سسلین مافیا اور پاناما لیکس


پاکستان میں پہلی بار سسلین مافیا اور گاڈ فادر کا نام مجھے سمیت بہت سارے لوگوں نے پاناما لیکس کی سماعت کے دوران سنا۔ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے دوران سابق جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شریف فیملی کو سسلین مافیا کے نام سے مخاطب کیا اور نواز شریف کو ان کا گاڈ فادر قرار دیا۔ پھر وقت گزرا اسی نواز شریف کی بیٹی نے چند روز قبل سابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے جلسے میں تین ججوں، ایک سابق جنرل اور عمران خان کے پوسٹر آویزاں کرتے ہوئے کہا جسٹس کھوسہ یہ دیکھو یہ ہے اصل سسلین مافیا جس نے نواز شریف کے خلاف سازش کی۔

مجھے مریم نواز کی تقریر میں ایک بار پھر سسلین مافیا اور گاڈ فادر کا نام سننے کے بعد اصل سسلین مافیا کے متعلق معلوم حاصل کرنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ میں نے گزشتہ اتوار Mario Puzo۔ کا ناول خریدا۔ یہ ناول 357 صفحات پر مشتمل ہے۔ میں نے ایک ہفتے میں ہی پورا ناول پڑھ لیا۔ اسی دوران میں نے گوگل پر سرچ کیا۔ گاڈ فادر کے نام سے تین فلمیں ملی۔ میں ساتھ ساتھ روزانہ ناول پڑھتا گیا اور ساتھ اس پر بنی فلمیں بھی وقفے وقفے سے دیکھتا گیا۔

وٹو کارلیون کا اصل نام وٹو اینڈولینی تھا۔ وہ 7 دسمبر 1891 میں سسلی کے کارلیون نامی گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہ دراز قد تھا رنگت گہری تھی سمارٹ مین تھا۔ جب وہ بارہ سال کا تھا تو کارلیون کے ڈان نے اس کے والد کا قتل کر دیا۔ وٹو کی ماں اپنے بیٹے کو اس ڈان کے پاس خود لے کر گئی اور اس کے لیے رحم کی بھیک مانگی۔ اس کی ماں نے ڈان سے کہا تمہاری دشمنی میرے شوہر سے تھی تم نے اس کو قتل کر دیا لہذا میرے بیٹے کا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ کمسن ہے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

لیکن ڈان نے کہا یہ بڑا ہو کر اپنے باپ کا بدلہ ضرور لے گا لہذا اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے۔ وٹو کی ماں نے اس کو وہاں سے بھگا دیا لیکن ڈان نے اس کی ماں کو بھی قتل کر دیا۔ وٹو وہاں سے بھاگ کر امریکہ اپنے ماں کے کسی جاننے والے کے پاس آ گیا۔ امریکہ آ کر اس نے اپنا نام صرف وٹو کارلیون رکھ لیا۔ کارلیون اس کے گاؤں کا نام تھا۔ پھر آنے والے وقت میں وہ پورے امریکہ سمیت دنیا بھر میں اسی نام سے پہچانا گیا۔ ایک دن وہی بارہ سالہ لڑکا پورے امریکہ کا سب سے بڑا ڈان بن گیا۔

ڈان وٹو کارلیون کو مرنے کے بعد اصل شہرت اس پر ناول لکھنے والے Mario Puzo ’s نے بخشی پھر اسی ڈان کارلیون پر تین فلمیں ”گارڈ فادر“ بنی جنہوں نے وٹو کارلیون کے کردار کو ہالی وڈ کی دنیا میں ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ اس سلسلے کی پہلی 2 فلمیں 30 سال تک دنیا کی 250 فلموں میں پہلے اور دوسرے نمبر رہیں۔ ان کی IMDB ریٹنگ 9 رہی۔ پھر 1994 میں ”گاڈ فادر“ سے یہ ریکارڈ The Shawshank Redemptionفلم نے چھینا۔ یہ آج بھی دنیا کی نمبر ون فلم ہے جو گزشتہ تیس سال سے ٹاپ پوزیشن پر ہے۔

اس فلم میں مرکزی رول مورگن فری مین نے ادا کیا تھا۔ وٹو کارلیون پر پہلی فلم 1972 میں بنی۔ جبکہ دوسری فلم وٹو کی سالگرہ کے دن 7 دسمبر کو ریلیز ہوئی۔ جبکہ اسی سلسلے کی تیسری فلم 1990 میں ریلیز ہوئی۔ جو پہلی دو فلموں کے مقابلے میں اتنی کامیابی نہ حاصل کر سکی۔ گاڈ فادر ون اور ٹو آج بھی 50 سال بعد دنیا کی ٹاپ فلموں میں دوسرے اور چوتھے نمبر ہیں۔ پہلے نمبر ”The Shawshank Redemption“ اور تیسرے نمبر‘ The Dark Knightہے۔ یہ فلم 2008 میں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم گاڈ فادر میں وٹو کارلیون کا رول Marlon Brando نے ادا کیا جبکہ اس کے چھوٹے بیٹے مائیکل کارلیون جو بعد میں ڈان بنا اس کا رول Al Pacino نے ادا کیا۔ Marlon Brando اور Al Pacino کو عالمی شہرت بھی انہی کرداروں سے ہی ملی۔

وٹو کارلیون نے ہوش سنبھالتے پہلے ایک بیکری پر کام شروع کیا۔ وہ جس علاقے میں رہتا تھا وہاں اس کی ملاقات کلے مین زا اور ٹی سیو سے ہوئی۔ ان دونوں کے ساتھ مل کر ہی وٹو نے پہلے چوری کی۔ اس کے بعد وٹو کارلیون کا روب اور دبدبہ پورے علاقے میں پھیل گیا کیونکہ وہ اصول پسند آدمی تھا بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کرتا ہر ضرورت مند کے کام آتا تھا۔ پھر وٹو نے تیل سپلائی کا کام شروع کر دیا وہ سسلی سے تیل منگواتا اور امریکہ میں فروخت کرتا۔

وٹو کارلیون کی طاقت، شہرت اور دولت میں ورلڈ وار ٹو کے دوران اضافہ ہوا۔ امریکہ کے کئی بڑے شہریوں میں اس کے جوئے کے اڈے اور کلب چلتے تھے۔ اس کو منشیات کے دھندے سے نفرت تھی۔ اس دھندے سے انکار پر اس کو دوسرے مافیا خاندان کے ایک کارندے سے پانچ گولیاں بھی کھانی پڑی لیکن وہ بچ گیا۔ ایک دن آیا وہ بارہ سال کا بچہ پورے امریکہ کا سب سے طاقتور ڈان بن گیا۔ امریکہ کی پولیس، ایف بی آئی، کئی سینیٹر اور ججز تک وٹو کارلیون کے غلام بن گئے جو اس کی رشوت پر پلتے تھے۔

وٹو کارلیون کا ایک مخصوص ڈائیلاگ جو آنے والے وقت میں بہت مشہور ”میں اسے سمجھاؤں گا“ ہوا۔ یہ اصل میں آخری وارننگ ہوتی تھی۔ اگر وہ شخص وٹو کارلیون کی بات مان لیتا تو بچ جاتا ورنہ اگلے دن کہی سڑک کنارے اس کی لاش ملتی۔ وٹو کارلیون اتنا طاقتور بن چکا تھا کہ امریکہ بھر کے مافیا ڈان اور خاندان اس سے ڈرتے تھے۔ جبکہ تین امریکی صدر کو بھی اس نے انتخابی مہم کے لئے پیسے دیے۔ وٹو کارلیون اصول پسند شخص تھا وہ ہمیشہ دھیمی آواز میں بولتا۔

اس کے سامنے کھڑا شخص چاہے کتنا بھی اس پر غصہ ہوتا وہ کبھی جو اباً غصے میں نہیں آتا تھا۔ وہ ہر بات صرف ایک مرتبہ کہتا تھا دوسری بار اس کو اپنی بات دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وٹو کارلیون کے انتقال کے بعد اس کا سب سے چھوٹا بیٹا مائیکل کارلیون ڈان بنا۔ مائیکل نے ورلڈ وار ون میں حصہ لیا تھا جس میں اس کو دو تمغے بھی مل چکے تھے۔ وٹو کارلیون کے تین بیٹے تھے۔ جن میں سونی سب سے بڑا تھا پھر فریڈر، مائیکل اور اس کی بیٹی کونی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔

سونی ایک مافیا خاندان جو ان کا حریف تھا ٹاٹا گلیار خاندان انہی کے ہاتھوں ایک لڑائی میں قتل ہو گیا۔ مائیکل ایک ذہین اور ہونہار لڑکا تھا اس نے کبھی اپنے خاندان کے بزنس میں دلچسپی نہیں لی تھی لیکن والد اور بڑے بھائی کے انتقال کے بعد خاندان کا سربراہ اور ڈان وہی بنا۔ پھر ایک مدت تک امریکی مافیا ڈان خاندانوں اور امریکہ میں اسی کا راج چلتا رہا۔ مائیکل بھی اپنے باپ کی طرح اصول پسند تھا اس نے کبھی کسی کو بلاوجہ تنگ نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے والد سے زیادہ امریکی سیاستدانوں، ججوں اور پولیس افسران سے گہرے مراسم قائم کیے۔

Facebook Comments HS