تبدیلی کا بھاری پتھر


میرا ایک دوست نیکی اور برائی کا درس دیا کرتا تھا حق اور سچ کی بات کیا کرتا تھا قانون اور اصول کی بات کرتا تھا نظام میں موجود خرابیوں کے بارے میں لیکچر دیا کرتا تھا اور باقی لوگوں سے الگ تھلگ نظر آتا تھا ایسا لگا کہ وہ واقعی ایک اصولی اور فرض شناس شہری ہے مگر جب اختیار اور کرسی ملی تو یکسر اس کے رویے میں تبدیلی نظر آئی تو اس کو مبارکباد دینے کے لیے اس کے آفس گیا تو مجھ سے مخاطب ہو کر کہا میاں نظام کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ورنہ نظام آپ کو چلنے نہیں دیتا۔

دوسرے لفظوں میں وہ بھی کر پٹ ترین نظام کو قبول کرنے کے لئے تیار بیٹھا تھا ہماری ہر آنے والی نئی نسل بھی اس فرسودہ نظام کو قبول کر چکی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ان سوالوں کا جواب کسی اور بحث میں کریں گے۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک ملک میں عملی جہموریت نہیں آ سکی۔ کمزور جمہوریت کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرداروں، جاگیرداروں، زمینداروں اور پیروں نے جہموریت کو اپنی گھر کی لونڈی بنا دیا ہے۔ لوگوں کو مختلف پارٹیوں برادریوں، ذاتوں اور مسلک میں تقسیم کر کے جبکہ خود ذاتی مفادات اور سیاسی فائدے کے لیے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے نظر آئے۔ بدقسمتی سے 75 سال سے ملک میں یہ مداری کا کھیل جاری ہے جس سے عوام بہت متاثر ہو چکی ہے۔

اگر معاشی حالات کے بات کریں تو ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف ایم ایف کی شرائط کو ماننے کے علاوہ پاکستان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے جس سے مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہو گا۔ مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 46 فیصد تک جا پہنچی ہے لوگ مفت آٹے کے حصول کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگانے کے لئے تیار کھڑے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے لیے آٹا زندگی اور آٹے کے لیے موت۔ عوام پر ظالمانہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے جبکہ سفید پوش اور دیہاڑی دار مزدور بھی اس کی گرفت میں ہے کروڑوں روپے روزانہ ٹیکس کی مد میں حاصل ہوتے ہیں جن کا بیشتر حصہ خرد برد ہو جاتا ہے اگر یہی رقم ایمانداری سے ملک اور عوام پر خرچ کی جائے تو بیرونی قرضے کی ضرورت ہی نہ رہے

اپریل 2022 سے ملک کا سیاسی بحران اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے سے اقتدار سے الگ کر دیا گیا جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور اس سیاسی جنگ میں ملک کے سب سے بڑے ادارے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے جس سے ان کے ساخت خراب ہو رہی ہے۔ ماضی میں جس طرح اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں مداخلت کی ہے اگر یہ ادارے بھی سیاست میں مداخلت کریں تو ملک میں رہی سہی جمہوریت کا اللہ ہی حافظ ہو گا۔

پاکستان بننے کے وقت ملک میں صرف دو ہی یونیورسٹیاں تھیں۔ پنجاب یونیورسٹی، ڈھاکہ یونیورسٹی اور 48 کالجز قائم تھے۔ مگر آج ملک بھر میں 218 یونیورسٹیاں اور ہزاروں کی تعداد میں کالجز، مدرسہ اور مساجد قائم ہیں۔ لاہور کو کالجوں کا شہر کہا جاتا ہے مگر اس کے باوجود لوگ اخلاقی اور اسلامی لحاظ سے بہت پیچھے جا چکے ہیں کیونکہ تعلیمی ادارے علم کے بجائے ڈگری کو فروغ دے رہے ہیں آج کی نسل ہمارے اسلاف، ملکی تشخص اور مذہب سے لاتعلق ہے۔ ہر شخص اپنے ذاتی مفاد کی خاطر معاشرہ میں زندگی گزار رہا ہے۔ جس سے طبقات میں فرق پیدا ہو چکا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنی ہوگی اور ان اداروں کو ملک کی خاطر کہیں تو روکنا ہو گا۔ اور سیاست سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہو گا۔ اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا ہو گا۔ سرداری نظام اور فرسودہ نظام کو ملک سے ختم کرنا ہو گا۔ کیونکہ یہ ملک کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

Facebook Comments HS