اف حنیف جان

زندگی آب روانی کا ہے نام یہ بات وہی مانے گئیں جس کے عزیز اس سرزمین میں موجود ہیں اور نرم و ملائم بستروں پر سو رہے ہیں۔ لیکن ہم افسوس کے علاوہ اور کچھ کہہ نہیں سکتے۔ چوں کہ موت اٹل ہے ہر نفس پر واجب بھی ہے لیکن یہ بات کون ہمیں سمجھائے گا۔ ذہن ہر حساب پر مانے کو تیار نہیں۔ تندرست شخص کی موت کی خبر اچانک آئے اور آپ کو ایسا لپیٹیں کہ نہ جانے آسمان اور زمین کہاں۔ بالکل بندہ اپنی ہوش سے کھو جاتا ہے اور میری حالت بھی ایسی تھی۔ حنیف جان آٹھ مارچ کا دن قیامت کے دن سے کم نہ تھا۔ کہ ایک گھنٹے پہلے فیس بک پر ایک ریل اپلوڈ کرتے ہیں اور ایک گھنٹے بعد آپ کی لاش آتی ہے تو ہم کس طرح یقین کریں۔ کہ زندگی اس چیز کی نام ہے؟ کیا جانے کا وقت یہی تھی کیوں آپ کو جانے میں اتنی جلدی تھی۔
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور
زندگی کورے کاغذ کی مانند ہوتی ہے۔ جس پر ہم وقت کی سیاہی سے اپنے غم اور خوشیاں لکھتے ہیں۔ یہی وہ احساس ہے جو آخری لمحات تک ساتھ رہنا اور ساتھ رکھنا لازمی ہے تاکہ ہم ایک پرمسرت طور سے زندگی زندہ دلی کے ساتھ گزار سکیں۔ زندگی کو خوب صورت رکھنے کے لیے محبت کا ہونا لازم ہے۔ اس میں شدت بھی ہو سکتی ہے اور اعتدال بھی۔ یہ کسی بھی روپ کسی بھی رشتے میں ہو سکتی ہے۔ زندگی میں امید کی موجودگی بھی اشد ضروری ہے یہی وہ محبت ہے جو ہر روز بھائی کی یاد رلاتی ہے۔ جب حنیف جان کی تصویر آنکھوں میں رونما ہوتی ہے تو چشم نم ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ درد ہے جو ہر رات سوتے وقت جبین کے در پر سرگوشیاں کرتے ہیں۔
اس عین جوانی میں الوداع کہنا، اف کے علاوہ زبان قاصر ہیں۔ کسی بھی چیز کے کھو جانے سے انسان پریشان ہوتی ہے ناکہ حنیف جیسا برادر، بھائی سے زیادہ دوست، ہمنوا، محسن جیسے انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور گزر رہے ہیں۔ چوں کہ یقین نہیں ہوتا کہ ہمارے بھائی ہم میں سے نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ ہم دیوان محفل ہیں۔ وہ ہنس کر کہہ رہا ہے کہ زندگی یہی ہے اسے خوشی سے گزاریں۔ دوسروں پر کبھی بھی منحصر نہ ہو جائے
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
زندگی میں کسی کو کھونا ایک خوفناک چیز ہے، اور یہ کسی کی زندگی میں سب سے زیادہ تکلیف دہ وقت ہوتا ہے۔ اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ لمحہ کتنا تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے۔ اللہ اس تکلیف کو کسی کو بھی نہ دیں۔ جو ہم اس آگ سے جل رہے ہیں تو ہم کو معلوم ہے کہ اپنے لوگوں کے جانے کے بعد زندگی کیا ہوتی ہے۔ کس طرح تنک پڑ جاتی ہے پورا قیامت کا دن سر پر آن پہنچا ہے۔
گزری نہ بہ ہر حال یہ مدت خوش و نا خوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور
حنیف جان آپ جاتے جاتے ہمیں زندگی سے نا امید کر کے چلے گے۔ اب زندگی پر کون بھروسہ کرے جو لا کر ایسے چوک پر چھوڑ دیتی ہے کہ وہاں سارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ آپ کے جانے کے بعد پورا شادی کور ایک قیامت کا میدان بن چکا ہے جو ہر دوسرا شخص اشک دیدہ ہے۔ یہ آنکھیں کس طرح آپ کی قبر کو دیکھے گئیں۔ یہ تکلیف دہ لمحہ ہماری زندگی کا گراں تریں لمحوں سے شمار ہوتی ہے۔ میرا دونوں دادا اور دونوں دادی اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اتنے درد نہ ہوا لیکن آپ کے جانے کے بعد زندگی ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ اب بس آپ کی یادیں ہیں اور کئی دن ضرور یادداشتوں کے حوالے لکھوں گا۔ اب اللہ میاں سے مغفرت کی دعا۔
نیند آئے گی تو اس قدر سوئیں گے
ہمیں جگانے کے لیے لوگ روئیں گے


