جنسی ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات
کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب جنسی ہراسانی کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ عصمت دری، بلیک میلنگ، گالم گلوچ، نیچ نظر، بدزبانی اور ہراسانی ملک میں روز کے معمول بن چکے ہیں۔ نہ صرف خواتین بلکہ خواجہ سراؤں اور مردوں کو بھی نجی اور سرکاری اداروں اور عام جگہوں پر ہراساں کیا جاتا ہیں۔ ہراسانی کے قوانین کی موجودگی کے باوجود ان واقعات کی صورتحال بدتر ہے جبکہ دوسری طرف جو مقدمات درج ہوتے ہیں ان میں سزا دینے کی شرح انتہائی مایوس کن ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی نے 2018 سے 2022 تک 5008 جنسی ہراسانی کی شکایات درج کیں۔ ان مقدمات میں سے 1286 خواتین جبکہ 403 مقدمات مردوں کی جانب سے درج ہوئے۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں خواتین کی جانب سے 2315 اور مردوں کی جانب سے 1004 کیسز دائر کیے گئے۔ واضح رہے کہ 2022 میں کراچی میں 513 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق 4 سالوں میں 14456 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق وزارت انسانی حقوق نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ یہ کیسز 2021، 2020، 2019 اور 2018 کے دوران ہونے والے واقعات سے کم تھے۔
2019 میں قصور میں زیادتی کا نشانہ بننے والی 6 سالہ زینب اور ستمبر 2020 میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر اپنے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت ہو۔ جنسی زیادتی کی یہ صورتحال حالات کی سنگینی کی عکاسی کرتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے کے واقعات جیسے کہ 2021 میں آئی بی اے یونیورسٹی کراچی ہو، لمز لاہور میں جہاں ایک ماہر تعلیم کو ہراساں کیا گیا، بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ جہاں خفیہ کیمروں کے ذریعے طلبا کو بلیک میل کیا جاتا رہا، یا شیخ زید اسپتال کوئٹہ ہو جہاں خواتین نرسوں کو ہراساں کیا گیا، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حالات درندگی کی انتہا پر پہنچ چکے ہیں
پاکستان پینل کوڈ 1860 خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق ہے جبکہ مذکورہ قوانین ٹرانس جینڈر اور مردوں کے بارے میں خاموش ہے۔ اس کی دفعہ 354 کہتی ہے کہ عورت کی عزت پر حملہ کرنے پر 2 سال قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتے ہیں، دفعہ 354 اے کہتی ہے کہ اگر کسی عورت کا لباس پھاڑا جائے تو ملزم کو عمر قید ہو گی، 366 اے کہتی ہے کہ اگر لڑکیوں پر تشدد ہو اور انہیں جنسی تعلق کے لیے اکسانے والے کو 10 سال قید بمعہ جرمانہ ہو گا، سیکشن 375 جنسی زیادتی کے جرم کے بارے میں ہے جس کی سزا 10 سے 25 سال قید ہو گی، سیکشن 509 کہتا ہے کہ اگر کوئی خواتین کے ساتھ گستاخی کرے، ان پر آوازیں کسے یا اشارے کرے تو اس مجرم کی سزا تین سال قید یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں ہوں گے ۔
مزید یہ کہ 2010 میں نافذ ہونے والے women harrassment at workplace بل جس میں 2022 میں ترمیم کی گئی بھی خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا مذکورہ ترمیم میں کہا گیا ہراسانی کے مقدمات کا 90 دن میں فیصلہ کیا جائے گا ان کے مطابق جو بھی سرکاری اہلکار ملوث ہو گا اس کی ملازمت سے برخاستگی کی سزا تجویز کی گئی ہے جبکہ ہراسانی میں ملوث پیشہ ور (Professionals ) کے لائسنس منسوخ کر دیے جائے گے۔
دوسری طرف ہراسانی کے مقدمات میں سزا کی شرح مایوس کن ہے۔ سندھ میں یہ شرح 1 فیصد سے بھی کم ہے۔ دی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ شرح میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے اور 2022۔ 2023 کے دوران جنسی تشدد کے واقعات کی شرح تین فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہو گئی ہے۔
اس ابتر صورتحال میں موثر قانون سازی ہونے کے باوجود بہتری کیوں نہیں آ رہی۔ اس کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جیسے کہ
1۔ ہراسانی کے خلاف قوانین کا مکمل نفاذ ہونا ضروری ہے۔ ان قوانین میں کرمنل جسٹس سسٹم کے سیکشنز کو شامل کرنا چائے۔ ان تمام قوانین کو سرکاری اور پرائیویٹ اداروں، تعلیمی اداروں اور پبلک مقامات پر چسپاں کرنا چاہیے اور اگر کسی ادارے میں ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں تو ان کی تحقیقات کے لیے بنی گئی کمیٹیوں میں کم از کم 1 خاتون ممبر کی شرکت لازمی ہو۔
2۔ ان واقعات کی اطلاع دینے والوں اور متاثرہ افراد خواہ وہ مرد ہو، عورت ہو یا ٹرانس جینڈر، ان کی حفاظت کے لئے جامع منصوبہ بندی ہو۔
3۔ ہراسانی کے مضمون کو نصاب میں لازمی مضمون کے طرز پر شامل کیا جائے۔ تاکہ طلباء میں اس حوالے سے شعور آ جائے۔
4۔ خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں اور ٹرانس جینڈر کے لیے بھی قانون سازی ہونے چائے۔
5۔ عورت مارچ، حیا مارچ اور میرا جسم میری مرضی جیسے نعرے جس نے قوم کو تقسیم کر دیا ہے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
6۔ سیاسی رہنماؤں کو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جس سے قوموں کو تقسیم کیا جائے جیسا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ
پردگی اور فحاشی کی وجہ سے جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں۔ اگر لباس ہی واحد وجہ ہے تو پھر 6 سالہ معصوم زینب نے تو ایسا لباس نہیں پہنا تھا اور سیالکوٹ لاہور موٹروے پر زیادتی کی شکار عورت تو پردے میں تھی۔
7۔ ملک میں ہزاروں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی مختلف وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہیں ہوتی۔ ایسی قانون سازی ہونی چاہیے جو متاثرہ افراد کی اداروں پر اعتماد بحال کرے۔
8۔ حکومت تمام چینلز، اخبارات کو پابند کرے کہ وہ جنسی ہراسانی کے حوالے سے پروگرام نشر کرنے اور اخباروں میں اشتہاروں کے ذریعے لوگوں میں اجتماعی شعور پیدا کرے۔
9۔ زنا کے اسلامی قانون کا نفاذ ہراسانی کے واقعات کو کم کرنے میں ایک مثبت قدم ہو گا۔ دنیا کی بہت سی ریاستوں میں جہاں زنا کے اسلامی قانون کا نفاذ ہے، ہراسانی کرنے والے خاص طور پر ریپ کے واقعات کا تناسب دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کم ہے جہاں اسلامی قانون زنا کا نفاذ نہیں ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہراسانی کے خلاف موثر قانون سازی کر کے، قانون کی موثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنا کر، معاشرتی شعور اور اسلامی قانون زنا کو نافذ کر کے اس حیوانیت سے چھٹکارا پانے میں بہتری آ سکتی ہے۔


