ڈجیٹل میڈیا: پیپلز پارٹی اور نون لیگ بھی تحریک انصاف کے نقش قدم پر


ففتھ جنریشن وار، ایک دہائی قبل جب یہ الفاظ سنتے تھے تو ایک قومی جذبہ جاگ جاتا تھا اور اندر سے آواز آتی تھی اپنے ملک کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز دبا دیں گے، ہر الزام کا بھرپور جواب دیں گے، ہر عزائم کا ڈٹ کا مقابلہ کریں گے، وقت گزرتا گیا اور پھر جیسے ہی ففتھ جنریشن وار کے حقائق سے پردے اٹھنے لگے تو ہوش اڑ گئے، جذبے سارے پانی میں بہہ گئے، حوصلے کمزور ہو گئے، اس ففتھ جنریشن وار نے ملک میں جو آلودگی پیدا کی، جو نفرت پیدا کی، جو انتشار پیدا کیا، جس فساد کو جنم دیا، شاید زندگی میں کبھی ایسا پاکستان نہیں دیکھا ہو، جہاں ایک دوسرے کی عزت، احترام کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا، جس کے ہاتھ میں موبائل ہے، سوشل میڈیا چلانے کی مہارت رکھتا ہے، وہ ہی اس ملک کا عظیم دانشور، عظیم صحافی، عظیم تجزیہ نگار، عظیم محب وطن بن گیا، جو لوگ بھی ان عظیم شخصیات کے رویوں پر بات کرتے یا ان سے اختلاف کرتے، بس پر اس کا خیر نہیں، ملک کا نام لے کر ففتھ جنریشن وار کے ذریعے جو کھلواڑ اس قوم اور ملک سے کیا گیا اس کا خمیازہ شاید آنے والے کئی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا، کیوں کے پاکستان تحریک انصاف کو پروان چڑھانے کے لیے جو ففتھ جنریشن وار کا کھیل گیا تھا اب اس کو دیگر جمہوری سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنانا شروع کر دیا ہے، پی ٹی آئی کا سیاسی طرز عمل دیکھ کر یہ بات تو طے ہو گئی ہے کہ ملک میں شرافت سے سیاست کرنا اب محال بن گیا ہے، اگر اس ملک میں کسی سیاسی پارٹی کو سیاست کرنی ہے تو سب سے پہلے اس کو جھوٹ کی ایک فیکٹری بنانی پڑے گی، اس فیکٹری میں ایسے ملازم رکھنے ہوں گے جو جھوٹ کو اس طرح سچ بیان کریں کے جھوٹ خود شرمندہ ہو جائے۔

اس بات میں کوئی شک یا دو رائے نہیں کہ اس وقت ملکی سیاسی پارٹیوں میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ گرفت پاکستان تحریک انصاف کی مضبوط ہے، جس طرح وہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر کے پیش کرتے ہیں شاباش دینا تو حق بنتا ہے، حالیہ انکشاف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی نے وفاق اور کے پی میں سوشل میڈیا پر اپنے حق میں مہم چلانے کے لیے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں بھرتی کیا اور ان کو گھر بیٹھے تنخواہ دی جاتی تھی، جب وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پھر ملک جو طوفان بدتمیزی شروع ہوا اس میں انہی تنخواہ دار نوجوانوں کا جنون شامل تھا، جنہیں اب بھی کے پی حکومت کی جانب سے ماہوار تنخواہ دی جاتی تھی۔

حکومت سے لے کر ہر ادارہ پی ٹی آئی کی اس سوشل میڈیا ٹیم سے تنگ آ چکا ہے، ان کی پروپیگنڈہ مہم اتنی مضبوط ہے کہ حکومت اپنی قوت کا آدھا وقت صرف ان باتوں کی وضاحتیں دینے میں ہی ختم کر دیتی ہے، روزانہ کوئی نا کوئی ایشو پیدا کیا جاتا ہے اور ملکی سیاست اور میڈیا اسی رخ کی طرف چل پڑتے ہیں، اب کو شک نہیں رہا پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں شاید اب ناممکن ہو گیا ہے، موجودہ حکومت اور مخصوص اداروں نے ایک سال پوری کوشش کی کہ کسی طرح اس گند کو ختم کیا جائے، لیکن تاحال تو ان کو کامیابی نہیں ملک سکی، ہاں البتہ اب دیگر سیاسی پارٹیوں نے بھی اس لائن کو اپنانا شروع کر دیا ہے، ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے اب تحریک انصاف کی پیروی شروع کردی ہے اور ان کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہے کہ اب زمینی حقائق کی کوئی اہمیت نہیں، اگر آپ کو سیاست میں زندہ رہنا ہے تو پی ٹی آئی پارٹ ٹو بننا پڑے گا اور اس کے لیے جھوٹوں کی فیکٹری قائم کرنی پڑے گی، لازمی بات ہے جھوٹ مفت میں نہیں ملتا اس کے لیے آپ کو تجوریوں کے منہ کھولنے پڑیں گے۔

مسلم لیگ نون کی جانب سے جب مریم نواز کو پارٹی کا چیف آرگنائزر مقرر کیا گیا تو اس نے سب سے پہلے پارٹی کو مضبوط کرنے یا ناراض سینئر رہنماؤں کا راضی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ اس کی ساری توجہ سوشل میڈیا ٹیم بنانے پر فوکس ہو گئی، پورے پنجاب میں اس نے ڈویژن سطح پر دورے کیے اور سوشل میڈیا ٹیم بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا، نوجوانوں کو سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا اور انہیں پارٹی کے دفاع اور پی ٹی آئی کے خلاف میدان میں اترنے کی باضابطہ ٹریننگ دی گئی۔

مسلم لیگ نون کی یہ سرگرمیاں دیکھ کر ملک میں سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی بھی جاگ اٹھی اور چیئرمین بلاول بھٹو نے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کو پیپلز پارٹی ڈجیٹل کا سربراہ منعقد کر دیا، اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے پارٹی میں اور بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو اس وقت سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہیں لیکن اس کام کے لیے شرجیل میمن کا انتخاب کیوں کیا گیا، اس سادے سوال کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس وقت وزارت اطلاعات شرجیل میمن کے پاس ہے اور پیپلز پارٹی ڈجیٹل میڈیا بھی اسی طرز عمل پر کام کریں گی جس طرح پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز سے ایک ڈجیٹل جھوٹ کی فیکٹری قائم کی تھی، اب ایک ایسی ہی فیکٹری سندھ حکومت قائم کرنے جا رہی ہے، کچھ روز قبل ہی پیپلز پارٹی ڈجیٹل کا کراچی کے مہنگے ترین نجی ہوٹل میں ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں صوبے کے مختلف شہروں سے نوجوانوں کو اکٹھا کیا گیا اور ان کو پیپلز پارٹی کے حق میں مہم چلانے کا ٹاسک دیا گیا۔

پارٹی کے حق میں مہم چلانا کوئی بری بات نہیں، لیکن اس مہم کی آڑ میں معاشرے کے اندر جو نفرت کی آگ پھیلائی جاتی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے، ملکی اداروں کو پی ٹی آئی کا تجربہ بھولنا نہیں چاہیے، اس لیے جو بھی پارٹی پی ٹی آئی کا پیروکار بننے کی کوشش کرے اس کو فوری طور پر روکنا چاہیے اور سرکاری فنڈز کا اس طرح بے جا استعمال بھی غیرقانونی ہے، جب آپ کے پی میں پی ٹی آئی کی ڈجیٹل ٹیم کے خاتمے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں تو پنجاب میں نون لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی اس ٹیم کو کیسے جائز اور قانونی قرار دے سکتے ہیں، اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے جو لوگ آج حمایت میں مہم چلائیں گے کل وہ مخالفت میں نہیں چلائیں گے، پی ٹی آئی کا تجربہ پورے پاکستان کے سامنے ہے، اداروں نے ہی پی ٹی آئی کو پروان چڑھانے کے لیے نام نہاد عظیم دانشور اور صحافی پیدا کیے جو آج ان کے ہی گلے پڑ گئے ہیں اور گلے پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں ہمیں تو آپ نے ہی بتایا یہ چور ہیں، ہمیں تو آپ نے ہی بٹھا کر ان کی فائلیں دکھائیں، ہمیں تو آپ نے ہی کہا عمران خان صادق امین ہیں، آج یہ چور صادق امین ہو گئے اور عمران خان چور بن گیا، ایسا نہیں چلے گا۔ تو جناب! ہم بھی یہی کہنا چاہتے ہیں پاکستان کو بچانا ہے تو پی ٹی آئی جیسا سیاسی طرز عمل ختم کرنا ہو گا، دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اس راہ پر چلنے سے گریز کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا گیا تو جو حالات آج ہیں وہ اور بدتر ہوجائیں گے۔

Facebook Comments HS