گونجتی ہوئی سریلی آواز اور پھر خاموشی

بہرحال میں کریم چاچا کو سلام کرتے ہوئے اپنے دفتر کی طرف نکل آیا۔ میرے ذہن میں ایک سوال اٹھا جو سارے راستے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتا رہا کہ آخر کریم چاچا کو کیا ہوا ہو گا؟
میں یہ ماجرا سوچتا ہوا دفتر پہنچ گیا۔ 21 رمضان المبارک کا دن تھا اور حضرت علی رض کی شہادت کا بھی دن تھا۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا۔ یہی سوچ رہا تھا کہ عید بھی سر پر آ پہنچی ہے۔ جیسے ہی عید کی بات میرے ذہن میں آئی تو میں واپس چاچا کریم کے بارے سوچنا شروع ہو گیا۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید کریم چاچا عید کی تیاریوں کے لئے پریشان ہوں گے۔ صبح گھر سے نکلتے وقت اپنے بچوں کی خواہشات کو سن کر انہیں پورا کرنے کی فکر میں چپ چاپ ہوں گے۔
ظاہر ہے اس مہنگائی کے دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو گئی ہو تو وہاں 500 سے 800 تک یومیہ کی بنیاد پر دیہاڑی کمانے والے مزدور کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ عید کرنا ناممکن سا ہو گیا ہے۔ دن بہ دن بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب و سفید پوش افراد کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔ لوگ دو وقت کی روٹی کھائیں یا ہزاروں میں بننے والا ایک سوٹ اور جوتے اپنے بچوں کو فراہم کریں؟ آج کل یومیہ بنیاد پر اجرت کرنے والے مزدور کے لئے اس سے بڑی پریشانی کیا ہوگی۔ عید کے موقع پر بیٹے الگ سے فرمائشیں کرتے ہیں اور بیٹیاں الگ سے اپنے چہروں پر خوبصورت سی مسکراہٹیں لاتے ہوئے اپنی خواہشات کا اظہار کرتی ہیں۔ لیکن کریم چاچا جیسے کئی مزدور پیشہ افراد کے لئے آج کے دور میں ان خواہشات کو ممکن کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
پھر میرے ذہن کے دوسرے حصے نے مجھے یہ سوچنے پر زور دیا کہ شاید کریم چاچا ملکی حالات کے متعلق پریشان ہوں۔ آئے دن بننے و ٹوٹنے والے بینچ کے متعلق پریشان ہوں یا پھر 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن ہوں گے یا نہیں ہوں گے کے متعلق پریشان ہوں۔ آئین شکنوں کو اس ملک میں پھانسی دی جائے گی یا نہیں، شاید اس پر پریشان ہوں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال اپنے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوں گے یا نہیں۔
کیا جسٹس فائز عیسیٰ سمیت دیگر سینئر ججز کو اپنی بینچ کا حصہ بنائیں گے یا نہیں؟ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو ہٹانے والا عدالتی فیصلہ درست تھا یا نہیں۔ پنجاب میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں لیکن خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں؟ نواز شریف واپس آئے گے یا نہیں؟ آج کل حمزہ شہباز و عثمان بزدار کہیں بھی نہیں دکھائی دے رہے، آخر کیوں؟ علی امین گنڈا پور صاحب کے ساتھ کیا ہو گا؟ کیا پرویز الٰہی دوبارہ کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب بن پائیں گے یا نہیں؟
کیا بلاول بھٹو زرداری بھی کبھی وزیراعظم بن جائیں گے؟ کیا فردوس عاشق اعوان کبھی دوبارہ کسی حکومت میں وزیر بن پائے گی یا نہیں؟ کیا فواد چوہدری کبھی سنجیدہ بن پائیں گے یا نہیں؟ عمران خان نا اہل ہو جائیں گے یا نہیں؟ آصف علی زرداری آئندہ کون سا سیاسی کھیل کھیلیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا آئندہ کیا لائحہ عمل ہو گا؟ مریم نواز کے متنازع بیانات کا سلسلہ جاری رہے گا یا نہیں؟ شاید ان تمام سوالوں کے بارے کریم چاچا سوچ رہے ہوں۔
پھر میری عقل نے مجھے جھنجھوڑا اور میں یہ سوچنے لگا کہ جن کے پاس دو وقت کی روٹی ٹھیک طریقے سے میسر نہ ہو بھلا وہ ان تمام فضولیات کو کیوں سوچیں گے؟ جی بالکل، جو ریاست اپنے لوگوں کو بنیادی سہولیات دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو اس ریاست کا شہری ان تمام باتوں کو فضول ہی کہے گا۔ ان تمام بحث و مباحثے کو بیکار ہی سمجھے گا۔ کون وزیراعظم بنتا ہے کون نہیں، اس کے لئے کوئی معنیٰ نہیں رکھتے۔ بینچ ٹوٹے یا بنے یا کون کون اس میں شامل ہے ان کے لئے محض تماشے کے مانند ہے۔ ریاست کی اعلیٰ عدالت کے ججز جب تقسیم ہوچکے ہوں تو وہاں کا بے بس باسی آخر انصاف کے متعلق کیسے سوچ سکتا ہے یا اپنی رائے قائم کر سکتا ہے۔ جس مملکت کے سیاستدان محض اپنے مفادات کے خاطر ملکی معیشت کی کشتی کو ڈبو چکے ہوں تو وہاں کا رہائشی بھلا کیسے بہتر حالات کی امید کر سکتا ہے۔
بہرحال، آج کے حالات میں چاچا کریم جیسے کئی مزدور پیشہ افراد اپنے بچوں کو مکمل تیاری کے ساتھ عید کروانے کے متعلق پریشان ہیں۔

