صیہونی جارحیت اور امت مسلمہ

بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے
علامہ اقبال نے مسلمانوں کے زوال کی جو منظر کشی کی ہے آس کا ثبوت آئے روز امت مسلمہ اور آس کے حکمرانوں کے طرزِ عمل سے ملتا رہتا ہے مسجد اقصی میں اسرائیلی جارحیت پربات چند مذمتی بیانات اور اقوام متحدہ کی کاغذی قرارداد سے آگے نہیں بڑھ سکی، تاحال اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار خاموش تماشائی ہیں۔
مسجدِ اقصیٰ میں مسلمان رمضان المبارک میں بھی سکون سے عبادت نہیں کرسکتے۔ سحری کے وقت اسرائیلی پولیس دہشت گردی کررہی ہے۔ حملوں اور شیلنگ کے باعث قرآن پاک پڑھنادشوار کردیا گیا۔خواتین سمیت 60سےزائد افراد زخمی اور350 سےزائد گرفتار کیے گئے۔نمازیوں کے ہاتھ پاﺅں باندھ کرگھسیٹے ہوئے لے جایا گیا۔ان حملوں کے ساتھ اسرائیلی فوج غزہ اور لبنان میں فلسطینی کیمپوں کوبھی نشانہ بنائےہوئےہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اسرائیل کےخلاف او آئی سی کی پاکستان کی پیش کردہ قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔ قرارداد کے حق میں 38 اور مخالفت میں 4 ووٹ پڑے, 5 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ مخالفت کرنے والے 4 ممالک میں امریکا اور برطانیہ بھی شامل تھے۔ سعودی عرب، مصر اور اردن نے مسجد اقصی پر اسرائیلی دہشتگردی کی شدید مذمت کی، جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم نے مسجدِ اقصیٰ کے ارد گرد ہونے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنا چاہیے۔
کشمیر کی طرح فلسطین کا مسئلہ بھی برطانیہ کا ہی پیدا کردہ ہے۔برطانیہ نے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیااور امت مسلمہ کے سینے پر اسرائیل کا ناسور بھی گھونپا۔ 1920 سے1940ء کے دوران اس خطے میں یہودی بسائے گئے۔1947ء میں اقوام متحدہ نے ووٹنگ سے فلسطین کوتقسیم کیا ایک حصے میں یہودی اور دوسرے میں عرب ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔ بیت المقدس بین الاقوامی شہرقرارپایا۔یہ تجویز یہودی رہنماؤں نے تسلیم اور عربوں نے مسترد کر دی۔1948 میں برطانیہ مسئلہ حل کیے بغیر ہی خطہ چھوڑ کر چلا گیا۔ یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا،لاکھوں فلسطینی بےدخل کرکےاپنےدیس میں اجنبی بنادیےگئے۔عربوں اور اسرائیل میں کئی جنگیں ہوئیں لیکن یہ مسئلہ حل نہ ہوا۔1967 ء کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس، غربِ اردن کے ساتھ گولان کی پہاڑیوں، غزہ کی پٹی اور مصر میں آبنائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا۔ جس کے بعد اسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنے آبائی علاقوں کی جانب جانے سے روک دیا۔ اسرائیلی بیت المقدس کو اپنا دارالخلافہ اور فلسطینی اسےمستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ امریکہ ان ممالک میں سے ایک ہے جو اسرائیلی دعوے کو تسلیم کرتا ہے۔ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گذشتہ 50 برسوں میں یہاں چھ لاکھ یہودیوں کو بسایا۔اسرائیل کو دیے جانے والے استثنیٰ نے تل ابیب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔عام طور پر ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ عربوں کا مسئلہ ہے امت مسلمہ کا نہیں حالانکہ روئے زمین پر وجود انسانی کے ابتدائی زمانہ سے ہی مسجدحرام اور مسجد اقصیٰ دین کے دو اہم مراکز رہے، ان کا انبیاءکرام،ان کی زندگی،اور تعلیمات سے بڑا گہرا ربط رہا جس کی وجہ سے دونوں سے دینی اورجذباتی لگاؤ بھی ہمیشہ برقرار رہا۔ آئیے ان دونوں مساجد و مراکز کے کچھ مشترکہ امتیازی پہلؤوں پر نظر ڈال لیتے ہیں۔
عبادت الہی کے لئے تعمیر کی گئ یہ سب سے پہلی دو عبادت گاہیں ہیں۔ بخاری شریف میں ہے کہ سب سےپہلےمسجد حرام اورچالیس سال بعد مسجد اقصی کی تعمیر ہوئی۔
،دونوں کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی۔ اس میں ایک رائےیہ بھی ہے کہ ان کی ابتدائی تعمیر فرشتوں نے کی۔ حضرت ابراہیم نے مسجد حرام کو حضرت اسماعیل اور مسجد اقصی کو حضرت اسحاق کے لیے مرکز بنایا۔
نبی اکرم کو معراج کے لیےخانہ کعبہ سے مسجد اقصیٰ لے جاکر دونوں مساجد کے باہمی ربط اور تعلق کو واضح کیا گیا۔ امامت انبیاءکے ذریعے حضور اکرم اور ان کی امت کو مسجد اقصیٰ کی تولیت عطا کی گئ۔
اگر حضرت ابراہیم اور ان کے صاحب زادے حضرت اسماعیل نے مسجد حرام کی تعمیر نو کی تو مسجد اقصی کی تعمیر نو کا کام حضرت داؤد اور ان کے بیٹےحضرت سلیمان نے انجام دیا۔
مسجد حرام کی تعمیر نو کے بعد حضرت ابراہیم اور اسماعیل نے اپنے عمل کے قبولیت، اولاد میں مسلم امت بنانے،مناسک حج سکھانےاور نبی آخر الزماں کی مبعوثیت کی دعائیں کیں تو حضرت سلیمان نےمسجد اقصی کی تعمیر سے فراغت پر، اللہ کے حکم کے مطابق حکومت کرنے، اپنے لئے سب سے بڑی سلطنت کے حصول اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے والوں کی مغفرت کےلئے دعائیں کیں۔
مسجد حرام اور مسجد اقصی دونوں کو مسلمانوں کا قبلہ ہونے کا شرف بھی حاصل رہا۔ مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں اس سمت نماز پڑھتے جہاں سے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ دونوں آپ کے سامنے ہوں، ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے،یہاں تک کہ تحویل قبلہ کی آیات نازل ہوئیں۔
مکہ اور فلسطین دونوں کو مرکز وحی،انبیاء کی جائے پیدائش اور مسکن ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ حضرت اسحاق سے حضرت عیسی تک بیشتر انبیاء کا مرکز اگرمسجداقصی اور بیت المقدس رہا تو حضرت اسماعیل اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مرکز مسجد حرام اور مکہ کی سرزمین رہی۔
مسجد حرام،اور مسجد نبوی کی طرح مسجد اقصی کی طرف سفر احادیث میں افضل و مستحب قرار دیا گیا۔اگر مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ، مسجدنبوی میں میں دس ہزار ہے تومسجد اقصی میں یہ ثواب پندرہ سو ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کی طرح مسجد اقصیٰ بھی دجال اور اس کے فتنہ سے محفوظ رہےگی۔
اسلام نے مسجد حرام اور مسجد اقصی دونوں کو اہم ترین اسلامی مرکز قرار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بیت المقدس اور اس کے آس پاس میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ دین پر ثابت قدم اور دشمنوں پر غالب رہے گی اسے مخالفین کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے” ان مشترکہ پہلؤوں کے باعث اہل اسلام کی مسجد اقصی سے قلبی اور جذباتی وابستگی لازمی امر ہے۔
جب تک امت مسلمہ باہمی انتشار پر قابو نہیں پائے گی اس وقت تک فلسطین،کشمیرسمیت دوسرےمظلوم مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی امت مسلمہ کے مسائل کے بارے میں کاغذی پرزوں سے زیادہ حیثیت نہیں۔ اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ امت مسلمہ اسرائیل اور اس کی مدد گارکمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے۔او آئی سی اور عرب لیگ روایتی خول سے باہر نکل کر فلسطین کے معاملے پرمستقل سفارتی مہم چلائیں ورنہ خطے میں امن قائم ہونا ممکن نہیں۔
Facebook Comments HS

