کیا آپ انائس نن سے واقف ہیں؟ (2)
فرانسیسی نژاد امریکی شہری انائس نن، ڈائری نگار، ناول نگار، افسانہ نگار اور شہوت انگیز مضمون نویس تھیں۔ نائس نن 21 فروری 1903 ء کو فرانس کے شہر ’نیولی‘ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پورا نام : ”انجیلہ انائس ژانہ انطولینہ روزا ایڈل میرا نن کومل“ تھا۔ ان کے آبا و اجداد کیوبا سے ہجرت کر کے فرانس جا بسے تھے۔ ان کی وجہ شہرت ڈائری نویسی، تخلیقی ذات کا تصور، خواتین کی مکمل آزادی اور ایک پر امن انسانی معاشرے کی جستجو ہے۔ انھوں نے ڈائری تحریر کرنے جیسی اہم صنف کو ادب کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نن 1977 ء میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلز میں وفات پا گئیں۔ انھوں نے 74 سال عمر پائی۔ اس مضمون کا حصہ اول میرے گزشتہ کالم میں چھپ چکا ہے۔ دوسرا حصہ حاضر خدمت ہے :
تخلیقی اظہار: نن تخلیقی عمل کو بہت سراہتی تھیں۔ ان ماننا تھا کہ عورتوں کے اندر تخلیقیت اپنا اظہار مردوں کے مقابلے میں مختلف طریقے سے کرتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مردوں میں تخلیقیت ایک شعوری عمل ہے جس کا تعلق دماغ اور سوچ سے ہے جبکہ خواتین میں تخلیقیت، ’تخلیقی پیداوار‘ کی صورت میں ہوتی ہے۔ جیسے بچے، جو عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ دماغ سے۔
عورتیں اپنے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں، یعنی اپنی تخلیقی پیداوار کی پرورش اپنے خون سے کرتی ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک مکمل جذباتی اور روحانی تجربہ ہوتا ہے نہ کہ کوئی تجریدی عمل۔ ”عورت مردوں کے مقابلے میں لاشعور سے زیادہ قریب ہوتی ہے اور زیادہ وقت لاشعور سے جڑی رہتی ہے وہ اس میں خلل پسند نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ عورت کی منطقی صلاحیت بھی مرد جتنی نشوونما یافتہ نہیں ہوتی۔“
نن خود بھی ایک آرٹسٹ تھیں اور آرٹسٹ کی نفسیات پر گہری نظر رکھتی تھیں۔ ان کو ایک لکھاری کی مسرت، وجد اور بے خودی کا اچھی طرح معلوم تھا۔ کیونکہ وہ بذات خود ان کا تجربہ کر چکی تھیں۔ لکھنے کا عمل اس کو ایک ذہنی تفریح کے ساتھ ساتھ دوسروں کو پیار بھرا تحفہ دینے کا عمل محسوس ہوتا تھا۔ ایک انٹرویو کے دوران لکھنے کے فن کو نن نے یوں بیان کیا:
”سفید ورق میرے لیے ایک پھسلنے والی ڈھلوان ہے۔ (SKI۔ SLOPE) ۔ میں مکمل دیوانی ہو جاتی ہوں۔ سٹیشنری اسٹوروں میں مجھ پر وارفتگی طاری ہو جاتی ہے۔ کورے کاغذ دیکھ کر میرے اندر لکھنے کی تمنا بیدار ہو جاتی ہے۔“
جب انٹرویو کرنے والوں نے نن سے پوچھا کہ کیا چیز ان کے اندر تخلیق کرنے کی حس بیدار کرتی ہے تو ان کا جواب تھا : ”خوشی سے، لطف سے، جس طرح پرندے خوشی کے اظہار کے لیے چہچہاتے ہیں، گاتے ہیں، اسی طرح میں خوش ہوتی ہوں تو لکھتی ہوں۔ میں اس وقت بھی لکھتی ہوں جب مجھے کسی شے سے پیار ہو جاتا ہے۔ کوئی منظر کوئی کردار، کوئی کتاب یا کوئی ملک۔
”ہنری کہا کرتا تھا:تصویر بنانا (مصوری کرنا) ایسا ہی ہے جیسے دوبارہ پیار کرنا۔ میرے لیے لکھنا پیار کرنے جیسا ہے۔ دوبارہ پیار کرنے جیسا۔ یہ کسی بھی فنکار کا ایمان ہے کہ جو کچھ بھی وہ کرے وہ دوسروں کو دینے کے لیے ہوتا ہے۔“
عورتوں کی آزادی: نن کا خیال تھا کہ عورتوں کی حقیقی آزادی کے لیے سماجی، معاشی اور قانونی حقوق کافی نہیں ان کو نفسیاتی اور جذباتی طور پر بھی آزاد ہونا ہو گا۔ اپنی خود اعتمادی بحال کرنا ہو گی اور اپنا ذاتی عکس بہتر بنانا ہو گا۔ وہ اپنی ذات سے محبت کرنا سیکھیں اپنی کامیابیوں پر فخر کریں۔ اس طرح وہ اپنی قدروقیمت میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
نن کی تمنا تھی کہ عورت اپنے آپ کو مرد کی نظر سے دیکھنے کی بجائے منفرد اور یکتا جانیں۔ ان کی نظر میں ان سب کاوشوں کی حتمی منزل عورت کی مکمل آزادی تھی، مرد پر انحصار ختم کرنا تھا اور مرد کے اندر سے اس احساس کو مٹانا تھا کہ وہ عورت کے نان نفقے کا ذمہ دار ہے۔ نن نے کہا: ”میرا خیال ہے اس طرح مرد بھی آزاد محسوس کریں گے جب عورت ان کے لیے بوجھ بن کر جینا بند کر دے گی۔“
وہ پر امید تھیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ کے ساتھ عورت اپنے عدم تحفظ کے احساس پر قابو پالے گی۔ اپنی ذات کے گرد خودساختہ دیواروں کو گرا دے گی اور اپنے احساس کمتری کو پس پشت ڈال دے گی۔
” میں عورت کے اندر موجود احساس کمتری، عدم اعتماد خوف اور کم ہمتی کے حوالے سے یہ بات زور دے کر کرنا چاہتی ہوں کہ جب بھی بات ہوتی ہے عورت کے گرد موجود بیرونی رکاوٹوں کی بات ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر قانونی، تاریخی، ثقافتی حتٰی کی مذہبی رکاوٹیں جو عورت کی نشوونما کی راہ میں حائل ہیں مگر ہم نے کبھی غور کیا کہ نفسیاتی طور پر عورت کے اندر کیا چل رہا ہے؟“ نن نے نہ صرف اپنے آپ کو آزاد کر لیا تھا بلکہ وہ اپنے عہد کی عورت کی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی آزاد کرنا چاہتی تھیں۔
ان کے الفاظ میں : ”میرا آزادی کا خواب صرف مجھ تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تمام عورتوں کے لیے ہے۔ اس لمحے میرا خواب عورتوں کی مکمل بیداری، نشوونما اور اپنی صلاحیتوں کو کلی طور پر بروئے کار لانا ہے۔“ وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پوری طرح پر عزم تھی اور دل و جاں سے منسلک تھی۔ مگر نن کا لائحہ عمل ان تمام خواتین سے مختلف تھا جو ”حقوق نسواں کی تحریک“ سے وابستہ تھیں۔ نن کا راستہ سیاسی سے زیادہ نفسیاتی تھا، سماجی سے زیادہ جذباتی تھا، بشریات سے زیادہ تخلیقی تھا۔
وہ حقوق نسواں کے ان علمبرداروں کے خلاف تھیں جو عورت کے مسائل کا سیاسی حل پیش کرتے تھے۔ نن کا خیال تھا کہ ہمیں ہر عورت کو انفرادی طور پر دیکھنا چاہیے۔ ہم تمام عورتوں کو اکٹھا کر کے ان کو سماجی، مذہبی اور سیاسی اور تجریدی دوائی پلا کر ان کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ انفرادی سوچ پیدا کرنے کے لیے عورت کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ ہر عورت کے مسائل دوسری عورت سے مختلف ہیں۔ سب کو ایک فارمولے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
نن کا خیال تھا کہ مختلف ثقافتوں اور سماجوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے مسائل کا تدارک ان کے مخصوص سماجی ماحول کو مد نظر رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ وہ چاہتی تھیں کہ عورت اپنی طاقت کو خود دریافت کرے اور مردوں کی طرف سے لائی گئی سماجی اور سیاسی تبدیلیوں پر انحصار نہ کرے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب عورت کو اپنی پوشیدہ طاقت کا ادراک ہو جائے گا تو کوئی مرد، تنظیم یا پدرسری نظام اس کا استحصال نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کو نظر انداز یا اس کے ساتھ بدسلوکی کر سکے گا۔
نن ان فیمنسٹ افراد (FEMINISTS) کے بھی خلاف تھی جو مردوں سے نالاں تھے اور ان کی پیش بندی میں ایک ایسا انقلاب شامل تھا جس میں مردوں کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ ان کے خیال میں عورتوں کی آزادی کا مردوں کی آزادی سے گہرا تعلق تھا وہ انقلاب کی بجائے ارتقاء پر یقین رکھتی تھیں۔ ایک دفعہ ایک انٹرویو کرنے والے نے رائے دی کہ دنیا بھر کی خواتین کی جانب سے ایک تباہ کن غصے کا اظہار ہونا چاہیے اور ایک انقلاب کے ذریعے اپنے گرد کھینچی گئی تاریخی زنجیروں کو کاٹ پھینکنا چاہیے۔ نن نے اس کی رائے سے اختلاف کیا:
” میرے خیال میں ایسا کرنا عورتوں کی تحریک کے لیے ضرر رساں ہو گا کہ وہ یہ سوچیں کہ وہ مرد کی شمولیت کے بغیر یا مرد سے ناتا توڑ کر نشوونما یافتہ، آزاد اور مکمل ہو سکتی ہیں۔ نن کا خیال تھا کہ شادی کے ارادے اور یک زوجگی نے مرد اور عورت کے درمیان فطری اور تخلیقی رشتوں کی آبیاری کی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ جب لوگ پیار بھرے رشتوں کو نام دینے کی یا ادارے بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو تخلیقیت اور برجستگی دب کر رہ جاتی ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے شادی کامیاب ہو جاتی ہے مگر کچھ کے لیے نہیں بھی ہوتی۔ کچھ لوگ صرف ایک فرد سے ٹوٹ کر پیار کر سکتے ہیں مگر کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو بیک وقت ایک سے زیادہ افراد کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مرد اور عورت کے درمیان نہایت قریبی (جسمانی) رشتے سے سماج کچھ توقعات وابستہ کر لیتا ہے یا پابندیاں عائد کر دیتا ہے۔“
ان کا ماننا تھا کہ ہمیں قربت کے رشتوں کی پیچیدگیوں کو تسلیم کرنا ہو گا اور انفرادی ناہمواریوں کو سمجھنا ہو گا۔ ان کو معلوم تھا کہ رشتوں میں آزاد خیالی اپنانا کثیر الجہتی مظاہر ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ”آزاد محبت“ (FREE LOVE) پر یقین رکھتی ہیں تو ان کا جواب تھا: ”معذرت! میں اس کا جواب نہیں دے سکتی۔ یہ بہت ذاتی معاملہ ہے۔ بہر حال میں اپنے جواب کو منفی الفاظ میں ہی ملبوس کروں گی۔ میرے نزدیک پیار نہ کرنا جرم ہے لہٰذا پیار تمھیں کسی شکل میں بھی ملے، اپنا لو، پھر وہ جو شکل بھی اختیار کرتا ہے کرے۔
کیونکہ میرے خیال میں اصل بات پیار کرنا ہے۔ آزاد، یا پابند یا شادی میں یا شادی کے بغیر یہ سب باتیں نہایت ذاتی ہیں۔ جو ہر فرد کے لیے مختلف معانی رکھتی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بہت کشادہ دل ہوتے ہیں اور ایک سے زیادہ محبتیں نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر آج تک تعدد ازواج کی سہولت مرد کو حاصل رہی ہے۔ یہ اجازت عورت کو بھی ہونی چاہیے۔“ نن کا خیال تھا کہ بہت سی خواتین شادی کے بعد اپنے دل، دماغ اور روح کے دروازے عشقیہ رشتوں کے لیے بند کر لیتی ہیں۔ ایسی خواتین کبھی اپنی تخلیقیت کی معراج کو نہیں پا سکتیں۔
تخلیقی گروہ: نن صرف عورتوں کو آزاد کرنے کی جدوجہد میں ہی شامل نہ تھیں بلکہ وہ لوگوں کا اجتماعی شعور بیدار کرنے کے لیے بھی کوشاں تھیں۔ وہ ان کو یہ آگاہی دینا چاہتی تھیں کہ ان کی ذاتی زندگیوں کا ان کی مقامی، قومی اور بین الاقوامی طور پر سیاسی اور سماجی زندگیوں سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کا ایمان تھا کہ ایک خوش مزاج انسان معاشرے کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ جبکہ ایک غصیلہ اور بد مزاج انسان نہ صرف معاشرے کے لیے عذاب بلکہ دھرتی پر بوجھ ہوتا ہے۔
اور سماجی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ غصہ جمع ہوتا رہتا ہے اور بل آخر جب قبیلے کے لوگ ایسے شدت پسندوں کا گروہ تشکیل دیتے ہیں اور اس کے لیے وہ ان کی قومیت اور مذہب کو استعمال کرتے ہیں پھر اس گروہ کو اپنے مخالف قبیلے سے، کو دشمن مان کر برسر پیکار کر دیتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جنگیں دراصل ہماری اپنی دشمنیوں کا حاصل ضرب ہوتی ہیں کیونکہ ہم خود نا انصافی پر مبنی ماحول پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔
ان کے خیال میں امن صرف عدم تصادم کا نام نہیں ہے اور امن کو دوام تب حاصل ہوتا ہے جب اس کا رشتہ انصاف سے جوڑا جائے۔ نن ایسے ماحول کی حامی تھیں جہاں لوگ نہ صرف اپنی تخلیقی ذات دریافت کر لیتے ہیں اور اس سے ملاقات کرتے ہیں، بلکہ دوسرے لوگوں کا اور ان کے فلسفے کا احترام کرتے ہیں۔ جو الگ نسل، طبقے، مذہب اور ثقافتی پس منظر کے اعتبار سے ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ نن نے ”تنوع میں اتفاق“ کا فلسفہ دریافت کر لیا تھا۔
ان کا یقین تھا کہ لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں جھانکا جائے تو وہ آپ کو مختلف نہیں بلکہ یکساں نظر آئیں گے۔ خواہ ان کا تعلق دنیا کے کسی علاقے سے ہو۔ وہ مختلف زبانیں بولتے ہوں گے مگر ان کے دل کی زبان ایک ہی ہو گی۔ نن کا ماننا تھا کہ لوگ دل کی زبان تبھی بول سکتے ہیں جب ان کی ملاقات اپنے تخلیقی ہمزاد سے ہو جاتی ہے اور وہ اپنا شعور تبدیل کر لیتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ”دنیا میں عظیم تبدیلیاں اس وقت رونما ہوں گی جب ہمارے اجتماعی شعور کی کایا کلپ ہوگی۔“
نن ایک غیر معمولی تخلیقی شخصیت کی حامل تھیں جنھوں نے ڈائری کو لٹریچر (ادب) کے مرکزی دھارے کا حصہ بنایا۔ وہ ایک پر امن، محبت پسند اور درد مند دنیا کا خواب دیکھتی تھیں۔ ایک ایسی دنیا جس میں ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل موجود ہو۔ بطور ایک ادیب اور نفسیاتی معالج میں (خالد سہیل) نے انائس نن سے بہت کچھ سیکھا۔ بلاشبہ وہ بیسویں صدی کے قابل اذہان میں سے ایک عظیم ذہن کی مالک خاتون تھیں۔
حوالہ جات :
نام کتاب : CREATIVE MINORITY۔ DREAMS AND DILEMMAS
مصنف : خالد سہیل







