جمہوریت اور جمہوری نظام۔


جس گلوبل دنیا میں ہم رہتے ہیں، اس میں کم و بیش اکثر ممالک جمہوری نظام حکومت سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ کہیں بادشاہت، ڈکٹیٹر شپ اور کہیں اشتراکی نظام بھی چل رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اکثر ملکوں میں جمہوری نظام رائج ہے۔ جمہوریت کی اصل روح کو سمجھنے کے لئے نہ صرف اس کی تعریف، اس کے اجزاء ترکیبی بلکہ اس کے ثمرات کا جائزہ لینا بھی اہم ہے۔ تب اسے احسن طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ کہیں تو یہ اپنی آب و تاب کے ساتھ اپنا ہی رکھ رکھاؤ رکھتی ہے اور کہیں اسے پنپنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اور کہیں اس کے نام پر ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک ایسا چورن ہے جس کا مزہ ہر ایک اپنے اپنے ملک میں چکھ رہا ہے۔ کہیں پارلیمانی اور کہیں صدارتی نظام حکومت اپنے اپنے انداز سے چل رہے ہیں۔

جمہوریت ملکی نظام حکومت چلانے کا ایک نظام ہے جس میں بالغ شہری یا اہل لوگ حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے پارلیمان میں اپنی نمائندگی کے لئے کسی کو منتخب کرتے ہیں جو ان کی ترجمانی کرنے کے علاوہ ان کے حقوق کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ جس کے ذمہ ان کی نمائندگی کا حق اس کی روح کے مطابق ادا کرنا فرض بنتا ہے۔ جمہوریت کا لفظ یونانی زبان کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ”ڈے موس“ جس کے معنی شہری یا عوام اور ”کراتوس“ معنی طاقت یا طرز حکمرانی ہے۔ اس کی روح سے اسے عوام کی طاقت کا سر چشمہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جو ان کی امنگوں کی ترجمانی کا عکاس ہو۔ اور اکثریتی اصولوں کے تحت ملکی نظام کے فیصلے صادر ہو رہے ہوں۔ اسے اکثریت کی طاقت کا سرچشمہ کہنا بجا ہو گا۔ یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں سروں کو تولہ نہیں بلکہ گنا جاتا ہے۔

جمہوری نظام پانچویں صدی میں یونان کے اکثر صوبوں میں اپنی جڑیں پکڑ چکا تھا خصوصاً ایتھنز میں تقریباً چھٹی عیسوی صدی میں سلیکشن کے ذریعے آفیسرز کو چنا جاتا تھا جب کہ دوسروں لوگوں کو اکثریتی فیصلے کی روشنی میں منتخب کیا جاتا تھا۔ جسے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے چنتے تھے۔ افسروں کو ووٹنگ کا حق حاصل نہ تھا اور پارلیمان صرف اور صرف مرد حضرات پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ لیکن اولیگراچی صوبے نے سب سے پہلے ایک ایسی مثال قائم کی جس کے تحت افسروں کو بھی ووٹنگ کا حق حاصل ہو گیا۔

جمہوریت کا یہ طرز زندگی ایتھنز میں کیوں کامیاب ہوا اس کی کئی وجوہات تھیں لیکن سب سے افضل ایک تو قوانین کا مطابقت رکھنا اور دوسرا آبادی کا تناسب تین لاکھ ہونا گردانا جاتا ہے۔ دوسری جانب عورتوں کی نمائندگی، غلاموں کے حقوق، اور دوسرے کئی لوگ اس حق رائے دہی سے محروم تھے جب کہ وہ بھی اسی معاشرے و سلطنت کا حصہ تھے۔ پھر بھی اس طرز سلطانی نے آہستہ آہستہ اپنی مقبولیت حاصل کر لی اور اپنی جڑیں عوام میں قائم کرنی شروع کر دیں۔

یہ جمہوری نظام کی ابتدائی شکل تھی۔ لیکن شومئی قسمت ایتھنز اور سپارٹا کی جنگ کی وجہ سے یونان دو اکائیوں میں بٹ گیا۔ جس میں ایک طرف ایتھنز کے با شعور اور جمہوریت پسند لوگ جن کا طرز حکمرانی جمہوریت تھا جب کہ دوسری جانب سپارٹنز تھے جو ان سے متفق نہ تھے۔ اس سے ملک میں انتشار کی کیفیت کا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ لیکن ایک سال کے قلیل عرصے میں ہی ایتھنز نے یونان کو دوبارہ متحد کر دیا اور تمام علاقوں پر جمہوری راج دوبارہ قائم کر دیا۔

اس طرز جمہوریت میں کافی پابندیاں عائد تھیں اور جمہوریت کی اصل روح اس میں ناپید تھی۔ جب کہ موجودہ جمہوریت بھی پابندیوں سے آزاد نہیں ہے اور اس کی بھی کئی درجہ بندیاں ہیں۔ عوام کی رائے کے نتائج حاصل کرنے کے لئے ایک معینہ مدت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جس میں عوام صرف اپنا ووٹ ڈالتے ہیں اور ان کے نمائندگان ان کی منشاء کو پارلیمان میں پیش کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اور وہ اسی طاقت کے بل بوتے پر قانون سازی اور دوسرے پارلیمانی امور سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن چار یا پانچ سال کے عرصہ تک ووٹ ڈالنے والوں کی منشاء کو دوبارہ جاننے کا کوئی میکانزم اس جمہوری نظام میں نہیں۔ اب مغربی جمہوریتوں نے سوالنامے یا دوسرے ذرائع سے عوامی رائے جاننے کے پیمانے اپنا لئے ہیں۔

جمہوریت کے نظام کو اپنی جڑیں پکڑنے میں کئی صدیاں لگیں۔ کرہ ارض میں سب سے پہلے ارض روم کو اس بات کا شرف حاصل ہوا کہ وہ پہلی رومن عوامی جمہوری حکومت کہلائی۔ تقریباً ساتویں یا آٹھویں صدی میں روم کے بادشاہ ٹارکوینیس سپربس کو اشرافیہ نے ملک بدر کر دیا جو کہ لوئشس جونئس بروٹس کی سربراہی میں منظم تھے۔ جنہوں نے رومن سینٹ کے ہاتھ میں قانون سازی اور ریاستی امور حوالے کر دیے۔ لیکن یہ حل بھی دیرپا ثابت نہ ہو اور گروہی سیاست تمام امور پر حاوی ہو گئی۔

یہ نظام اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ چلتا رہا تا آنکہ سینٹ نے ایسے تحریری قوانین وضع کیے جو کچھ دلجوئی کا باعث بنے۔ جب تھوڑے ہی عرصہ میں رومی سلطنت تمام بحیرہ روم پر قابض ہو گئی تو اس کی وجہ سے ایک تو ان پر خوش بختی کے سائے لہرانے لگے اور دوسری طرف دولت کی فراوانی نے جوش مارا جس میں غلاموں کی تجارت اور کانکنی کے ذرائع آمدن تھے۔ جب دولت حد سے بڑھی تو امراء نے زمینوں اور فارموں کو خریدنا شروع کر دیا اور ناجائز منافع خوری نے امراء اور غرباء میں تفریق کی حد پھیلا دی جس کے نتیجے میں یہ دونوں طبقات تصادم کی راہ گامزن ہوئے اور غرباء نے ان مسائل کے حل طلب کے لئے قوانین سازی کا مطالبہ کر دیا۔

اب اس معاشرے کے زوال کا دور شروع ہو چکا تھا۔ جس کی ایک وجہ جرنیلوں کے طاقتور طبقہ کے عروج و زوال کی داستانیں بھی تھیں۔ جمہوریت کی یہ کشتی ہچکولے کھاتی آگے بڑھتی رہی اور ساتھ ہی ساتھ ظلم و ستم کی داستانیں بھی رقم ہوتی رہیں۔ تا آنکہ جولئس سیزر حکمرانی کے سنگھاسٹ پر بیٹھا اور اپنی مطلق العنانی قائم کرنے کی کوشش میں قتل کر دیا گیا۔ اسی کے ساتھ ہی شہنشاہت و فسطائیت کا اس خداداد مملکت سے خاتمہ ہوا۔

آٹھویں صدی جمہوری نظام کے لئے سنگ میل ثابت ہوا جس میں جدید جمہوری نظام کی نمایاں ترویج ہوئی۔ جب یورپ میں صنعتی انقلاب رونما ہوا تو اسی کے ساتھ ہی جمہوری اقدار کی قدریں تبدیل ہونا شروع ہوئیں اور چرچ کی مذہبی چیرہ دستیوں سے لوگوں نے اپنے آپ کو چھڑانا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں قانونی اصلاحات کا دور شروع ہوا اور آہستہ آہستہ حق رائے دہی اٹھارہ سال کی عمر کے نوجوان اور عورتوں کو بھی حاصل ہوا۔ پارلیمانی طرز حکومت میں برطانوی پارلیمان کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ بادشاہت برقرار رکھتے ہوئے بھی جمہوریت کی راہ چل رہی ہے۔

اس میں دونوں کا امتزاج شامل ہے۔ جس میں ہر ایک ادارہ اپنی حد میں رہتے ہوئے کاربند ہے جس سے مسائل بڑھتے نہیں۔ برطانوی پارلیمانی نظام، دارالعوام یعنی نیشنل اسمبلی اور ہاؤس آف لارڈز یا سینٹ پر مشتمل ہے اور ملک انتظامی طور پر لوکل باڈیز پر منقسم ہے۔ لوکل باڈیز کے پاس اپنا بجٹ ہوتا ہے۔ یہاں کی لوکل باڈیز خود مختار ہیں۔ اور اپنے علاقے کی ترجیحات خود طے کرتی ہیں۔ ان میں عوام کی نمائندگی بذریعہ حق رائے دہی کے اصول پر ہوتی ہے۔

اور الیکشن ہر سال ہوتا ہے۔ تمام کونسلرز ممبران کا انتخاب ایک نظام کے تحت ہوتا ہے مثلاً مانچسٹر سٹی کے کل ننانوے کونسلرز ہیں جو تین سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ جن میں ایک تہائی یعنی تینتیس کونسلرز کا الیکشن پہلے سال دوسری تہائی دوسرے سال اور تیسری تہائی تیسرے سال الیکشن میں حصہ لیتی ہے۔ اس سے نظام تواتر کے ساتھ چلتا اور مضبوط ہوتا رہتا ہے اور اکثریتی جماعت اپنے منشور کے تحت کام کرتی ہے۔ اگر درمیان میں لوکل الیکشن اپوزیشن جیت جاتی ہے تو وہ اگلے سال کے لئے لوکل باڈی کے اختیارات حاصل کر لیتی ہے۔

دستور کے مطابق ایک فارمولے کے تحت ہر لوکل باڈی کو بجٹ کی رقم مہیا کی جاتی ہے۔ جس کی روشنی میں تعلیم، پولیس اور دوسری ترجیحات کے تحت اپنا بجٹ بنانا اور فل کونسل سے اس کی منظوری حاصل کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ سیاسی موروثیت کا تصور بالکل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی یا ان کا امیدوار الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ اخراجات کی حد سے تجاوز کا نہ تو سوچ سکتا ہے اور نہ پارلیمان کے ممبران کو علاقائی یا حلقے کی تعمیر و ترقی کی مد میں رقم مہیا کی جاتی ہے۔

یہ لوکل کونسل کا کام ہے اور ایسے کاموں کو مکمل کرنا ان کے دائرہ اختیار میں ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی یا امیدوار ایک مطلوبہ مقرر کردہ مالیاتی حد سے زیادہ اخراجات نہیں کر سکتا ورنہ الیکشن کمیشن کی سخت گوشمالی کا خطرہ ہوتا ہے اور جس کے مضمرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ کیونکہ انتظامی طور اپنے اپنے عملداری میں ایک اکائی کی صورت میں لوکل باڈیز میں بٹے ہوئے ہیں لہذا یہاں گورنروں کا کوئی تصور نہیں۔

ہماری جمہوریت پارلیمانی و صدارتی نظام کے امتزاج کے ساتھ لاگو ہے لہذا یہاں گورنر کے پاس کلی اختیار نہیں ہوتا بلکہ وزیر اعلیٰ صوبائی حکومت کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے۔ ہماری جمہوری روایات بریطانیہ سے مستعار لی ہوئی ہیں۔ لیکن ہم نے اس کے ساتھ صوبائی حکومتوں کے قیام کا تڑکا بھی لگایا ہوا ہے۔ لہذا گورنر مقرر کرنا اب ہماری قانونی مجبوری ہے۔ بریطانیہ میں پروٹوکول کا کوئی تصور نہیں اور نہ شاہراہوں کو بلاک کیا جاتا ہے۔

ملکی قوانین کی عملداری و پاسداری ہر ایک پر لازم بلحاظ عہدہ کے ہے اور اسی اعتبار سے قانون شکنی کی صورت میں جرمانہ و سزا کا حقدار ہوتا ہے۔ دارالعوام کا الیکشن ہر چار سال کے بعد ہوتا ہے اور جیتنے والی سیاسی پارٹی برسرپیکار آتی ہے۔ ملک حلقوں میں بٹا ہوا ہے۔ الیکشن کے دوران کہیں بدنظمی نظر نہیں آتی۔ تقریباً چھ سے آٹھ ہفتوں میں الیکشن کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اگر برسرکار سیاسی پارٹی الیکشن جیت جائے تو وہ اگلی مدت کے لئے اپنا کام جاری رکھتی ہے اور اگر اپوزیشن جیتے تو دوسرے دن ان کا سربراہ عنان اقتدار سنبھال لیتا ہے اور حلف برداری کی کوئی تقریب نہیں ہوتی۔

ہر حلقے کا رزلٹ اس حلقہ کے ٹاؤن ہال میں الیکشن والے دن تمام امیدواروں اور ان کے پولنگ ایجنٹوں کے سامنے گنتی کے بعد جاری کیا جاتا ہے اور جیتنے والا امیدوار ایک چھوٹی سی تقریر کرتا ہے جس میں کسی کی دل آزاری کا تصور نہیں ہوتا بلکہ سب کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہی طریقہ کار لوکل باڈیز کے الیکشن میں اختیار کیا جاتا ہے۔ البتہ اپر ہاؤس یا ہاؤس آف لارڈ کے الیکشن کا طریقہ کار ذرا مختلف ہے۔ اس میں ممبران کو دو طریقوں سے منتخب کیا جاتا ہے۔

پہلے طریقہ کار کے تحت وراثتی ممبران کو لیا جاتا تھا جسے 1999 ء کے قانون میں تبدیلی کے بعد اب ایک آزاد کمیشن ہاؤس آف لارڈز کے امیدواروں کو منتخب کرتا ہے جن کا تعلق مختلف شعبہ زندگی سے ہوتا ہے۔ دوسرے ممبران کو سیاسی پارٹیوں کے کوٹہ سے منتخب کیا جاتا ہے۔ جن کا استحقاق سیاسی جماعتوں کے اپنے دارالعوام کے ممبران کی تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔ باقی قوانین کی منظوری کا عمل دونوں ملکوں یعنی انگلستان اور پاکستان کی پارلیمانوں کا انداز ایک ہی جیسا ہے۔

اب ذرا فرانسیسی جمہوریت کو دیکھتے ہیں۔ فرانس 22 ستمبر 1792 ء میں شہنشاہیت و فسطائیت کو شکست دینے کے بعد جمہوریت کی طرف گامزن ہوا۔ یہ ایک جمہوری ریپبلک مملکت ہے۔ جس میں نیشنل اسمبلی اور سینیٹ دونوں ریاست کا حصہ ہیں۔ فرانس جزوی صدارتی اور جزوی پارلیمانی سسٹم کے تحت اپنے معاملات مملکت چلاتا ہے۔ ریاست کا سربراہ صدر جب کہ حکومت کا آئینی سربراہ وزیر اعظم ہے اور تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔

اس کا سیاسی نظام تین ایگزیکٹو اداروں پر مشتمل ہے پہلے نمبر پر ایگزیکٹو برانچ، دوسرے پر لیجیسلیٹیو برانچ اور تیسرے نمبر پر جیوڈیشل برانچ ہے۔ صدر کے پاس ریاست کی ایگزیکٹو پاورز ہیں جبکہ وزیراعظم و وزراء حکومت کا حصہ ہیں۔ صدر وزیراعظم کو منتخب کرتا ہے جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس کے آئینی و عدالتی ادارے خودمختار ہیں۔ فرانسیسی جمہوریت صدارتی و پارلیمانی جمہوریت کا امتزاج ہے۔ عوام اپنے صدر کو حق رائے دہی کے اصول کے تحت پانچ سال کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ جو اپنے وزیراعظم کو منتخب کرتا ہے۔ اور یہ پھر حکومت کے روز مرہ کے معاملات کو چلاتا ہے۔ صدر فارن پالیسی و ملکی سکیورٹی کے علاوہ دوسرے ملکوں سے تعلقات کا ذمہ دار ہے۔ اس کے 18 ریجنز، 13 میٹروپولیٹنز اور 5 اوورسیز ریجنز ہیں۔ فرانسیسی پارلیمان کا کام قانون بنانا ہوتا ہے اور صدر انہیں لاگو کرتا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکا وفاقی صدارتی نظام حکومت کا حامل ملک ہے۔ جس کی پچاس ریاستیں، پانچ بڑی خودمختار ٹیریٹریز اور کئی زیر تسلط جزیرے ہیں۔ وفاقی حکومت دستور کے مطابق تین اداروں لیجسلیٹو، ایگزیکٹو اور جوڈیشری پر مشتمل ہے۔ صدر الیکٹورل سسٹم کے تحت چار سال کے لئے منتخب ہوتا ہے۔ اس کا الیکٹورل سسٹم بڑا ہی پیچیدہ اور الیکشن نہ صرف جان جوکھم کا کام ہے بلکہ اس میں کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے اور الیکشن کے تمام عمل کو مکمل ہونے کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

عام انسان الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ہر ریاست ایک الیکٹورل کالج ہے اور اس کے صدارتی ووٹوں کی تعداد اس کے پرائمریز کی مقامی آبادی پر منحصر ہے جو صدارتی امیدوار جتنی پرائمریز اور ریاستیں جیتے گا بالخصوص بڑی ریاستیں اتنا ہی زیادہ اسے ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ صدر ملک کا آئینی سربراہ ہوتا ہے جو اپنی کیبنٹ خود چنتا ہے اسی طرح گورنر ریاستوں کے آئینی سربراہ ہوتے ہیں اور اپنی ریاستوں کی کیبنٹ خود چنتے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے الیکشن کا موازنہ اگر برطانوی پارلیمانی جمہوریت سے کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ برطانیہ میں الیکشن نہایت قلیل وقت میں پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں اور پیسے کا اتنا زیاں بھی نہیں ہوتا جبکہ امریکہ کا الیکشن بہت وقت اور پیسے کا زیاں ہے۔

اب آئیں ہم اپنی جمہوریت کی طرف ہم نہ تو جمہوری طرز حکومت پر گامزن ہیں اور نہ ہی ہمارے رویے اس بات کی غمازی کرتے ہیں۔ ہم نے ملک پاکستان کو ایک ایسے دو رائے پر لا کھڑا کر دیا ہے جس سے اس کی احساس کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ ہم میں عدم رواداری، عدم اعتماد اور انا پسندی در آئی ہے اور اس سے بھی گمبھیر بات ہماری ذاتی ترجیحات ملکی ترجیحات سے افضل ہو گئی ہیں۔ برداشت کا مادہ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ کسی بھی جمہوریت میں حکومتی سیاسی پارٹی اور اپوزیشن دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں اور ان میں باہمی احترام کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ ہماری بدقسمتی ہم جمہوریت کی اعلی اقدار کو نہ تو سمجھ سکے اور نہ ہی اس پر کاربند ہو رہے ہیں۔ کہیں ہم غیروں کی چالوں میں نادانستگی سے پھنستے تو نہیں چلے جا رہے۔ اب بھی وقت ہے ہمیں اپنی راہوں کو جمہوری اقدار پر اس کی روح کے مطابق ڈھالنا ہو گا ورنہ داستان نہ ہو گی ہماری داستانوں میں۔

 

Facebook Comments HS