ہماری پسماندگی اور غربت کا سبب


ہم مسلمانوں اور خاص طور پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ٔ یہ ہے کے اپنی پسماندگی اور غربت کا سبب مغرب کو ٹھہرانا ایک فیشن ہو گیا ہے۔ حالانکہ غربت اور پسماندگی کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

سب سے پہلے ہم ماضی قریب کا جائزہ لیتے ہیں گو کہ انگریز ایک استبدادی قوت کے طور پر برصغیر میں وارد ہوا تھا لیکن اس کی دو سو سال کی حکمرانی نے وہ نقش ثبت کیے ہیں جو ہم مسلمان ایک ہزار کی حکمرانی میں نہ کرسکے اگر انگریز نے لوٹ مار کی ہے ( ہر فاتح محکوم قوم کا استحصال کرتی ہے چاہے ترک مسلمان ہوں یا گورا انگریز ) تو دوسری طرف انہوں نے بہت کچھ دیا بھی ہے جیسے ہسپتال، ریل، یونیورسٹی، انتظامیہ، مرکزی بینک، نہری نظام، ڈیم، پوسٹل سروس، بلدیاتی نظام وغیرہ وغیرہ۔

من حیث القوم گورا ٹیکنالوجی میں تو آگے ہے ہی لیکن مجموعی اخلاقیات میں بھی وہ ہم سے بہت بہتر ہیں رشوت سے لے کر جعلی ادویات مغرب میں عنقا ہیں لیکن بقول عام پاکستانی کے اس میں بھی کوئی مغربی سازش ہے کے ہمارے ہاں دوا بھی اصلی نہیں ملتی اور دودھ بھی۔

دوسری طرف ہم پاکستانیوں کو اس بات کا کماحقہ ادراک نہیں ہے کے مذہبی جنونیت کے معا شرے پر دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بات تاریخ سے ثابت شدہ ہے کے تمام مذہبی معا شرے جنونیت اور تنزلی کا شکار ہوتے ہیں۔ آج سے صرف چار سو سال پہلے مغربی معاشرہ اسی طرح کی جنونیت کا شکار تھا جہاں عورتوں کو جادوگری کے الزام میں زندہ جلایا جاتا تھا۔ یروشلم آزاد کرانے کہ نام پر فرانس اور پولینڈ کے لاکھوں کسانوں کو میں مروا دیا جاتا ہے۔ یورپی اقوام جلد ہی اپنے فلاسفر جیسے گلیلو، فرانسس برنو اور جوناس کیپلر سے متاثر ہو ہماری اس مذہبی جنونیت سے نکل گئے۔ ہم مسلمانوں کو شاید اگلے چار سو سال لگ جائیں اس جنونیت سے نکلنے میں۔

یاد رکھیں ترقی صرف ان ہی اقوام کو ملتی ہے جو اخلاقی طور پر بہتر، محنت کی عظمت کے قائل، علم و ہنر سے مالامال اور مذہبی جنونیت سے دور ہوتی ہیں نہ کے وہ اقوام جو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا کر خود کو بری الزمہ قرار دیتی ہیں۔

آخری بات جو ہم مسلمانوں کو سمجھ لینی چاہیے کے گوری اقوام اپنے لبرل نظریات کی وجہ سے ہی انسانیت کی خدمت کرتی ہیں ورنہ برلن اور میو نخ کے مقابلے میں شامی مہاجرین کے لیے مکہ اور مشہد بہت قریب تھے۔

Facebook Comments HS