پارلیمنٹ کو شبنم بنانے کی کوشش

یہ فروری 1978 کی ایک سرد اور تاریک رات تھی لاہور کے ایک پوش علاقے گلبرگ میں واقع ایک وسیع و عریض مکان کے ارد گرد کچھ افراد بڑے پراسرار انداز میں نقل و حرکت کر رہے تھے، یہ تعداد میں سات تھے اور محاصرہ کے انداز میں مکان کے چاروں طرف کھڑے ہو گئے۔ صبح چار بجے کے قریب ان میں سے 6 افراد مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے مکان میں محو خواب مختلف افراد کو جگا کر ایک جگہ جمع کیا اور سب کو کرسیوں پر رسی سے باندھ دیا۔
رسی سے بندھے یہ افراد اس وقت پاکستان کے مقبول ترین اداکارہ شبنم، ان کے شوہر روبن گھوش جو اس وقت پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ٹاپ کے موسیقار تھے۔ ان دونوں کا اکلوتا بیٹا رونی اور اداکارہ کے سیکرٹری خالد تھے۔ گھر میں داخل ہونے والے ان افراد کے منہ سے شراب کی بو کے بھبکے اٹھ رہے تھے۔ گروہ کا سرغنہ نے اداکارہ شبنم سے مخاطب ہو کر پانچ لاکھ روپے نقد اور طلائی زیورات کا مطالبہ کیا اور مطالبہ نہ پورا ہونے کی صورت میں ان کے شوہر روبن گھوش اور بیٹے رونی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
شبنم نے ذرا پس و پیش کی تو ان ڈاکوؤں نے رسی سے بندھے ہوئے تمام افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ جاتے جاتے ان ڈاکوؤں کے گروہ نے ظلم کی انتہا کردی کہ شوہر روبن گھوش اور بیٹے رونی کے سامنے شبنم کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر ڈالی اس کے بعد یہ گروہ منہ اندھیرے اطمینان سے فرار ہو گیا۔ اس گروہ کے سرغنہ کا نام فاروق بندیال تھا۔
فاروق بندیال نے اس سے پہلے بھی اپنے ان ’‘ ہم خیال ”دوستوں کے ساتھ مل کر مختلف پاکستانی اداکاروں کے ساتھ اجتماعی آبروریزی اور لوٹ مار کی کی کئی وارداتیں کی تھیں لیکن ان فنکاروں نے پولیس میں اس لئے رپٹ درج نہیں کرائی تھی کہ ملزمان بہت با اثر خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ صرف اداکارہ زمرد اور شبنم کا نام مقامی پولیس کے ریکارڈ میں آ گیا۔ شبنم نے تو ہمت دکھا کر باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا دی تھی جبکہ زمرد باقی اداکاروں کی طرح خاموش رہی تھیں۔
لیکن ان دونوں وارداتوں کے کچھ عرصے بعد جب یہ ڈکیت لاہور کے بازار حسن کی مشہور ٹھسے دار طوائف چندا کے کوٹھے پر مجرا دیکھنے پہنچے اور شراب کے نشے میں چور ہو کر، داد عیش دیتے ہوئے انہوں نے ان دونوں اداکاراؤں کے گھر سے لوٹے ہوئے طلائی زیورات چندا پر نچھاور کرنے شروع کر دیے۔ جس طرح پاکستان کے نام نہاد اشرفیہ مختلف حیلے بہانوں سے قومی خزانہ کو لوٹ اللے تللے اڑا دیتی ہے۔ شامت اعمال کہ چندا وہ زیورات فروخت کرنے کے لیے اسی سنار کے پاس گئی جس سے زمرد نے یہ زیورات خصوصی طور پر بنوائے تھے۔
یہ اتفاق کچھ ایسا ہی تھا کہ جس طرح توشہ خانہ سے قیمتی گھڑی فروخت ہونے کے لئے کی اسی کمپنی کے پاس تصدیق کے لیے پہنچ گئی جس نے اسے بنایا تھا۔ قصہ مختصر چندا کی نشان دہی پر فاروق بندیال کو“ ہم خیال ”دوستوں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے فوراً بعد ڈکیتوں کے اس گروہ نے اپنی رہائی کے لیے کوششیں شروع کر دیں لیکن دوسری طرف شبنم کے ساتھ ہونے والی اس واردات پر پاکستان کی فلم انڈسٹری بھی متحد ہو گئی۔
اس وقت کے مشہور اداکار ندیم اور محمد علی نے تو ان دونوں میاں بیوی کا ساتھ خوب نبھایا۔ اس کیس کے سلسلے میں شبنم عدالت میں بھی پیش ہوئی اور عوام کا ایک جم غفیر اس سے اظہار یکجہتی کرنے کے لئے عدالت کے باہر جمع ہو گیا۔ شبنم جب ملزمان کو شناخت کرنے کے لئے عدالت کے کٹہرے میں کھڑی کی گئی تو ان ملزمان کا خیال تھا کہ شبنم ان کے خلاف گواہی نہیں دے سکیں گی۔ مگر شبنم نے نہ صرف اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا یہ واقعہ پوری طرح بیان کر دیا بلکہ تمام ملزمان کو شناخت بھی کر لیا۔
جس کی بنیاد پر تمام ملزمان کو اس وقت کے قانون کے مطابق موت کی سزا کا فیصلہ سنا دیا گیا، لیکن فاروق بندیال کے ماموں فتح خان بندیال وفاقی حکومت میں سیکرٹری کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ فتح خان بندیال نے اپنے بھانجے کو بچانے کے لیے شبنم کے وکیل ایس ایم ظفر کو ہی استعمال کیا اور ان پر اتنا سخت دباؤ ڈالا کہ انہوں نے ایک خط کے ذریعے عدالت سے درخواست کی کہ ملز مان تعلیم یافتہ ہیں اور ان کا تعلق شریف گھرانوں ہے۔
اس لیے انہیں سدھرنے اور جینے کا موقع فراہم کیا جائے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان کے خاندان کے افراد کتنے طاقتور تھے کہ وہ اپنے بچوں کو پھانسی گھاٹ سے واپس لے آئے اور اس کے لیے انہوں نے شبنم کے وکیل ہی کو استعمال کر لیا اور قانونی جواز بھی گھڑ لیا۔ آج فتح خان بند یال کے بیٹے عطا محمد بندیال پاکستان کی منصف اعلی کی کرسی پر براجمان ہیں۔ اللہ خیر کرے!

