کھرا انسان، منفرد دانشور: شاہد محمود ندیم


شاہد محمود ندیم سے میری موانست نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ یہ الگ بات کہ ہم دونوں کے اپنی اپنی دنیاؤں میں میں کھو جانے کے باعث۔ منزل عشق میں نہ تھی ایک کو ایک کی خبر کے مصداق بہت دیر دیر بعد ملتے رہے ہیں مگر جب ملتے ہیں تو لگتا ہے کہ کبھی جدا ہی نہیں ہوئے تھے کہ یہی حقیقی دوستی کی پہچان ہے۔ غالب کے بقول.. گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار/لیکن تیرے خیال سے غافل نہیں رہا گزشتہ دنوں انہوں نے مجھے الحمرا میں اپنے ڈرامے ”اڈن ہارے“ دیکھنے کی دعوت دی۔ اس کھیل میں انسانی مجبوریوں کے تناظر میں نفسیاتی الجھنوں کو نہایت عمدہ پیرایۂ بیان میں کرداروں کی زبان میں نمایاں کیا گیا ہے۔

”اڈن ہارے“ کی کہانی حقیقی ہے جو اورل ہسٹری میوزیم میں ایک ڈاکٹر کی زبانی محفوظ کی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئے تھے۔ ان کی سچی عشقیہ کہانی پر اس کھیل کی بنیاد ہے جو۔اپنے اندر۔سچی محبت کی کئی بوقلمونیوں کی حامل ہے۔ مجھے اس کھیل نے جو مزا دیا وہ تو اپنی جگہ مگر ایک لمبے عرصے کے بعد الحمرا میں شاہد کے ساتھ ملاقات اور گزارے ہوئے لمحات نے اس لطف کو دو آتشہ کر دیا۔

شاہد محمود ندیم اپنے رنگ کے منفرد افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، شاعر، اداکار، ہدایت کار اور تخلیق کار ہیں۔ ان کی ایک خوبی جس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے یہ ہے کہ وہ انتہائی نرم خو اور خلیق انسان ہونے کے ساتھ ساتھ سخت گیر منتظم بھی ہیں۔ یہ بات میں اپنے ذاتی مشاہدے کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔ یونیورسٹی کے دور میں وہ بہت متحرک طالب علم رہے ہیں اور کئی اہم سوسائٹیوں کے عہدیدار رہے، اس حیثیت میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا تھا۔

ترقی پسندی، انسان دوستی، مساوات اور بے تعصبی ان کے خمیر میں ہے شاہد نے ہر دور میں انٹی اسٹبلشمنٹ کردار ادا کیا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور شخصی آزادیوں کے قیام کے لئے ذاتی سطح پر بہت قربانیاں دیں ہیں، بہت کچھ گنوایا بھی ہے۔ شاہد محمود ندیم 1947 میں سوپور ( مقبوضہ کشمیر ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد وادیٔ کشمیر کے ڈاکٹروں کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور تحریک آزادیٔ کشمیر کے سرگرم کارکن تھے جس کی پاداش میں انہیں اپنے آبائی وطن سے ہجرت بھی کرنا پڑی۔

شاہد نے ایک جگہ کہا ہے کہ وہ ایک سال کی عمر میں مہاجر ہو گئے تھے۔ شاہد محمود ندیم کا ایک شعبہ طلبہ سیاست بھی ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے اپنے طالب علمی کے دور میں انہوں نے ایوبی آمریت کے خلاف مزاحمت اور سٹوڈنٹس یونینز کی بحالی کی تحریک کی قیادت کی لیکن ایثار دیکھئے کہ یونین کی بحالی کے بعد صدارت کے لئے جہانگیر بدر مرحوم کو آگے کر دیا۔ یونینز کی بحالی کے لئے انٹر کالجیئٹ باڈی (ICB) کے نام سے جو تحریک لاہور میں چلی تھی، شاہد محمود ندیم اس کے روح رواں، صدر اور ترجمان تھے، مجھے اس کا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ آج بھی میرے پرانے البم میں انڈس ہوٹل کی یادگار پریس کانفرنس کی وہ تصویر ہے جس میں شاہد ندیم، جہانگیر بدر کے ساتھ لاہور کے کالجوں، یونیورسٹیوں کے تمام طالب علم لیڈر موجود ہیں اور جس میں حکومت کو یونین بحال نہ کرنے پر کھلا چیلنج دیا گیا تھا۔

شاہد کے اندر ایک بے چین روح ہے جو اسے نچلا بیٹھنے نہیں دیتی چنانچہ ایک عرصہ سے شاہد ”اجوکا“ کے ذریعے معاشرہ میں انسان دوستی، ترقی پسندی کی ترویج کے لئے انتھک جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی چل رہا ہے کہ وہ متنوع سوچ کے حامل صف اول کے ترقی پسند ادیب و شاعر ہیں جو بیک وقت اردو، پنجابی، انگریزی پر دسترس رکھتے ہیں۔ اپنی جدوجہد کی پاداش میں شاہد کو قید و بند، اور وطن سے دوری کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا مگر نہ تو ان کے پائے استقامت میں لغزش آئی نہ جنبش قلم میں رکاوٹ۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

Facebook Comments HS