جنرل اور ہماری زندگی


لگتا ہے ہماری زندگی میں یہ جنرل کا صیغہ اتنا رچ بس گیا ہے کہ اس کو استعمال کیے بغیر ہم خود کو ادھورا سا سمجھتے ہیں۔ جیسے سبزی میں آلو ہر چیز کے ساتھ چل جاتا ہے بالکل اسی طرح یہ جنرل لفظ بھی ہر چیز کے ساتھ بدل بدل کر آگے پیچھے لگا کر لاحقے سابقے کے طفیل کسی لفظ کو پورا کر کے روزمرہ زندگی میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔

ہم نے اردو کے عام لفظ کو اتنا جنرلائزڈ کیا ہے کہ اب ہم جنرل یا حرف عام میں جرنل لفظ کے بغیر رہ نہیں سکتے۔

ہمیں جنرل بات سے لے کر جنرل اسمبلی تک کسی نہ کسی حوالے سے یہ جنرل یا جرنل لفظ لکھنے یا سننے کو ملتا رہتا ہے۔ ہماری خاص بات کی تان ہمیشہ جنرل بات میں لپیٹ کر ٹوٹ جاتی ہے۔ ہماری ہر بات میں فلسفہ یا منطق کا تڑکا موجود ہوتا ہے لیکن سائنس سے دور دور بھاگتے ہیں البتہ جنرل سائنس کے دلدادہ ضرور ہیں۔ ہم ہر چیز کو ضائع کرنے کے عادی ہیں اور اس میں وقت کا ضیاع شاید سب سے زیادہ ہے البتہ پرانی چیزوں کے لئے سٹور روم ضرور بناتے ہیں اور اس میں آخر میں ہر طرح کی پرانی چیزوں کا اتنا ڈھیر جمع کرا دیتے ہیں کہ ایک جنرل سٹور کا سماں پیش کرنا شروع کرتا ہے۔

ہم پرسنل میٹنگ، کارنر میٹنگ تو کرتے رہتے ہیں لیکن جب مسئلہ عوامی نوعیت کا ہو تو پھر وہی جنرل باڈی بلانے کے محتاج ہو جاتے ہیں اور جب تک یہ جنرل باڈی نہیں بلائی ہو تو مسئلہ اپنے حل کی طرف نہیں جاتا ہے اور کیوں جائے گا جب ہمارے سیکریٹری کے نام کے اگے بھی جنرل کا سابقہ لگا ہوا ہوتا ہے اور جب وہ خود جنرل سیکریٹری ہو اور جنرل باڈی میٹنگ کال نہ کرے تو پھر بات کیسے بنے گی۔

ہم راستوں کے بھٹکے ہوئے راہی سہی لیکن جب ہم اس کو سڑکوں کے طور پر استعمال کرنے لگتے ہیں تو پھر اس سڑک کو بھی جرنیل کی نام سے موسوم کر کے جرنیلی سڑک کا نام دے دیتے ہیں کیونکہ ہم جب تک اپنے ساتھ چلتے چلتے جنرل کی انگلی نہ پکڑے ہماری مسافت طے نہیں ہو پاتی عادت جو بنی ہے بغیر جنرل کے آگے بڑھنے کی اور عام پیدل چلنے کی بات تو درکنار گاڑی کو ٹائر بھی جنرل ٹائر لگواتے ہیں تاکہ یہ مسافت اتنی تیزی سے طے ہو کہ عوام کو پتہ ہی نہ چلیں کہ منزل کب آئی اور کب گزر گئی ورنہ رکنے کے بھانے کہیں دھرنے شرنے نہ بیٹھ جائیں اور غالب امکان یہ ہے کہ یہ جنرل پبلک اس دھرنے کو کسی نہ کسی حوالے سے جنرل بنا کر کسی لمبی مدت تک اپنے اس عارضی قیام کو بڑھا بھی سکتے ہیں کیونکہ خاص دھرنے چلتے چلتے نہیں بنائے جاتے وہ خاص جگہوں دارالخلافوں، پارلیمنٹ کے سامنے یارڈ زون کی دھمکی کا کہہ کر بنائے جاتے ہیں جہاں پر جنرل دھرنا دینے والوں کی کچھ آؤ بھگت کے ساتھ ساتھ مسافر سمجھ کر مہمانداری کا وظیفے بھی عطا کیے جاتے ہیں۔

بڑی مشکلوں سے انگریزی کی لوری کو لاری بنا چکے تھے جیسے ہاسپیٹل اسپتال میں تبدیل کیا گیا ہے۔ لیکن ہم نے پھر جدیدیت کے شوق میں لوری کو بس کا پیوند لگا دیا اور لاری اڈے کو بس سٹینڈ کے درجے پر فائز کر دیا اور پھر بڑے مزے سے اس کی جنرل بس سٹینڈ کی تاج پوشی بھی کر ڈالی۔

ہمارے جنرل اسپتال اور جنرل سٹور سب سے زیادہ عوامی جگہیں ہوتی ہیں اور سب سے زیادہ حقیقی عوامی لوگ وہاں آتے ہیں کیونکہ ادھر خواص آپ کو ڈھونڈتے ہوئے بھی نہیں ملیں گے۔ کیونکہ ادھر عزت نفس داؤ پر لگتی ہے۔ قطاریں لگانی پڑتی ہیں۔ مہینوں میں باریاں ملتی ہیں۔ دوائیاں ملتی کم اور بھکتی زیادہ ہے۔ لیکن ہماری اس جنرل لفظ سے شغف کو دیکھیں پھر بھی اس کو جنرل اسپتال یا جنرل سٹور سے موسوم کیے ہوئے بیٹھیں ( کھڑے ) ہوئے ہیں۔

میرا اب یہ پکا ذہن بن چکا ہے کہ جہاں لوگوں کا ہجوم دیکھوں یا لوگوں کا غل غپاڑہ تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ کوئی جنرل جگہ ہوگی جیسے آج کل عید کے دنوں میں جنرل پوسٹ آفسز کے سامنے ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ویسے جنرل لفافے اور بے رنگ لفافے کا دور تو لوگوں کو یاد ہی ہو گا کہ کس تیزی اور کسی سستی کا مرقع تھا بس ڈاکیا کی آواز سے پتہ چلتا تھا کہ جب وہ کسی کا پوچھتے تھے تو یہ بے رنگ لفافہ ہوا کرتا تھا اور جو ڈاکیا سے پوچھتے تھے تو یہ جنرل لفافہ ہوا کرتا تھا۔

ویسے ہم جنرل تک سولجر، نائیک، حولدار، صوبیدار، کپتان، میجر اور کرنل سے ترقی کرتے ہوئے پہنچے ہیں۔ ہم سولجر کٹ بڑے شوق سے کرتے ہیں۔ بازار کا نام بڑے دھڑلے سے سولجر بازار رکھ دیتے ہیں۔ نائیک اور نائیکہ تو ہمارا روزمرہ کے استعمال کا جیسے نام اور کام کا حصہ ہو۔ حولدار تو ہم پیار سے بچوں کے نام تک رکھ دیتے ہیں۔ اور صوبیدار تو ہمارے گرفت کا ایک انمول صیغہ ہے۔ کپتانی تو ہم کھیل کھیل میں بھی کر جاتے ہیں۔

اور ہر چیز کا میجر پورشن اپنے حصے میں رکھنے کا وتیرہ تو جیسے ہماری گھٹی میں شامل ہو اور وکالت کی پریکٹس میں میجر ایکٹ کا ایک بڑا عمل دخل ہے۔ کرنل جنرل تو اب ایک قافیہ کی صورت میں پکارا جاتا ہے۔ کرنل چاول کی خوشبو اس پر مزید سونے پر سہاگا۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایک جانب جنرل عمومی طور پر ابتدا ہے یا بسم اللہ ہے تو دوسری جانب خصوصی طور پر انتہا یا امین ثم امین ہے جو بیچ میں عام لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور اب لوگوں کی یہ عادت ثانیہ بن چکی ہے کہ اس جنرل لفظ کو کسی لاحقے اور سابقے کے ساتھ ضرور مل کر لایا اور پکارا جائے۔

 

Facebook Comments HS