آٹے کے شہدا
اس بھیڑ میں برقع اوڑھ کر سارا دن کھڑے رہنا میری مجبوری ہے۔ مجھے چار بچوں اور بوڑھی ماں کے لیے آٹا لے جانا ہے اور آج چوتھا روز ہے۔ میں خالی ہاتھ گھر واپس چلی جاتی ہوں، میں ہر روز اس آس کے ساتھ گھر سے نکلتی ہوں کہ آج آٹا لے کر جاؤں گی اور اپنے بچوں اور بوڑھی ماں کو روٹی بنا کر کھلا دوں گی۔ لیکن اس نظام کے آگے میں بے بس ہوں، یہاں لوگوں کا ایسا ہجوم ہے جیسے کوئی ریورڑ ہو مجھے یقین ہے مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
لوگ اپنی ضروریات تک پوری نہیں کر پارہی، لیکن یہاں دیکھ کر لگتا ہے ہماری حکومت نے ہم سب کو آٹے کے تھیلے کے پیچھے لگا دیا ہے۔ اگر بجلی کا بل گھر پر آ سکتا ہے تو آٹے کا تھیلا بھی تو آ سکتا ہے۔ لیکن حکومت ہمیں ذلیل کروا کر جانیں لے کر ہی ایک تھیلا آٹا دینے پر بضد ہے اور میں بھی مجبور ہوں گھر میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے۔ یہ الفاظ ہیں پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حمیراکی جوکئی دنوں سے ایک تھیلاآٹے کی حصول کے لیے لائن میں کھڑی راہ دیکھ رہی تھی کہ مجھے آٹے کا تھیلا کب ملے گا کب میں سوکھی روٹی بنا کر اپنے غریب بوڑھی ماں اور بچوں کو کھلاسکوں گی۔
آپ یقین کر لیں یہ صرف کے پی کے سے تعلق رکھنے والی خاتون کے الفاظ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے ہر اس خاتون کی آواز ہے جوموجود ہ دورمیں آٹے کے تھیلے کے لیے لائن میں چار چار روز سے کھڑی رہنے پر مجبور ہے۔ اور قوم کی ماؤں بہنوں کا اس طرح لائن میں کھڑی رہنا اور ذلیل ہونا حکومت کے منہ پر طمانچہ نہیں تو اور کیا ہے۔ کیا ہماری حکومت یہی چاہتی ہے کہ قوم کی مائیں بہنیں آٹے کی حصو ل کے لیے جان دے دیں؟ کیا ریاست ایسی چلتی ہے؟ اگر ایسے ہی حکمران ہوتے ہیں اور ریاستیں چلتی ہے تو اس ریاستوں پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہو گا آخر ہم کہاں کھڑے ہیں ہمارا ملک کہاں پہنچا ہے جہاں دس کلوآٹے کی حصول کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا جا رہا ہے۔
وطن عزیز میں مفت آٹے دینے کا سلسلہ پچھلے دنوں پنجاب سے شروع ہوا اور یہ قہر کراچی پہنچتے پہنچتے 20 جانیں لینے میں کامیاب ہو گیا۔ پی ڈی ایم سرکار نے پنجاب میں مفت آٹے کی فراہمی کا اسکیم شروع کیا 25 مارچ کوساہیوال کے نواز شریف پارک میں مفت آٹے کی تقسیم شروع ہو گئی خاتون نسیم اختر بھی آٹے کی جنگ جیتنے کے لیے لائن میں کھڑی تھی اتنے میں دھکم پیل شروع ہو گئی آٹے کے امیدار ایک دوسرے کو روندتے ہوئے آگے نکلنے لگے نسیم اختر گر گئی کسی نے انہیں ہاتھ لگا کر آٹھانے کی کوشش بھی نہیں کی آٹا تقسیم مہم ختم ہونے تک نسیم اختر قیمہ بن کرآٹے کے شہدا کی لسٹ میں اپنا نام درج کروا چکی تھی۔
بات ساہیوال کے نسیم اختر پر ختم ہوتی تو بھی بہتر تھا لیکن شہباز سرکار کی اس جان لیوا مہم انسانوں کی جان لیتی گئی۔ بہاولپور، مظفرگڑھ اور اوکاڑہ میں بھی شہریوں نے آٹے کی حصو ل کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ اور ان جانوں کی قیمت ہمارے حکمرانوں کے باہر مکھی کی جان کے برابر بھی نہیں، کیوں؟ کیونکہ حکومت عوام کو جب چاہیے جہاں چاہے مسل دیتی ہے۔ ہماری قوم کی حیثیت اب مکھیوں کی سی رہ گئی ہے حکومت ہمیں ایک تھیلا آٹے کی حصول کے لیے جان دینے پر مجبور کر رہی ہے۔
اور یہ ہماری ریاست اور یہ ہمارا سسٹم ہے۔ آٹے کی جنگ کی باری پنجاب کے بعد کراچی آن پہنچی اس بار حکومت کی بجائے فلاحی کام کرنے والی فیکٹری موت بانٹنے لگی۔ 30 مارچ کو سائٹ ایریا میں واقع فیکٹری میں آٹے کی تقسیم کاعمل شروع ہو گیا پہلے دن 100 افرادمفت آٹے کی جنگ جیتے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن دوسرے دن حالت بدل چکی تھی لوگوں کا جم غفیر امڈ آیاتھا ہر کوئی اس تک و دو میں تھا کہ مجھے آٹا کب ملے گا۔ آٹے کے امیدواروں کی تعداد 100 سے 200 اور 200 سے 400 ہوتی گئی آٹے کی ٹریک کے پیچھے صرف انسانوں کا سراور اوپر اٹھتا ہاتھ نظر آ رہا تھا۔
ہر کسی کو صرف ایک تھیلا آٹا ہی وصول کرنا تھا، کسی شہری نے دوسرے کاخیال نہیں کیا ایک دوسرے کو روندتے چلے گئے بھگڈرمچ گئی تھی کچھ افراد نے آٹے کی راہ میں جان دے دی تھی اتنے میں بھگڈر کو ختم کرنے کے لیے لاٹھی چارچ کاخوب استعمال کیا گیا۔ کونے پر گٹر کھلا تھا لوگ آٹے کی جنگ تو نہیں جیت پائے، جان بچانے کے لیے بھاگتے رہے پاؤں پھسلا اور گٹر میں چلا گیا یوں 6 افراد کی لاش گٹر سے نکالی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے 11 افراد نے شہدائے آٹا کی فہرست میں اپنا نام درج کرواچکے تھے۔
آپ یقین کر لیں کسی نے نہیں سوچاہو گا کہ دس کلو آٹے کی حصول کے لیے لوگ جان دینے پر مجبور ہوں گے۔ لیکن دور خاصر میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ عام سی بات ہو گئی ہے۔ ہم آج اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ کھانے کو کچھ ہے نہ پینے کو اور حکومت ہمیں اپنی مرضی سے مروا رہے ہیں چاہے وہ مفت آٹے کی حصول کی راہ میں ہو یا یوٹیلٹی اسٹور پر کم قیمت کے بہانے چیزیں دینے کی ترغیب۔ آخر حکومت چاہتی کیا ہے مفت آٹے کے نام پر جان لینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں کیا ریاستیں اس طرح چلتی ہے؟
اگر آٹا دینا ہی مقصود ہو تو گھروں تک رسائی کیوں ممکن نہیں بناتے؟ جب گیس بجلی کا بل ہر مہینے گھر بھیج سکتا ہے تو ایک آٹے کا تھیلا گھر تک کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ آپ آج ہی واپڈا، کے الیکٹرک، ایس ایس جی سی سیمت دیگرحکام سے فہرستیں مرتب کر لیں ہر ایرے کے بل منیجر کو آٹے کی گاڑی کے ساتھ بٹھا کر گھر گھر آٹاسپلائی مہم شروع کریں سب مستحقین تک بغیر کسی عجلت کے آٹا پہنچنا شروع ہو جائے گا۔ اس طرح نہ کسی کی جان جائے گی نہ کسی کی عزت۔ لیکن ہماری حکومت یہ کام نہیں کرے گی، کیوں؟ کیونکہ ان کو پبلسٹی چاہیے ہوتی ہے یہ اپنی پبلسٹی اور ووٹ بینک کے چکر میں لوگوں کی جانیں لینے کے درپے ہیں تاکہ آٹے کی شہداکی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو اور یہی ہماری ریاست کا اصل چہرہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔


