تم کیا ہو؟ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو ؟


آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ گزشتہ دنوں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی دہشت گردوں کی طرف سے نمازیوں پر کی جانے والی بربریت کے بعد شدت سے ہوا جہاں دل غمگیں ہوا وہیں اس بات کا شدت سے احساس بھی ہوا کہ ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور ہم سب بے حس۔ دنیا کے نقشے پر بمشکل اور ”زبردستی“ نظر آنے والے اس قابض اسرائیل نے ایک زناٹے دار تھپڑ ستاون اسلامی ممالک کو ایک لمحے میں دے مارا مگر ہم ہر بار کی طرح اس بار بھی اس تھپڑ کو کھانے کے بعد اب تک خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے۔ یعنی یہ اب وہی آنکھیں ہیں جو دیکھتی نہیں، وہی کان ہیں جو سنتے نہیں، وہی دل ہیں جو سمجھتے نہیں، یا ان دلوں پر قفل ہی پڑ چکے ہیں؟

کیا المیہ ہے کہ جسم کے ایک حصے کی تکلیف جسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں محسوس نہیں کی جا رہی اور محسوس بھی کیسے کی جائے کہ ایمان کی صورتوں میں جوڑے رکھنے اور درد و تکلیف کو محسوس کرنے والا نظام حساسیت ہی درہم برہم ہے جیسے جیسے ایمان کم ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے والا ”سینسری نظام“ بھی بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے وگرنہ ستاون اسلامی ممالک اور خوش قسمتی سے دنیا کے چند ایٹمی ممالک میں سے ایک ایٹمی ملک بھی اسلامی ملک، دنیا کی بہترین بری، بحری اور فضائی افواج کا حامل بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کی بہترین انٹیلی جنس رکھنے کا دعویدار بھی ایک اسلامی ملک، دنیا میں سب سے زیادہ تیل کی برآمد کرنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے زیادہ تر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار رکھنے والا بھی ایک اسلامی ملک، دنیا کے بڑے بڑے خیراتی ممالک کی صف میں اول موجود رہنے والا بھی ایک اسلامی ملک۔

یعنی نا مال و دولت کی کمی آڑے آ سکتی ہے نا جدید ہتھیاروں کا بہانہ سامنے آ سکتا ہے۔ ہائے! حیف صد حیف کے وہ انبیاء کی سر زمین پکارتی ہے ”بس ذرا صبر! کہ دنیائے اسلام میں سے کوئی تو بہادر آئے گا مدد کو“ مگر دنیائے اسلام کے بہادر تو خود کو بڑی بڑی سلیبریٹیز بنانے میں، نئی فلمیں فلمساز نے میں اور نئے گانے بنائے میں تو ہی مصروف ہیں اپنے مسلمان بھائیوں کی تکلیف کہیں محسوس نہیں کی جا رہی ہے اور یہ ممکن بھی کیونکر ہو کہ نہ جذبۂ جہاد باقی رہا نا ایمان کی پختگی باقی رہی دین فرقوں کی نظر ہو چکا بقول شاعر،

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ کہ مسلمان بھی ہو

اے فلسطین ذرا ٹھہر کہ مجھے کسی نا کسی کو قتل کر کے، ملک میں امن و امان کو خراب کر کے یہ ثابت تو کر لینے دے کہ میں سچا عاشق رسول ﷺ ہوں، اے فلسطین ذرا سا رک اور مجھے اس پر تو لڑ جھگڑ لینے دے کہ تراویح آٹھ رکعت ہے یا بیس رکعت ہے، آیا میں نے رفع الیدین کرنا ہے یا نہیں، آیا میں نے بیک وقت طلاق کو مکمل طلاق ماننا ہے یا نہیں، فلسطین تم ذرا صبر کرو مجھے چاند کا مسئلہ حل کر لینے دو، مجھے یہ سیکھ لینے دو کہ عورت پر حکمرانی کرنے کے کون کون سے طریقے میرے حق میں ہیں، مجھے یہ سیکھ لینے دو کہ میں نے مجازی خدا کیسے بننا ہے، بہن کا حق کیسے کھا سکتا ہوں، رشتوں میں منافقت کیسے کر سکتا ہوں، یتیم کا مال کیسے ہڑپ کر سکتا ہوں، ناپ تول میں کمی کیسے کر سکتا ہوں، مہنگائی عروج پر کیسے پہنچا سکتا ہوں، سود کو کس طرح حلال کروا سکتا ہوں، رشوت کو کیسے عام کروا سکتا ہوں، حیا کو کیسے نیلام کروا سکتا ہوں۔ اور۔ اے فلسطین کے بھائیوں ذرا صبر کرو مجھے دیکھ لینے دو کے میرے لیے امن زیادہ بہتر ہے یا تمھاری آزادی۔

وہ محمد بن قاسم (رح) وہ صلاح الدین ایوبی (رح) ، ہائے وہ لوگ اور وہ جذبۂ ایمان و جہاد۔
تھے تو وہ آباء تمھارے ہی مگر تم کیا ہو؟

ہم میں سے کوئی کیسے محمد بن قاسم بنے کوی کیسے صلاح الدین ایوبی بنے کہ میری قوم کی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں اور بھائیوں کو تو ٹک ٹاک پر ناچ گانے میں مصروف کر رکھا ہے یا پب جی پر نئے گر سکھائے جا رہے ہیں کہاں ہماری اقدار و تعلیمات، کہاں مقصدیت، کہاں تمنائیں، کیا امیدیں اور کیا وفائیں۔

جس چالاکی اور منصوبہ سازی سے امن امن کا راگ الاپ کر اس قوم سے جذبۂ جہاد کو ختم کر دیا گیا، نت نئے ایپلیکیشنز کو مفت پیکجز کے ساتھ آسانی سے ہر خاص و عام کو فراہم کیا جا رہا ہے اور جس تیزی سے یہ معصوم عوام اسی ٹرک کی بتی کے پیچھے جا رہی ہے ڈر ہے کہ کوئی قوم نوح یا قوم لوط یا عاد و ثمود یا بنی اسرائیل جیسا عذاب ہی نا آ پکڑے۔

اسلام دنیا کا وہ واحد دین ہے جس نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل اس وقت انسانیت کی بات کی اور انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جب بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی ریت قائم تھی، جب بہن کو بہن اور بھائی کو بھائی نا سمجھا جاتا تھا، اسلام نے ایسے گھٹن زدہ اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں انسانیت کو تحفظ فراہم کر کے ایک نئی روشنی بخشی اور انسانیت کا ایسا اصول متعارف کروایا جس کی نظیر تاریخ کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی، یعنی یہ واضح کر دیا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم اس حصے کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے اسی طرح مسلمان کہیں کسی مصیبت میں ہو تو باقی مسلمان اس کی تکلیف کو محسوس کر کے ہر ممکن اس تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر تاریخ نے یہ دیکھا بھی کہ کس طرح مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور ایک حصے کے مسلمانوں کی تکلیف دوسرے حصے کے مسلمانوں کی تکلیف ہے کہ جب ایک بحری جہاز پر قبضہ ہوتا ہے تو عرب سے برصغیر ایک کم عمر سپہ سالار باقی سپاہیوں کے ساتھ مدد کو بھیجا جاتا ہے دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح مظلوم کو ظالم کے چنگل سے آزاد کرایا گیا، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ کس طرح صلاح الدین ایوبی رح نے پے درپے حملے کیے اور مسجد اقصیٰ و فلسطین کا تحفظ ممکن بنانے کی تمام کوشش کی مگر۔

کیا ہم محض اپنی تاریخ ہی دیکھتے رہیں گے اور اسی پر فخر کرتے رہیں گے؟ وہ وقت کب آئے گا کہ جب ہم اپنی ایسی شاندار تاریخ خود رقم کریں گے کہ جسے تاریخ داں بھی قلم بند کرنے پر مجبور ہو جائے؟ کیا وقت اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ آپس کے اختلاف کو چھوڑ کر اسلام کے ایک جھنڈے تلے جمع ہوا جائے؟ کیا وقت یہ تقاضا نہیں کرتا کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

وقت اس بات کا شدت سے تقاضا کر رہا ہے کہ قوم میں جذبۂ ایمان و جہاد کو اجاگر کیا جائے، وقت اس بات کی شدت سے کمی محسوس کر رہا ہے کہ تمام ستاون اسلامی ممالک ایک ہی صف میں ہوں اور اپنا بھرپور موقف دنیا کے سامنے رکھیں، کیا ہم آئے روز کبھی آقائے دو جہاں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی برداشت کرتے رہیں گے اور محض مذمتی بیان جاری کرنے یا ریلیاں نکالنے پر اکتفاء کریں گے؟ کیا ہم آئے روز کبھی فلسطین تو کبھی شام کبھی عراق تو کبھی کسی دوسرے کمزور اسلامی ملک سے دلخراش نت نئی دہشت گردی کی خبریں سنتے رہیں گے؟ کہاں ہیں اب وہ انسانیت کے علمبردار لوگ اور تنظیمیں کہ جنھیں آسیہ پر انسانیت یاد آئی تھی؟ کہاں ہے وہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی؟

اور کتنا اس معصوم عوام کو بیوقوف بنایا جائے گا اور یہ بنتی رہے گی؟

خدارا محمد بن قاسم (رح) صلاح الدین ایوبی (رح) یا خالد بن ولید ( رض) کے محض قصے سن سنا کر فخر محسوس نا کیجیئے بلکہ آگے بڑھیے اور دنیا کو بتائیے کہ ہم ہی ہیں محمد بن قاسم اور ہم ہی ہیں صلاح الدین ایوبی، اٹھیے اور تاریخ رقم کیجیئے دیکھیں کہ کیسے بدر کے میدان کی طرح قطار اندر اور قطار باہر فرشتے نصرت کو آتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک فی الفور اسرائیلی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اپنے اپنے ملکوں سے تمام اسرائیلی ٹی وی چینلز کی نشریات کو معطل کیا جائے صہیونی و عیسائی چالوں کی کمر توڑ کر رکھی جائے اور انھیں بتایا جائے

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

Facebook Comments HS