بابا جی کا آشرم (مماثلت محض اتفاقیہ)


”آشرم“ ہندوستانی ویب سیریز ہے جو میں نے اپنے دوست کے کہنے پر دیکھنی شروع کی۔ آشرم میں ایک بابا جی ہیں جو اس تنظیم کے روح رواں ہیں۔ بابا جی کا یہ کردار جوان اور ہینڈ سم بوبی دیول نے ادا کیا ہے۔ آشرم کے بابا جی کو دیکھ کر اگر آپ کو پاکستان کے موجودہ کسی مقبول سیاست داں یا مشہور مذہبی رہنما سے مماثلت نظر آئے تو یہ محض اتفاقیہ ہو گی۔

بابا جی کے کئی شہروں میں آشرم ہیں۔ یہاں بے سہارا لوگ، یتیم بچے، بیواؤں اور اسی طرح مشکلات کا شکار کئی لوگ مقیم ہیں جو بابا جی کو اپنا خدا مانتے ہیں لیکن حقیقت میں بابا جی آشرم کی آڑ میں منشیات کا کام کرتے ہیں۔ بابا جی کے ارد گرد سیاست داں گھومتے رہتے ہیں کیونکہ بابا جی اپنے مریدوں کو جس پارٹی کو ووٹ دینے کا کہیں گے، وہی پارٹی الیکشن جیتے گی۔ بابا جی کا اپنے بچپن کے دوست اور اپنے دست راست سے ایک مکالمہ۔

بابا جی: ہم نے چھ لاکھ مریدوں سے اب چوالیس لاکھ مرید کر لئے ہیں لیکن یہ لوگ زیادہ تر غریب، شودر اور دلت ذات کے ہیں۔ اب اس تعداد کو بڑھانے کے لئے کچھ اور کرنا پڑے گا۔

دست راست: کیا چل رہا ہے تیرے ذہن میں؟
بابا جی: ہمیں نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنا پڑے گا۔
دست راست: اور وہ کیسے ہو گا؟

بابا جی ٹی وی آن کرتے ہیں : یہ دیکھ ہمارے دیش کا سب سے مشہور پاپ سنگر۔ یہ دیکھ کس طرح نوجوان لڑکے لڑکیاں اس کے گانوں پر ناچتے ہیں۔ ہمیں یہی جنون چاہیے۔ اس سنگر کو آشرم لے کر آ۔

بابا جی اس طرح مشہور لوگوں کو اپنے آشرم سے منسلک کرتے جاتے ہیں۔ بابا جی طوائفوں کے اڈے پر خود چھاپے پڑواتے ہیں اور پھر خود ہی تمام لڑکیوں کو پولیس سے چھڑوا کر آشرم لے آتے ہیں۔

بابا جی اپنے آشرم میں ان تمام لڑکیوں کی شادی بھی کرواتے ہیں۔ اس طرح بابا جی ایک دیوتا کا روپ دھار لیتے ہیں۔ لوگ جوق در جوق بابا جی کے فین بنتے جا رہے ہیں۔

بابا جی جب ان طوائفوں کی شادی والے دن، ان دلہنوں کو آشیرباد دے رہے ہوتے ہیں تو ان کی نظر ایک دلہن پر پڑتی ہے۔ اس لڑکی کا نام ببیتا ہے جو کافی خوبصورت ہے۔ بابا جی کا من للچا جاتا ہے۔ بابا جی اگلے ہی دن اس کے پتی کو بلاتے ہیں جو بابا جی کی فیکٹری میں ملازم ہوتا ہے۔ بابا جی اس کو بتاتے ہیں کہ ہم نے تمہاری قابلیت کو دیکھ کر تمہیں دوسرے شہر کی فیکٹری میں مینیجر لگا دیا ہے، تنخواہ دگنی۔ کل ہی سفر کی تیاری کرو اور وہاں رپورٹ کرو۔

پہلے وہاں جا کر پیر جما لو، پھر پتنی کو بھی بلوا لینا۔ ملازم کہتا ہے کہ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے اور میں ببیتا کو کیسے اکیلے چھوڑ سکتا ہوں۔ بابا جی کہتے ہیں کہ میں تو تجھے اپنے خاص مریدوں میں شامل کرنے والا تھا لیکن تو ابھی تیار نہیں ہے۔ ملازم بولا، نہیں نہیں بابا جی آپ جو کہیں گے میں کروں گا۔ بابا جی بولے چل تو میرے خاص مریدوں میں شامل ہو جا۔ اس کے لیے تیرا شدھی کرن کرنا ہو گا۔ وہ ان پڑھ اور غریب خوش ہو گیا کہ شدھی کرن کرا کر وہ خاص مریدوں میں شامل ہونے والا تھا۔

شدھی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پاک کرنے کے ہیں۔ دودھ سے اس کو نہلایا جاتا ہے۔ سینکڑوں لوگ دربار میں بھجن گا رہے ہوتے ہیں۔ اور دیگر کئی رسومات کے بعد آشرم سے متصل ہی اسپتال میں اس کو لے جایا جاتا ہے۔ یہ پوچھتا ہے کہ شدھی کرن میں اسپتال اور ڈاکٹر کا کیا کام لیکن بابا جی اس کو سمجھاتے ہیں کہ بابا جی پر بھروسا رکھ۔ ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں لے جا کر اس کو بیہوش کر کے اس کی مردانگی چھین لیتے ہیں۔ جب یہ ہوش میں آتا ہے تو بہت روتا ہے اور بابا جی سے کہتا ہے کہ میں نے آپ پر اعتبار کیا لیکن بابا جی آپ نے یہ کیا کر دیا۔

بابا جی اس کو شاطرانہ انداز میں جو مذہبی لوگوں کا خاصہ ہے سمجھاتے ہیں کہ تو شریر میں پھنسا ہوا تھا، میں نے تجھ پر احسان کیا ہے کہ اب تیرا اور بییتا کا رشتہ آتما سے آتما کا ہو گیا۔ اب تو دوسرے شہر میں بھی رہے گا لیکن تیری آتما یہاں ببیتا سے جڑی رہے گی، اور پھر تیرے بابا جی نے بھی تو شدھی کرن کروایا ہوا ہے۔ مرید نے حیرت سے پوچھا، بابا جی آپ نے بھی واقعی شدھی کرن کروایا ہے؟ بابا جی بولے، ہاں بھائی، سارا فساد ہی وہاں سے جنم لیتا ہے اور ہم تو شدھی کرن کروا کر اس پریشانی سے ہی آزاد ہیں۔ مرید بولا، بابا جی مجھے معاف کر دیجئے، میں نے آپ کو غلط سمجھا۔ آپ جو کہیں گے، وہ میں کروں گا۔

ببیتا کو جب اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ بہت ناراض ہوتی ہے۔ وہ اپنے پتی کو سمجھاتی ہے کہ بابا ایک فراڈ ہے اور اس بابا جی کے پیچھے ایک بھیانک چہرہ ہے لیکن وہ بابا جی کے بارے میں ایک لفظ سننے کا روادار نہیں ہوتا۔ شدھی کرن کے اگلے دن وہ مینجر بن کر دوسرے شہر روانہ ہو جاتا ہے۔

ببیتا رات کو اپنے کوارٹر میں اکیلی ہوتی ہے تو اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ وہ دروازہ کھولتی ہے تو بابا جی کے کارندے اس کو بتاتے ہیں کہ بابا جی نے بلایا ہے۔ کارندے ببیتا کو بابا جی کے کمرے کے دروازے تک چھوڑ کر آ جاتے ہیں۔ وہ اندر جاتی ہے تو بابا جی اس کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ببیتا ساڑھی میں ملبوس کھلے بالوں کے ساتھ قیامت ڈھا رہی ہوتی ہے۔ بابا جی اس کو نشہ آور چیز کھلا کر بیہوش کر دیتے ہیں۔ ببیتا اب بابا جی کی آغوش میں تھی۔ بابا جی ببیتا کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر بستر پر لٹا دیتے ہیں اور اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ بابا جی کا اپنا کوئی شدھی کرن نہیں ہوا تھا!

کاش ”آشرم“ کی شروع کی نو قسطیں ہم اپنے مدرسے کے بچوں کو دکھا سکتے!

Facebook Comments HS