اب اس قدر بھی نا چاہو کہ دم نکل جائے
ہماری سیاسی اشرفیہ کو یک دم خیال آیا کہ اس ملک میں رائج آئین کو پچاس سال ہونے کو ہیں۔ نامکمل قومی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ ان محفوظ پچاس سالوں کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جائے۔ ”ان کو آئین کا تحفظ حاصل ہے“ ۔ یہ آئین متحدہ پاکستان کے بٹوارے کے بعد بہت ہی مشقت سے بنایا گیا تھا۔ ملک پاکستان توڑنے کی سازش میں تین نام بہت ہی نمایاں ہیں۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمن مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو اور اس زمانہ کے جنرل یحییٰ خان۔
جب فیلڈ مارشل ایوب خان کی سرکار کا دھڑن تختہ کیا گیا تو آئین پاکستان کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو صدر بنانا آئینی حکمت عملی تھی۔ مگر مغربی پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے حسب سابق سازش کی اور فوج کو مصروف رکھنے کے لیے صدارت کا عہدہ سونپ دیا۔ پہلے تو آج کل کی طرح انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ پھر آئین کو عزت دینے کے لیے انتخابات کروا دیے گئے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی جماعت نے مکمل کامیابی حاصل کی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت نے خاصی بڑی حیثیت میں جیت حاصل کی۔ مگر متحدہ پاکستان کی اسمبلی کا اجلاس نہ ہوسکا۔ بھارت کی مداخلت سے ملک ٹوٹ گیا۔
تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ منتخب وزیر اعظم تھے اور ان کے خلاف عدم اعتماد ہوا جو جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میں نمایاں کردار سابق سپہ سالار فارغ جنرل باجوہ کا تھا۔ ان کے کردار کے کارن ہماری افواج کو عوام میں تنقید کا سامنا ہے۔ سابق کپتان اور وزیر اعظم عمران خان نے بڑے حوصلے سے عدم اعتماد کو قبول کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ان کے مخالفوں میں کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ان کی جماعت نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اور ملک بھر میں انتخابات نعرہ مستانہ لگایا۔
پھر بھان مستی کنبہ جو عرف عام میں پی ڈی ایم کہلاتا ہے، اس کی سرکار نے نامکمل قومی اسمبلی سے اپنی پسند اور اپنے مفاد کے مطابق قوانین میں ترمیم کی اور ملک میں جاری احتساب کو ختم کر دیا۔ پھر ملک کی معیشت کو داؤ پر لگا دیا گیا۔ ہمارا مہربان ملک امریکہ اور کارِ خیر میں حصہ دار بھی بنا۔ فارغ جنرل باجوہ اس مخلوط سرکار کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہے۔ مگر سیاسی اشرافیہ ان کو مزید برداشت کرنے پر تیار نہ ہوئی اور وہ ملک کی سیاست اور معیشت کو داؤ پر لگا کر رخصت ہوئے۔
فارغ جنرل باجوہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے کپتان عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا۔ انہوں نے بری ہنر مندی سے 2018 ءکے انتخابات میں مداخلت کی اور عمران خان کی جماعت کو محدود کیا اور اپنے لوگوں کو جتوایا جس میں نمایاں نام حاضر اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا ہے۔ جو عرصہ دراز سے عسکری اداروں پر عدم اعتماد کرتے رہے ہیں۔ سابق سپہ سالار پر الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف اور قانون میں بھی مداخلت کی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دلوائی اور ان کے اصل جرائم کو نظر انداز کیا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کسی بھی سپہ سالار سے بن نہ سکی اور نہ ہی وہ اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد کر سکے۔ ان کی جماعت نے اعلیٰ عدلیہ پر حملہ بھی کیا اور ان کی مخالفت سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے بھی رہی۔
تنقید یہ ہے کہ جب جنرل مشرف ملٹری کے ذریعے صدر بنے تو ان کو امریکہ کی اشیر باد حاصل نہ تھی۔ امریکہ میں نواز شریف کا پالن آر تھا اور اس نے سعودی عرب کی مداخلت سے میاں نواز شریف کو جلا وطن کروایا اور پرورش کی۔ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا تھا اور کرتا ہے۔ پاکستان میں عوام اور جمہوریت کے خلاف سب سے بڑا کردار امریکہ کا ہے۔ اب امریکی اپنے ملک میں اپنی افواج سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
2018 ء کے انتخابات کے بعد دنیا بھر میں کوویڈ کی وبا نے بہت ہی ادھم مچایا۔ چین جہاں پر سب سے پہلے اس وبا نے حملہ کیا۔ اس کی معیشت کو برباد کرنے کی کوشش کی اور اس کا الزام امریکہ پر لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں عمران خان نے بڑی حکمت عملی سے اس وبا کا مقابلہ کیا اور ملکی معیشت کو زیادہ ہوا نہ لگنے دی۔ اس زمانہ میں سی پیک منصوبہ عروج پر تھا۔ وبا کی وجہ سے سی پیک منصوبہ بھی متاثر ہوا اور امریکہ بھی یہ چاہتا تھا۔ عمران خان نے چین پر واضح کر دیا کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا۔
فارغ جنرل باجوہ نے وبا کے دنوں میں ایک متبادل سرکار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا اور سابق وزیر اعظم کو باور کروایا کہ وہ ان کی مدد کر رہا ہے۔ اور سابق وزیر اعظم باجوہ کے جھانسے میں آ گیا اور پھر چند دنوں کے بعد ہی ان کا نشانہ بھی بن گیا۔ فارغ جنرل باجوہ نے اقدامات کی وجہ سے عسکری اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ دوسری طرف ہماری خود ساختہ حزب مخالف ملک سے فرار رہی اور اسمبلی کو یکسوئی سے کام کرنے کا موقع بھی نہ دیا۔ اس میں بڑا کردار سابق صدر آصف علی زرداری اور چھوٹے وزیر اعظم شہباز شریف کا رہا اور آج بھی یہ لوگ ہی انتخابات سے گھبرا رہے ہیں۔
آئین پاکستان کے پچاس سال مکمل ہونے پر سیاست کی بلی جمہوریت کے تھیلے سے باہر آ چکی ہے۔ پی ڈی ایم کی مخلوط سرکار انتخابات سے فرار چاہتی ہے اور اس آئین میں ان کو اپنی شکست نظر آ رہی ہے۔ پہلے پہل تو انہوں نے الیکشن کمیشن کو استعمال کیا دکھاوے کے چند انتخابات بھی کروائے۔ مگر عوام ان سے متنفر ہو چکے ہیں۔ پھر میدان میں بلاول بھٹو اور دھی رانی مریم نواز صفدر کو اتارا گیا وہ بھی بس نمائشی سیاست کرتے رہے۔ پاکستان کی بقا صرف اور صرف اس وقت انتخابات میں ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں جو ناٹک کھیلا جا رہا ہے۔ وہ عوام دوست نہیں ہے۔ اس کے لیے عرض ہے :
ناکامیوں کو فتح و ظفر کہہ دیا گیا
نادانیوں کو علم و ہنر کہہ دیا گیا
درباریوں سے جھوٹ کا بازار سج گیا
اور دن کو رات، شب کو سحر کہہ دیا
ہماری معیشت بحالی کی تان آئی ایم ایف پر ٹوٹتی ہے۔ ہم اس کے بغیر بھی زندہ ہیں اگر ہماری قسمت نہ خراب ہو تو علیحدہ بات ہے ورنہ ملک بدلتا جا رہا ہے۔ بس اہم قومی اداروں سے درخواست ہے :
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے


