بلی اور مولوی کی دوستی!


میرے دوست حافظ رفیق نے ایک بار اپنے پاﺅں کا ایک پرانا زخم دکھاتے ہوئے مجھ سے کہا تھا ”طالب (دینی مدرسے کا طالب علم) کی بلی سے دوستی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ اُس کا بچا ہوا کھاتی ہے، مگر کتے سے اس کی دشمنی فطری ہے۔ کیونکہ کتا اسے کھانے سے پہلے چھینتا ہے۔“ رفیق ان مقامی مدرسے کے طلبا میں سے ایک تھا، جن کی ڈیوٹی مغرب اور عشا کی نمازوں کے درمیان گھروں سے کھانا مانگنے کی ہوتی تھی۔ اور اُسی میں اُس کتے سے مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ مگر اب ماشاءاللہ سے وہ ایک ایسے مدرسے کا مہتمم ہے جس کے طلبا کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے گھروں سے مانگنے کی ضرورت نہیں۔

حافظ رفیق کی برسوں پہلے کی ہوئی بات مجھے گزشتہ روز ایک پیش امام اور بلی کی ویڈیو دیکھ کر یاد آئی، جس نے عالم اسلام میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یقینا وہ ویڈیو دیکھ کر مجھے بھی بہت پیار آیا، اُن دونوں پر۔ بلی اور مولوی، دونوں کے چہروں پر ایک جیسی معصومیت آویزاں تھی۔ تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ ویڈیو اسلام کی سربلندی اور مسلمانوں کے بگاڑے ہوئے image  کو ایسے سنوار دے گی کہ بگاڑ پیدا کرنے والے ”ہنرمند“ اپنا سا منہ لے کر رہ جائیں گے۔ ویڈیو کو لے کر دوست احباب کا جو ش و خروش دیکھ کر ایسا لگنے لگا ہے کہ جیسے کوئی فرشتہ بلی کی صورت میں آکر اُمتِ مسلمہ پر احسان کر گیا ہے۔ اللہ کی قدرت، اُس کے کام وہی جانے۔ مگر مجھ جیسے گناہ گار کے دماغ میں شیطان ایک سوال ڈال رہا ہے کہ ایک پیش امام ہی کیوں؟ ایک مقتدی کیوں نہیں؟

میرے ناچیز مشاہدے میں مسلمانوں کی اکثریت بلیوں کے لیے ایسا ہی شفیق رویہ رکھتی ہے۔ سوائے کچھ توہم پرستوں کے، جو کالی بلی کو ناگوار نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ بعض اوقات راستہ کاٹ کر اُن کے مصمم ارادوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ ورنہ اَن گنت تعداد میں ایسے مسلمان ہیں جو رنگ نسل کی تفریق کے بغیر بلیوں پہ شفقت کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ اُنہیں اولاد کی طرح پالتے ہیں، گلیوں میں رُلنے پھرنے والی بلیوں کے لیے کھانے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ اور اکثر تو اُن کے علاج معالجے کے لیے بھی بھاگ دوڑ کرتے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں میری بیٹی میرے آرام کو نظرانداز کرتی ہوئی روزے کی حالت میں میری تمام تر ڈانٹ ڈپٹ کو اَن سنی کر کے مجھے گھسیٹ کر حیوانات کے ایک کلینک میں اپنی بلی کا چیک اپ کروانے لے گئی۔ وہاں کتنے ہی دوسرے روزے دار اپنی اپنی باریوں کے انتظار میں اونگھتے ہوئے ملے، جن کی اکثریت اپنی بلیاں لے کر آئی تھی۔ میرے برابر بیٹھا ہوا ایک نوجوان اپنی قیمتی بلی کو فخر سے پچکارتا ہوا سامنے بیٹھے ایک بڑے میاں سے پوچھنے لگا۔ ”انکل آپ کی کونسی breed ہے؟“ جب انکل نے اُس سے Breed کا مطلب پوچھا تو نوجوان نے بلیوں کی نجانے کتنی ہی نسلیں گنوا دیں اور ساتھ میں اپنی بلی کی نسل اور قیمت بھی اردگرد والوں کے گوش گزار کر دی۔ وہ بیچارہ انکل معصوم صورت بنا کر بولا ”پتہ نہیں بیٹا۔ ہمیں نہیں معلوم یہ کس نسل، قوم، قبیلے یا خاندان کی ہے۔ ہم تو باہر گلی سے اُٹھا کر لائے ہیں۔ مگر وہ بڑا بدذات آدمی تھا جس نے اِس بیچاری سوئی ہوئی پر اپنی موٹرسائیکل چڑھا دی۔“

بلی شاید واحد جانور ہے جس کے لیے ہمارے یہاں مذہبی اور غیرمذہبی دونوں حلقوں میں قبولیت کے دروازے کھلے ہیں۔ خصوصاً حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے بلی کی حیثیت بڑی لاڈلی والی ہے۔ مگر انسان کی گود میں گھسنے کا خمیازہ بھی اُسے بھگتنا تو ہے۔ لہٰذا محاوروں، استعاروں اور روایات میں بلی کو خوب گھسیٹا گیا ہے۔ مثلاً: نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی۔ بلی کو خواب میں چھیچھڑے نظر آتے ہیں۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ ہماری بلی ہمی کو میاﺅں۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور تو اور بلی کو بے وفائی کے کردار کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ ”عورت کا کیا رونا یار، عورت تو بلی ہوتی ہے۔ جب تک دودھ پلاﺅ وہ تمہاری ہے۔ جس دن ناغہ کیا، پڑوسی کے گھر کود جائے گی۔“ میں نے خود مردوں کو ایک دوسرے کی دلجوئی کرتے ہوئے سنا ہے۔ کئی لوگوں کے نزدیک بلی جیسی آنکھوں والے لوگ مکار، بے وفا اور دغاباز ہوتے ہیں۔ کچھ روایات میں، اپنی دھاک بٹھانے کے لیے دُلہے کو سہاگ کی رات کمرے میں دُلہن کے سامنے کسی بلی پر تشدد کے مشورے بھی دیئے گئے ہیں۔ بلی کو خودغرضی کی مثال کے طور پربھی لیا جاتا ہے۔ یہ طعنہ تو ہر کسی نے کسی کو دیاہوگا "بلی کو جب پتہ چلا کہ اُس کا فضلہ کسی دوا میں استعمال ہوسکتا ہے تو اُس نے پہاڑ پہ جاکر…. ،،

اور تو اور بلی جنسی جنونیت کی علامت کے طور پر بھی بدنام ہے۔ اُن لطائف کو آپ رہنے دیں، جن میں بلی کے اسکینڈل بنائے گئے ہیں۔غرض کہ بلی ہر طرح سے ایک مسلمان کی زندگی کا حصہ ہے۔

اِس غیر ضروری تفصیل سے میرا سوال پس پشت چلا گیا۔ میں دہرا دیتا ہوں کہ ایک پیش امام کی ویڈیو [ہمارے تئیں] اُمتِ مسلمہ کے image کا مسیحا کیوں بنی؟ بلیوں پر جان نچھاور کرنے سے لے کر اُن کی جان بچانے تک کے اُن اَن گنت ویڈیوز کو اتنی پذیرائی کیوں نہیں ملی جن کا ہیرو ایک مقتدی ہے؟ ایک عام سے مسلمان کی ویڈیوسے انسانیت کی وہ روشنی کیوں نہیں پھوٹی جو اسلام کے بدخواہوں کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی؟ کیا مذہب اسلام اور اُس کے پیروکاروں کا ترجمان صرف ایک پیش امام ہی ہوسکتا ہے یا پھر اِس ویڈیو کو مسیحا سمجھنے والے پیروکار خود کسی حیرت بھری مسرت میں مبتلا ہیں کہ ایک پیش امام اتنا معصوم، مشفق اور رحم دل بھی ہوسکتا ہے؟

بہرحال۔ میری خواہش ہے کہ کسی دن ایسی ہی کوئی دوسری ویڈیو بھی وائرل ہو جائے، جس میں کوئی پیش امام صاحب کسی کتے پر شفقت عنایت کر رہے ہوں۔ اُس کی وجہ سے مسلمانوں کا image غیر مسلموں کی نظر میں کتنا مزید بہتر ہوگا، اِس کا اندازہ تو آپ لگا سکتے ہیں، البتہ کتوں کی زندگی پر اِس کے بہت مثبت اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ کم از کم ہمارے گلی محلوں میں اُنہیں پتھر مارنے کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS