ہمارے مدارس کی حقیقت کیا ہے؟


بہت ہی محترم جو اہل دین کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور علماء و مدارس کے ساتھ خوش دلی کے ساتھ تعاون کرتا چلا آ رہا ہے، اس دن بہت پریشان اور مضطرب عجیب بات کرتے پایا۔

فرمایا، مجھے تو سخت دھچکا لگا اور ایمان ہی متزلزل ہو کر عدم اطمینان کا سامنا ہے کہ یہ مدارس کے ساتھ ہمارا تعاون کیوں ہے؟

یہاں کیسے لوگ تیار ہو رہے ہیں؟
معاشرے کو تقسیم کرنے والے۔
ممبر رسول پہ بیٹھ کر ایک دوسرے کو ننگی گالیاں نکالنے والے۔
کفر کے فتوے بانٹنے والے۔
بغض، کینہ، حسد، نفرت اور تعصب سے بھرے ہوئے۔
جھوٹ در جھوٹ بولنے والے اور بہتان اور الزامات لگانے والے۔
کیا یہاں سے ڈھیٹ مناظرہ باز نکلتے ہیں؟
یہ سوشل میڈیا پہ میں کیا دیکھتا ہوں؟
سوشل میڈیا نے تو ان کا چہرہ عیاں کیا۔
میرے نزدیک تو یہ لوگ پاکباز اور مقدس تھے لیکن یہ تو ہم عامیان سے بھی بڑھ کر جاہل اور زبان دراز ہیں۔

جب مسلم لیگ کے پرویز رشید نے مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں قرار دیا تھا تو اس وقت میں نے ان کو بہت گالیاں دی تھیں لیکن اب تو مجھے اپنے اس غصے اور عمل پہ پچھتاوا ہے۔ یہاں تو واقعی معاملہ کچھ الگ اور گڑ بڑ ہے۔

ہم نے انھیں مکمل سنا تاکہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور ہماری بھی کوئی بات سن ہی لے۔ ہم نے گزارش کی کہ بابا، نہ سب مدارس ایک جیسے ہیں اور نہ یہاں سے فارغین ایک جیسے۔

یہ جو آپ کو فیس بک پہ مناظر باز نظر آرہے ہیں یہ صاف پانی کے اوپر وہ کچرا ہے کہ جو بہت ہلکا ہے اگر اسے ہٹایا جائے اور جو ویسے بھی پانی کے بہاؤ میں تیزی آنے سے کناروں سے چپک کر رہ جاتا ہے، تو نیچے بہت صاف پانی ہے جو گہرا بھی ہے، وسیع بھی ہے اور میٹھا بھی ہے۔

یہ چند محدودے تنگ نظر ہیں جنہیں تعصب وراثت میں ملا ہے۔ جن کی خمیر ہی میں شر اور نفرت رچی بسی ہے بلکہ درست بات یہ کہ بسائی گئی ہے۔ بغض، کینہ اور حسد ان کی خون میں شامل کرایا گیا ہے۔ ”حسن بن صباح کی جنت“ کوئی کہانی نہیں بلکہ زمین پر ایک حقیقت ہے جہاں بہت ساروں کو سیر کرائی جاتی تھی اور جن کی برین واشنگ کی جاتی رہی۔ کیا اس ”جنت“ کی خباثتوں کو جان کر ہم اللہ رب العالمین کی جنت پر ایمان متزلزل کر لیں؟

کیا حسن بن صباح کی ”چشمہ شراب“ کی حقیقت جان کر رسول اللہ ﷺ کے حوض کوثر سے بدگمان ہوجائیں؟
اس لئے حق اور حقیقت کو مکمل جانے بغیر اسے جھٹلانا درست طرز عمل نہیں ہے۔

ہم نے بابا کی اکتاہٹ کو محسوس کر کے مزید دلائل دینے سے احتراز کیا اور امید بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔ انھوں نے فرمایا، ہو سکتا ہے کہ آپ کی باتوں میں کچھ صداقت بھی ہو لیکن فی الحال تک میں بہت مضطرب اور منتشر خیالی سے دوچار ہوں اس لیے آپ کی کوئی بات میری دماغ میں جگہ نہ پا سکی۔ مناسب یہی ہو گا کہ کسی اور وقت ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اس موضوع پہ بات کر لی جائے۔

رخصت ہوکے پلٹ کر فرمایا،
امیر صاحب،

ہم نے تو یہ سنا تھا کہ یہ لوگ مولانا مودودی پر الزامات لگایا کرتے ہیں، لیکن ابھی پتہ چلا کی یہ ظالم کے بچے تو آپس میں بھی دست و گریباں ہیں اور مولانا کے ساتھ جو رویہ رہا ہے اس سے دس ہاتھ آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو ننگی گالیاں نکالنے اور دھڑا دھڑ کفر کے فتوے لگانے سے دریغ نہیں کیا کرتے۔ یہ کیسی مخلوق ہے؟

ہم نے مصنوعی مسکراہٹ منہ پہ سجانے کی کوشش کر کے دو قدم آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ کو تھامے کہا، مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے تعاون کو بدستور جاری رکھیں گے۔

انھوں نے فرمایا،

بھائی، معاملہ چندے اور تعاون کا نہیں بلکہ محبت، احترام اور تقدس کا ہے۔ یقین جانیے مجھے شاک پہنچا ہے اور امید و یقیں کے منار دھڑام سے گر پڑے ہیں۔

ہم نے انھیں رخصت کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔ اب باقی کام اہل مدارس اور علماء کرام کا ہے کہ وہ کس طرح معاشرے کی نظروں میں گرنے سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS