کر رہے ہوتے بلکہ مجبوری کی وجہ سے وہاں رہ رہے ہوتے ہیں کیونکہ کچی آبادی میں سستے مکان مل جاتے ہیں۔ اگرچہ مکان ایک ٹوٹی پھوٹی رہائش گاہیں ہوتی ہیں جن میں سستا ہونے کے علاوہ باقی ساری خرابیاں ہی خرابیاں ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر وہاں مکان چھوٹی چھوٹی گلیوں میں ہونے کی وجہ سے تنگ و تاریک ہوتے ہیں۔ مکان ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ وہاں کے مکین سیوریج کے ناقص سسٹم کی وجہ سے گندے ماحول میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ ایسی آبادیاں دنیا کے ہر غریب اور ترقی پذیر ملک کے بڑے شہروں کے اطراف میں واقع ہوتی ہیں۔ جہاں زندگی کی بنیادی ضرورتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ ایسی بستیاں شہروں کو سستے مزدور فراہم کرتی ہیں تاکہ ان سستے مزدوروں کی محنت کی کمائی سے سیٹھ صاحبان کی دھواں چھوڑتی بڑی فیکٹریاں اور چم چم کرتی گاڑیاں چلتی رہیں اور ساتھ میں غریب کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کچی آبادی کے غریب محنت کشوں کی زندگی میں کوئی انقلاب آ سکتا ہے۔ کیا ان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ یہ محنت کش سیٹھ کی دولت میں اضافہ تو بہرحال کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ان کے اپنے گھر میں بھی دولت کی دیوی براجمان ہو سکتی ہے جس ان کے خون پیسے کی کمائی صرف سرمایہ دار کے گھر کو دولت کے انبار سے بھر رہی ہوتی ہے۔
یاد رہے کچی آبادیوں اور منظم شہریوں کے درمیان معاشی تفریق ان محروم لوگوں میں مایوسی کو بڑھاوا دیتی ہے جو ان کو گاہے بگاہے پر تشدد مظاہروں پر اکسا سکتی ہے۔
کچی بستیاں عموماً عارضی پناہ گاہیں ہی ہوتی ہیں۔ جن میں پانی اور صفائی جیسی بنیادی خدمات کی کمی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ان کمتر مکانات کے زیادہ تر رہائشی کرائے پر رہ رہے ہوتے ہیں جنہیں بہرحال یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ انہیں کسی بھی وقت کٹھور مالک مکان ایک مختصر سے نوٹس پر بے دخل کر سکتا ہے۔ یہ ڈر ان مزدور طبقات کو مستقل خوف کے عالم میں جینے ہر مجبور کر رہا ہوتا ہے
چونکہ ایسے علاقے دنیا کی آبادی میں اضافے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو سنے ان لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی بے ہنگم رہائش گاہیں اور وہ سلم ایریاز ہیں۔ جہاں وہ بدترین حالات میں بنیادی سہولیات سے محروم سسکتی ہوئی زندگی گزار ہے۔ ہوتے ہیں۔ انسانیت کی بھلائی کے لئے بہت اہم ہے کہ آبادی کے اس بہت بڑے حصے کے مستقبل کو محفوظ کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر وہ قدیمی اور بوسیدہ پناہ گاہیں مسمار کردی جائیں اور سنگاپور کے طرز پر ان کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ کئی منزلہ اپارٹمنٹس اور رہائشی پلازے بنائے جائیں اس طرح شہر کی بدصورتی کا باعث بننے والے گیٹوز نما بے ترتیب ٹوٹے پھوٹے مکان ختم ہوجائیں گے اور ان کی جگہ بلند اور جدید عمارات وجود میں آ جائیں گی جو نا صرف شہر کی خوبصورتی میں دلکش اضافہ کریں گی بلکہ اچھے اور صحتمند ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان مزدوروں کی جسمانی صحت پر بھی خوشگوار اثر پڑے گا۔ ان کا معیار زندگی بلند ہو گا۔ جدید مکانات میں رہنے کی وجہ سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا بلکہ ایسے مکان ان کو طویل المدتی قرضہ پر فراہم کیے جائیں خود کے مکان میں رہنے کا احساس ان کی پیداواری صلاحیتوں میں زبردست اضافہ کرے گا۔
اچھی سہولیات سے مستفید ہونے کی وجہ سے ان میں شہر کے دیگر ترقی کرتے طبقات کے ساتھ مسابقت پیدا ہوگی گنجان آباد کچی بستیوں کے ساتھ جڑے جرائم میں زبردست کمی آ جائے گی کیونکہ غریبی اور محرومی بہت سے جرائم کی ماں ہوتی ہے۔ اس لئے دیگر ترقی کرتے طبقات کے ساتھ مل کر ترقی کرنے کا رجحان مسابقت کا خوبصورت ماحول پیدا کر کے جرائم کا سلسلہ روک دے گا اور اس کام کے لئے سنگاپور ہمارے سامنے بہترین مثال ہے جس نے اپنے شہریوں کے معیار زندگی کے درمیان بہت بڑے اونچ نیچ کے فرق کو سمجھا اور اس فرق کو کم کرنے کی ٹھانی تاکہ ایک باوقار معاشرے کی بنیاد پڑ سکے اس کے لئے دور اندیشی اور بہتر تفہیم بہت ضروری ہے۔ حکومت سرمایہ دار اور سلمز رہائشی ایک مثلث کی طرح مل کر بہت بڑی انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اس سارے سناریو میں بنیادی کردار حکومت کا ہے۔ اگر وہ اچھی پالیسیاں بنائے اور نیک نیتی سے ان کا نفاذ کرے اور ان دقیانوسی غلط فہمیوں کو دور کرے کہ امیری اور غریبی پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔ لہذا اس مدعے کو نہیں چھیڑنا چاہیے اور یہ کہ غریب علاقے نوگو ایریاز ہوتے ہیں۔ جہاں غیر تعلیم یافتہ اور مایوس لوگ رہتے ہوئے اپنی نسل بڑھا رہے ہوتے ہیں جسد رہے ایسی سوچ ملکی بدنامی کا باعث ہو سکتی ہے۔ ابھی بھی وقت طاقتور اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے جو کچی آبادیوں کو بے دخل کرنے کے لیے نشانہ بناتی ہے کیونکہ ان پر جرائم اور آلودگی کا الزام لگایا جاتا ہے۔
جبکہ ہمیں کچی آبادیوں میں پنپ رہی انرجی کو ڈسکور کرنا چاہیے ورنہ وہ انرجی منفی توانائی میں تبدیل ہو کر سنگین مسائل کھڑے کر سکتی ہے۔
یاد رہے محنت کش لوگ ہی حقیقی تبدیلی کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔

